Zabaan-e-Yaar-e-Man Turkey
Journey through the heart of Turkey with this captivating exploration of its rich history, vibrant culture, and enduring values. Written by a seasoned traveler and author who has wandered through Turkey’s bustling cities, tranquil villages, and ancient ruins, this book offers an intimate and insightful look into a land where tradition meets modernity.
With every page, you’ll uncover the stories that have shaped Turkey, the customs that define its people, and the timeless beauty that makes it a treasure trove of human civilization.
Reels & Videos
Blogs & Articles

ارطغرل غازی
ارطغرل غازی سلاطین عثمانیہ کا جد امجد برصہ پہنچتے ہی ارطغرل غازی کی یاد آنے لگی اس کا شہر برصہ سے صرف 126 کلو میڑ

دنیا کا سب سے قدیم محبت نامہ
دنیا کا سب سے قدیم محبت نامہWorld’s oldest Love Poem میری کتاب “زبان یار من ترکی “ کا ایک ورق استنبول کے آرکیالوجیکل میوزیم میں

عثمان خان غازی سلطنت عثمانیہ کے بانی
آج کا دن یکم اگست 1326ء عثمان خان غازی سلطنت عثمانیہ کے بانی کا یوم وفات ہے ۔ میری کتاب ” زبان یار من ترکی

رسول اکرم ﷺ کا خط
رسول اکرم ﷺ کا خط ٹوپ کاپی محل کے اندرونی میوزیم میں حضور اکرم ﷺ کی دیگر متبرکات کے ساتھ وہ خط بھی شوکیس میں

قسطنطین کا ستون
قسطنطین کا ستون اور ترکوں کا کزل ایلما (Kizil Elma ) پرانے استنبول میں ہائیہ صوفیہ اور بلو مسجد سے چند کلو میڑ کے فاصلے

برصہ عثمانی ترکوں کا تیسرا دارلخلافہ
برصہ عثمانی ترکوں کا تیسرا دارلخلافہ زیر نظر مضمون میری کتاب ”زبان یار من ترکی “ میں شامل ہے کرشمہ دامن دل میکشد کہ جا

ہندوستان میں برطانوی نوآبادیاتی دور کا ایک واقعہ
برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہندوستان میں، ایک دفعہ ایک برطانوی افسر نے ایک ہندوستانی شہری کو تھپڑ

حضرت مریم کا گھر
حضرت مریم کا گھر یہ مضمون میری کتاب “ زبان یار من ترکی “ کا حصہ ہے رکی کے شہر سلجوق سے سات میل دور

ہزار فن احمد چلیبی
جون ۱۶۳۲ء جمعہ کا دن تھا۔سارا قسطنطنیہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آبنائے فاسفورس کے دونوں کناروں پر جمع تھا۔

زبانِ یار من تُرکی — ایک سفر، ایک تقریظ
پروفیسر فوزیہ سلطانہ صاحبہ بھمبر پوسٹ گریجویٹ کالج میں درس وتدریس کےشعبہ سے وابستہ ہیں دو کتابوں کی مصنفہ ہیں انہوں نے زبان یار من

طبی ماہر ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کی کتاب ’’زبان یار من ترکی‘‘ کی تقریب رونمائی
سرگودھا: (ویب ڈیسک) مایہ ناز طبی ماہر ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کی کتاب ’’زبان یار من ترکی‘‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ تقریب سرگودھا یونیورسٹی کے

سرخ داڑھی والا۔ باربروسہ
سرخ داڑھی والا ۔ باربروسہ زیر نظر مضمون میری آنے والی کتاب “زبان یار من ترکی “ میں شامل ہے۔ ترکی جانے سے پہلے جب
Recent Columns

جنگ ماریٹسا(مرچا)
آج کا دن جنگ ماریٹسا(مرچا) Battle of Maritsa 26 ستمبر 1371ء کو لڑی جانے والی وہ تاریخ ساز جنگ ہے جس میں صرف آٹھ سو

جنگ نکو پولس
آج کادن 25 ستمبر جنگ نکو پولس ۔ Crusade of Nicopolis عثمانی ترکوں کی عظیم ترین فتح “یہ مضمون میری کتاب “زبان یار من ترکی

