موریستان بیماریسان اور نائٹس ہاسپٹلرز

‏‎”یہ تحریر میری آنے والی کتاب “ اہل وفا کی بستی “ میں شامل ہے جو فلسطین کا سفر نامہ ہے “

ہم چرچ آف ہولی سپیلکر سے نکلے تو سورج اپنے دن بھر کے سفر کی آدھی سے زیادہ مسافت طے کر چکا تھا ۔ دھوپ کی شدت میں کمی آچلی تھی لیکن اس کی حدت ابھی تک موجود تھی ۔ چرچ کے صحن میں آکر میں نے کھلے نیلے آسمان کی طرف دیکھا تو ایک عجیب سی فرحت کا احساس ہوا ۔ پچھلے دو گھنٹے سنگی دیواروں ، موم بتیوں ، مجسموں اور قسماقسم کی رنگ برنگی صلیبوں کے درمیان ایسے گزرے تھے کہ ابھی تک نظروں کے سامنے وہی رنگ چھائے تھے ۔ ٹھنڈے اور دھوپ کی شدت سے پاک چرچ کی چھت کے نیچے گو کہ موسم گرما کی دوپہر محسوس نہیں ہوئی تھی لیکن پورے چرچ کی بند دیواروں اور اونچی نیچی چھت تلے بنے چھوٹے چھوٹے گرجا گھروں میں ایک عجیب سی گھٹن کا احساس ہوتا تھا جسے زائرین کی کثرت اور گہما گہمی نے اور بھی بڑھا دیا تھا ۔لیکن اس سب کے باوجود تاریخ اور حضرت عیسٰی کی مظلومیت اور ان کی ماں مریم کا دکھ کچھ اس طرح سر چڑھ کر بولتا رہا ہے وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہوا ۔

ہم چرچ میں آئے تو اپنے گروپ کے ساتھ تھے لیکن چرچ کی بھول بھلیوں میں سب کچھ اس طرح سے بچھڑے کہ کون کہاں گیا۔ کب گیا ۔ کچھ اندازہ نہیں رہا تھا ۔

باہر آکر میں نے تازہ ہوا میں دو تین گہری گہری سانسیں لیں تو شدید پیاس کا احساس ہوا ۔ حلق خشک تھا ۔ صحن میں چلنے والی ٹھنڈی تیز ہوا میں پسینے سے تر جسم سوکھنے لگا ۔ اتنے میں سامنے چبوترے پر بنی مسجد عمر کے بلند مینار سے عصر کی اذان بلند ہوئی تو میری آنکھوں کے سامنے چودہ سو سال پرانا وہ منظر گھوم گیا جب 637 ء کی ایک ایسی ہی شام یہاں اسی صحن میں اسی جگہ امیرالمومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صحابہ اور یروشلم کے بڑے پادری صفرونیئس (Sophronius) کے ساتھ کھڑے تھے تو عصر کا وقت آگیا۔ آپ نے نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تو پادری صفرونیئس نے حضرت عمر کو کنیسیة القیامۃ (Church of the Holy Sepulchre) کے اندر نماز پڑھنے کی دعوت دی، جو عیسائیوں کے لیے سب سے مقدس ترین گرجا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہاں نماز پڑھنے سے انکار کر تے ہوئے فرمایا ۔کہ

” اگر میں آج یہاں نماز پڑھوں گا، تو آئندہ مسلمان مسجد بنانے کے لیے اس گرجا گھر کو گرانا شروع کر دیں گے، تاکہ میری نماز کی برکت حاصل کریں۔ اس طرح یہ عمل عیسائیوں کے مقدس مقام کو نقصان پہنچانے کا سبب بنے گا۔”

یہ کہہ کر آپ نے چرچ کی بجائے گرجا گھر کے سامنے اس اونچی چٹان پر کھلی جگہ پر نماز ادا کی۔ جہاں آج یہ مسجد عمر کھڑی تھی جس کے مینار سے آنے والی اذان کی خوبصورت آواز آج ہمارے کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔

یہ مشہور اور انتہائی مستند واقعہ البلازی (فتوح البلدان ) اور ابن تاثیر (البدایہ والنہایہ ) سمیت قرون اولیٰ کے سارے ہی معتبر مورخین نے بڑی تفصیل سے درج کیا ہے۔

اکثر معتبر مغربی مؤرخین اور عیسائی تاریخ دانوں نے بھی اس واقعے کو تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے جو اس واقعے کی تاریخی سچائی کو مزید مضبوط کرتی ہے۔

آرکولف (Arculf) ایک فرانسیسی بشپ تھا جس نے نے 670ء کے لگ بھگ بیت المقدس کا دورہ کیا۔اور اپنی یاد داشتوں کو سفر نامے کی صورت میں قلم بند کیا اس کے سفرنامے کو بعد میں ایڈومن (Adomnán) نامی راہب نے “De Locis Sanctis” (مقدس مقامات کے بارے میں) کے عنوان سے لکھا۔ جس میں آرکولف لکھتا ہے کہ

“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں مسلمانوں نے یروشلم میں ایک سادہ سی لکڑی کی عبادت گاہ تعمیر کی تھی جو یہودیوں کے ہیکل کے ملبے اور چرچ آف ہولی سپیلکر کے سامنے تھی۔ “

یہ دراصل مسجد عمر کی ابتدائی شکل کا بیان ہے، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ حضرت عمر نے گرجا گھر کے بجائے ایک الگ جگہ پر عبادت کی بنیاد رکھی۔

بازنطینی مؤرخ اور راہب تھیوفانیس (Theophanes the Confessor) نے نویں صدی میں لکھی اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ

” عمر ابن الخطاب یروشلم آیا اور صفرونیئس (Sophronius) کے ساتھ معاہدہ کیا۔ اور چرچ کا دورہ کیا ۔ “

اگرچہ وہ نماز کے خاص واقعے کا ذکر نہیں کرتا لیکن وہ حضرت عمر کی آمد اور معاہدے کی تصدیق کرتا ہے ۔ جو اس سارے سلسلے کا اہم ترین حصہ ہے۔

بہت سے جدید مغربی مؤرخین جنہوں نے اسلامی تاریخ پر کام کیا ہے، انہوں نے بھی اس واقعے کو بیان کیا ہے۔

کیرن آرمسٹرانگ (Karen Armstrong) اپنی مشہور کتاب “A History of God” میں اس واقعے کو اسلامی رواداری کی ایک شاندار مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔

برنارڈ لوئس (Bernard Lewis) جو ایک مشہور مستشرق اور مورخ ہے اس نے بھی اپنی کتب میں اس واقعے کا تذکرہ کیا ہے۔

مجھے اپنی خوش قسمتی پر رشک آنے لگا کہ اللہ نے ہمیں اس تاریخی جگہ پر نماز پڑھنے کی سعادت بخشی تھی جو حضرت عمر کی فراست اور حکمت اور اسلام کی مذہبی رواداری کا زندہ ثبوت بن کر آج تک موجود ہے ۔

ہم اپنی قسمت پر ناز کرتے چھت والی سینٹ ہیلنا سٹریٹ میں داخل ہو گئے جس میں کوئی پچاس میٹر چلنے کے بعد دائیں جانب سیڑھیاں اوپر مسجد عمر کی طرف جا رہی تھیں ۔ مسجد میں خاصی گہماگہمی تھی مقامی لوگ کم ہی تھے اکثریت ہم جیسے مسلمان سیاحوں کی تھی ۔ نماز پڑھنے کے بعد ہم ایکبار پھر ہم سیڑھیاں اتر کر سینٹ ہیلنا سٹریٹ میں سے ہوتے ہوئے چرچ کے صحن میں پہنچ گئے ۔

صحن میں زائرین کی رونق بڑھ گئی تھی سورج ڈھل چکا۔ شام کی آمد آمد تھی ۔

Recent Blog Items