سلطان سلیم اول کا یوم وفات
آج کادن – 22 ستمبر سلطان سلیم اول کا یوم وفات یہ مضمون میری کتاب “ زبان یار من ترکی “کاحصہ ہے ۔ آج اس

عدنان میندریس کایوم شہادت
آج کادن 17 ستمبر عدنان میندریس کایوم شہادت اس دن کے حوالے سے لکھا مضمون جو میری کتاب زبان یار من ترکی میں شامل ہے
Book reviews
میں نے اس کتاب کو پڑھ کر ترکی کی تاریخ اور ثقافت کوئی نظر سے دیکھا۔ ڈاکٹر بھٹہ کا بیانیہ انتہائی دلچسپ اور معلوماتی ہے۔ ان کی تحریر ترکی کے لوگوں کی روز مرہ زندگی ، ان کے تہواروں اور رسومات کی عمیق تفہیم فراہم کرتی ہے جو اس کتاب کو زندگی کے حقیقی رنگوں سے بھر دیتی ہے۔
عطاءالحق قاسمی
میں ڈاکٹر تصور بھٹہ کے اس سفر نامے کو ایک قاری کی حیثیت سے دیکھوں تو ان کی تحریر میں ہر وہ چیز موجود ہے جو پڑھنے والے کو نہ صرف متوجہ کرتی ہے بلکہ اسیر کرتی ہے۔ اس تحریر میں ثقافتی رنگا رنگی اور ترکی کے روایتی پہلوؤں کا بیان بے مثال ہے۔ یہ کتاب ترکی کے گہرے ثقافتی ورثے میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے توشئہ خاص ہے جس میں ترکی کی تاریخ، ثقافت اور فنونِ لطیفہ کی خوبصورتی کو شاندار طریقے سے اجاگر کیا ہے۔
خالد مسعود
اس سفر نامے میں ترکی کی جغرافیائی خوبصورتی کا جو خا کہ کھینچا گیا ہے، وہ قاری کو گھر بیٹھے ترکی کی سیر کراتا ہے۔ ڈاکٹر تصور بھٹہ کا قلم اس قدر مؤثر ہے کہ قاری خود کو ترکی کی گلیوں میں گھومتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ترکی کے حسین مناظر، باغات اور تاریخی مقامات کی سحر انگیزی کے حوالے سے ان کے قلم کی جولانی دیکھنے کے قابل ہے۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ قاری اس سوچ میں ڈوب جاتا ہے کہ ترکی کا حال تو بدلتا دکھائی دیتا ہے، خدا جانے ہمارا حال کب بدلے گا۔
سہیل وڑائچ
ڈاکٹر اسلم بھٹہ آسٹریلیا میں رہتے ہیں لیکن دل بن دیکھے ہی ترکی کو دے بیٹھے تھے، چار سال پہلے وہاں پہنچے اور اپنے محبوب سے براہِ راست تعارف حاصل کیا۔ تین ہفتے کا یہ سفر ان کی زندگی کے یادگارلمحات میں تبدیل ہو گیا۔ ترکی اور ترکوں کو انھوں نے بہت قریب سے دیکھا ، تاریخی مقامات کی سیر کی، تاریخ کی کتابوں کو پھر ولا اور واپس آ کر قلم اٹھایا تو اپنے قارئین کو بھی اپنا ہم سفر بنالیا۔ اُن کے مضامین منظر عام پر آئے تو دھوم مچ گئی ۔ اگر چہ انھوں نے مسلسل سفر نامہ نہیں لکھا، تاہم اُن کے مضامین کتاب کی تسبیح میں پروئے گئے تو دانوں کی طرح مجڑ گئے، الگ الگ ہو کر بھی وہ ایک تھے اور ترکی کی تاریخ و ثقافت پر ایک دستاویز کی شکل اختیار کر گئے ۔ مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کہ ترکی سے محبت کرنے والے، دنیا بھر میں جن کی کمی نہیں ہے اور اہلِ پاکستان تو سب کے سب ترکی کے دیوانے ہیں، اسے
ہاتھوں ہاتھ لیں گے اور شوق کی آنکھوں سے اس کا مطالعہ نسل در نسل جاری رہے گا۔
مجیب الرحمن شامی
ترکی ایک ایسا دیار ہے جس سے مسلمانانِ برصغیر پاک و ہند کی محبتوں کی ایک تاریخ ہے۔ ان محبتوں کا صلہ بھی ترک عوام نے یہاں کے مسلمانوں سے مسلسل بےپناہ محبّت اور چاہت کی صورت دیا ہے۔ خلافتِ عثمانیہ کا امین یہ ترکی گذشتہ ایک سو سال سے انقلابات کی زد میں رہا ہے اور یہاں کئی نظریاتی موسم بدلے مگر ترک عوام کی پاکستان سے محبتوں کا موسم کبھی تبدیل نہ ہوا۔ ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا ترکی کا سفرنامہ ایک ایسی کتاب ہے جو دراصل ان کے باطن میں چھپی اس محبّت کا عملی اظہار ہے۔ انھوں نے جس خوبصورتی سے اس خطے کی ثقافت، تہذیب اور روایت کو اپنے سفرنامے کے جادو میں پرویا ہے اور جس شاندار طریقے سے بیان کیا ہے یہ ان کا کمال ہے۔ یہ سفرنامہ ایک حسین ملک کی حسین روئیداد ہے۔
اوریا مقبول جان
ڈاکٹر تصور بھٹہ کا یہ سفرنامہ ایک شاندار ادبی کاوش ہے۔ ترکی کی تاریخ، ثقافت اور اقدار۔ یہ سب کچھ کمال دلکشی اور مہارت سے پیش کیا گیا ہے۔ چونکا دینے والے انکشافات، تاریخ کے اسرار اور مقامی کہانیاں قاری کے دل کو موہ لیتی ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن پسِ تحریر درد مندی نے اس تحریر کو یادگار بنا دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد امجد ثاقب
ڈاکٹر بھٹہ کے سفرنامے نے ترکی کی سیر کو ایک نئے دور کی عینک سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ حالیہ برسوں میں، پاکستانی ناظرین کی ترکی کے ٹی وی ڈراموں میں دلچسپی نے دونوں ممالک کے مابین تاریخی اور ثقافتی روابط کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ کی یہ کتاب اس تاریخی رشتے کی گہرائی اور پاکستانی عوام کی ترکی کے تئیں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو بخوبی بیان کرتی ہے۔
قاسم علی شاہ
ڈاکٹر بھٹہ کی کتاب نے ترکی کی رنگا رنگ تاریخ کو ایک نئے اور اچھوتے زاویے سے پیش کیا ہے۔ ہر باب، ایک نئی دنیا سے روشناس کراتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ماضی کے پردے کو اٹھاتی ہے بلکہ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے جال کو بھی سلجھاتی ہے۔ ان کے قلم سے، سیاسی انقلابات، سماجی تغیرات سے لے کر ترک تہذیب کا ہر پہلو زندہ ہو اٹھتا ہے۔
عارف انیس
اُردو زبان میں ایسی روانی اور فصاحت سے لکھا گیا سفرنامہ کم ہی نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر بھٹہ کی زبان کی گرفت قابلِ تعریف ہے۔ ان کی تحریر میں استعاروں کا استعمال اور لفظی جادوگری قاری کو ایک جاندار تجربہ فراہم کرتے ہیں۔
توفیق بٹ
ترکیہ میرا پسندیدہ ملک ہے۔ ترکیہ یا ترکی کے اہم شہر استنبول دو تین مرتبہ گیا ہوں، ہر بار اس حسین شہر نے مسخر کر لیا۔ وہاں گزرے چند دن عمر بھر نہیں بھلائے جاتے۔ ترکی کے سفرنامے بھی مجھے اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفرنامہ ’’زبانِ یارِ من ترکی‘‘ بھی ایسا ہی ایک دلچسپ اور منفرد سفرنامہ ہے۔
ڈاکٹر تصور بھٹہ آسٹریلیا میں مقیم ہیں۔ ترکی سے ان کی محبت، وابستگی بڑھانے میں مشہور ترک ڈرامے ’’ارطغرل‘‘ کا بڑا اہم کردار ہے۔ ارطغرل کے والد سلیمان شاہ، ان کے ساتھیوں اور اولاد خاص کر عثمان کے ساتھ ان کی دلچسپی اور محبت پیدا ہوئی۔ انھوں نے وہ تمام جگہیں دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ یہ سفرنامہ ان کے اسی سفر کی دلچسپ روداد ہے۔
ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کے اس سفرنامہ کی خوبی سادہ مگر رواں زبان ہے۔ روایتی سفرنامہ نگاروں سے ہٹ کر ڈاکٹر صاحب نے ایک عام مگر پُراشتیاق مسافر کی طرح ان تمام اہم جگہوں اور چیزوں کو کھوجنے، اپنی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کی۔ جو دیکھا اسے کسی مبالغے یا غیر ضروری رومانویت کے بغیر خوبصورتی سے بیان کر دیا۔ ابواب کی فہرست دلچسپ ہے۔ پہلا باب سلطان احمد چوک اور دوسرا کوسم سلطان پر ہے۔ ترک ڈراموں کو دیکھنے والا کون ہے جو کوسم سلطان کو نہیں جانتا؟ اگلے ابواب میں استنبول کی مختلف پرتیں اور تہیں کُھل کر سامنے آتی ہیں۔
ڈاکٹر تصور بھٹہ نے ہر اس اہم مقام کو دیکھنے کی کوشش کی جو ترک ڈراموں اور عثمانیہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے شخص کے لیے قابلِ ذکر ہو سکتا ہے۔ وہ بڑی دلکش نثر میں اس جگہ کا تعارف کراتے اور ہلکے پھلکے انداز میں تاریخی پس منظر بیان کر دیتے ہیں۔ قاری تحریر پڑھتے ہوئے ساتھ ساتھ سفر کرتا اور ان تمام مناظر کو گویا اپنی نظر سے دیکھتا جاتا ہے۔
استنبول کے علاوہ کیپاڈوکیہ، قونیہ، اناطولیہ اور ارطغرل کے آبائی علاقہ برصہ کی سفری روداد بھی شامل ہے۔ یہ اُردو میں چھپنے والا ترکیہ کا ایک اہم سفرنامہ ہے۔ مجھے پڑھتے ہوئے بڑا لطف آیا۔ امید ہے آپ بھی محظوظ ہوں گے۔
عامر خاکوانی
زبانِ یارِ من تُرکی-از۔الیاس چودھری
زبانِ یارِ من ترکی
ومن ترکی نمی دانم
حضرت امیر خُسرو کی نسبت ہم خوش نصیب ٹھہرے کہ ہمارے یار کی زبان ترکی نہ ہونے کے باوجود اس نے تُرکی کا تذکرہ اس انداز سے کیا کہ ایک ایک لفظ پھولوں کو چھوتی ہلکی ہلکی برسات کے قطروں کی طرح دل میں اترتا گۓ۔
برادرم ڈاکٹر تصور اسلم بُھٹہ کی کتاب”ربانِ یارِ من ترکی” کے کچھ اقتباسات تو میں ان کی طرف سے فیس بُک پر تحریر کرتے وقت پڑھ چکا تھا جوکہ بظاہر ایک سفرِ ترکی کی روداد تھی مگر جب کتاب ملی اور اسے پڑھا تو عقدہ کھلا کہ ان کی یہ کاوش جہاں ایک سفر نامہ کی روداد ہے وہیں ترکی کی تاریخ ،ترکوں کے رسم ورواج،ثقافت اور ان کے شاندار قابلِ فخر ماضی کے بارے ایک مستند حوالوں سے مزیّن اور ایک منجھے ہوۓ تاریخ داں کی طرف سے ایک ایسی تصنیف ہے جسے آج اور مستقبل میں تاریخ کا ایک معتبر حوالہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس کتاب میں جہاں ڈاکٹر صاحب نے ترکی کےمختلف شہروں اور تاریخی مقامات کا تذکرہ کیا ہے وہیں اہلِ ترکی کی زندگی کی روزمرہ کی عادات و اطوار اور ان کی ثقافت و رہن سہن کا بھی بھر پور احاطہ اس انداز سے کیا ہے کہ قاری خود کو قدم قدم پہ ان کے ساتھ وہ سب کچھ دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ان کا اسلوب اتنا پُر اثر اور دلکش ہے کہ کتاب پڑھتے ہوۓ مجھے یوں لگا کہ میں بھی ان کے ساتھ ساتھ ہوں ،میں بھی ان کے ساتھ ہائیہ صوفیہ میں داخل ہورہا ہوں ،ان کے ساتھ استنبول کی سڑکوں پر چہل قدمی کررہا ہوں ۔۔۔پڑھتے پڑھتے ایسا بھی لگتا کہ وہ جیسے ابھی ترکی کے سفر سے لوٹے ہوں اور ساؤتھ افریقہ کے اُمٹاٹا ہسپتال کے ڈاکٹرز ہاسٹل میں ہم سب دوست بیٹھے ہیں اور وہ یہ سب قصہ سنارہے ہوں۔
پھر جس طرح انہوں نےخلافتِ عثمانیہ کے ابتدائی دنوں سے آخری لمحات تک کے عروج و زوال کی پوری تاریخ اور واقعات کو قلمبند کیا ہے یہ انہی کا خاصہ ہے اور ان کے گہرے مطالعہ کا مظہر ہے ،تاریخی حوالے سے ڈاکٹر صاحب کا مطالعہ حیران کُن حد تک گہرا اور وسیع ہے۔کتاب پڑھتے ہوۓ بہت سارے لمحات ایسے آۓ کہ میں پڑھتے پڑھتے رُک جاتا ،دیر تک دم بخود اور پُر مسرت سی سو چوں میں گُم رہتا کہ وہ کیا لوگ تھے اتنا بلند حوصلہ ،جذبہ اور جرأت کہ خانہ بدوشی سے کی سو سال کی فرمانروائی ایسی کہ تین برِ اعظموں پر اذانیں گونجتی رہیں اور اسلام کے نام لیوا سر بلند رہے۔
“جاوید چودھری صاحب سے تیس سال پرانا یارانہ ہے ساؤتھ افریقہ کے شہر امٹاٹا میں ان کے ساتھ گزارے سنہرے دنوں کی یاد آج بھی دل کو مہکاتی ہے وہ آجکل امریکہ میں مقیم ہیں پچھلے دنوں جناب مشہور شاعر اور کالم نگار خالد مسعود صاحب آسٹریلیا آئے تو ان کے ہاتھ چودھری صاحب کو “زبان یار من ترکی “ کا تحفہ امریکہ بھجوایاآج انہوں نے محبت کے یہ پھول ارسال کئے ہیں”
الیاس چودھری
تبصرہ : پروفیسر فوزیہ سلطانہ
مصنف : ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ
تعارف :ڈاکٹر صاحب سرگودھا میں پیدا ہوئے ۔
ایم بی بی ایس (MBBS) پنجاب میڈیکل کالج فیصل آباد سے کیا۔
کالج کی سٹوڈنس یونین کے جنرل سیکریٹری رہے۔
1. یونیورسٹی آف زیمبیا لوساکا سے سرجری میں ماسٹرز (MMed) کیا اور بعد ازاں رائل کالج آف سرجنز ایڈنبرا سے ایف آرسی ایس (FRCS) کیا۔ گزشتہ کئی سال سے آسٹریلیا کے شہر برسبین میں مقیم ہیں۔ پائلٹ بننے کا شوق تھا۔ جس کی تکمیل کے لیے آسٹریلیا میں ہوا بازی کی باقاعدہ تربیت لی۔ اور پی پی ایل (PPL) پرائیویٹ پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا۔ اس کے علاوہ مونیش یونیورسٹی میلبرن سے Aviation Medicine میں ڈپلوما بھی حاصل کیا۔
مصنف ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کے سفر نامے کا اسلوب سادہ، واقعاتی، اور معلومات سے بھرپور ہے۔سیاح کے فطری تجسس کی وجہ سفر کے تانے بانے خود بخود بنتے گئے ،اور مصنف کی شگفتگی، بے ساختگی، روانی اور دستانوی طرز نے قاری کی کیفیات میں جوش کا ذائقہ متعارف کروایا۔
مصنف نے ترکی کے منظر یوں پیش کیا کہ قاری تحریر و تصور کی دلکشی میں مہبوت ہو کر رہ جاتا ہے۔
مصنف اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں اقتدار کی جنگ میں جو ماں اپنے بیٹے کو سلطان بنانے کامیاب ہو جاتی ہے، وہ باقی تمام امیدواروں کو ان کی ماؤں سمیت قتل کروا دیتی ہے۔
سلطان کا حرم بلند نظر اور مہم جو خواتین سے بھرا ہوا تھا۔
استنبول میں نیلی مسجد، ھائیہ صوفیہ،آبنائے باسفورس، توپ کاپی میوزیم،کے ذکر کے ساتھ استنبول کے شمال مغرب میں حضرت ایوب انصاری دفن ہیں۔۔۔۔۔اس قبرستان کی ہر دوسری قبر کے کتبے پر لکھا ہے
اے اللہ حضرت ایوب انصاری کی رفاقت کے صدقے اس کی مغفرت فرما۔
ایک جگہ مصنف نے ذکر کیا کہ طیب اردگان کی پارٹی مسلسل چوتھا الیکشن جیت چکی تھی، اسلام پسندوں کے ساتھ 570پانچ سو سترواں جشن منا رہے تھے۔ طیب اردگان ہمیشہ کی طرح سب سے پہلے عدنان میندریس کی قبر پر حاضر ہو ئے ،اور اخبار نویسوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ
جمہوریت کی شمع جو میندریس اور اس کے ساتھیوں نے روشن کی تھی۔وہ کئی ہاتھوں سے ہوتی ہوئی آج ہماری پارٹی کے پاس آگئی ہے۔اس دن میں سات 7 سال کا تھا جب عدنان کو پھانسی دی گئی، وہ شام کبھی نہیں بھولا کیونکہ اس دن میں نے اپنے باپ کو پہلی مرتبہ روتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں عدنان میندریس کی جلائی شمع کا تسلسل ہوں۔جس نے ترکی میں جمہوریت کو زندہ رکھا۔
مولانا جلال الدین رومی کا بہت خوبصورتی سے ذکر کیا
چہ گویم،چہ دانم، کہ این داستان
فزوں از حد وامکان
میں کیا کہوں؟ میں کیا جانوں؟ کہ یہ داستان میری حد و امکان سے زیادہ ہے۔
پروفیسر فرینکلن ڈی لیوس نے 2000 میں اپنی مشہور کتاب لکھی جس کا نام ہے ۔
Rumi past and present east and west.
The life teaching and poetry of Jalal-din Rumi
اس کتاب نے رومی کو مغرب میں زیادہ پڑھے جانے والا شاعر بنا دیا۔
اقبال کی رومی سے عقیدت اپنی جگہ، دونوں کے کلام میں ہم آہنگی اور مماثلت، ان کے رشتے میں زمان و مکان کی دوریاں ان کی قبروں کے فاصلوں کو ختم کر دی،وہ شہر خموشاں میں ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔
“شوق آوارگی ” سفر نامہ میں عطاء الحق قاسمی نے مزاح نگاری کی ہے بلکہ قلم کی شوخی بے قرار ہو گی ۔
“نکلے تری تلاش میں ” سفر نامہ میں مستنصر حسین تارڑ نے خود کو ہیرو بنا کر پیش کیا اور افسانوی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔
جبکہ کہ مصنف ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ کا سفر نامہ ” زبان یار من ترکی ” ایک داستانوی طرز، جو اپنے تاثرات میں ۔۔حالات اور کوائف جو فنی طور پر سفر نامے کا بیانیہ ہے۔
پروفیسر فوزیہ سلطانہ