قصہ نبی موسیٰ کے میلے کا قسط نمبر ۲

قصہ نبی موسیٰ کے میلے کا

قسط نمبر ۲

مقامی عرب مسلمان کئی صدیوں سے یہ یقین کرتے چلے آئے ہیں کہ حضرت موسیٰ نبی موسیٰ میں دفن ہیں ۔

یہ روائیت کب ، کہاں اور کیسے شروع ہوئی اس کے بارے تاریخ تو خاموش ہے لیکن مقامی عربوں کا کہنا ہے کہ ۱۱۸۷ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے یہ علاقہ فتح کیا تو اسے ایک خواب میں بتایا گیا کہ اس مقام پر حضرت موسیٰ دفن ہیں لہٰذا اس نے یہاں ان کا مقبرہ تعمیر کروانے کا حکم دیا ۔ جس کے بعد یہاں ایک سالانہ میلے کا اجراء ہوگیا اور مسلمان ہر سال یہاں اکٹھے ہو کر تہوار منانے لگے ۔

صلاح الدین ایوبی کے اَسی سال بعد بیبرس نے یہاں ایک شاندار عمارت تعمیر کروائی تو اس روائیت کو مذید تقویت ملی اور گزرتے وقت کے ساتھ مقامی مسلمانوں میں یہ یقین اور بھی پختہ ہوگیا ۔ کہ حضرت موسیٰ یہیں دفن ہیں ۔

عثمانیوں کے دور میں یہاں منعقد ہونے والے سالانہ میلے کی سرکاری سرپرستی شروع ہوگئی ۔

وقت کے ساتھ ساتھ یہ مقام اور میلہ بہت مقبول ہوتاچلا گیا اور پھر ایک وقت ایسا آیا جب یہ میلہ فلسطین کے مسلمانوں کا سب سے بڑا سالانہ تہوار بن گیا ۔ بلکہ اٹھارویں اور انیسیویں صدی میں وہ لمحات بھی آئے جب اس صحرائی مقام کی اہمیت سیاسی اعتبار سے یروشلم سے بھی بڑھ گئی ۔

یہاں پہلے صرف حج کے لئے جانے والے قافلے رات کے قیام کے لئے ٹہرتے تھے اور پھر رفتہ رفتہ حج سے واپسی کے بعد اس مقام کی زیارت بھی حج کے مناسک میں شامل ہو گئی اور شام عراق اور گردونواح کے سارے علاقوں کے حاجی فریضہ حج اداکرنے کے بعد یہاں زیارت کے لئے آنے لگے ۔

نبی موسیٰ کے اردگرد پائی جانے والی چٹانوں میں تیل کی خاصی بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے ۔ ایسی چٹانوں کو ماہر ارضیات(جیالوجسٹ)
bituminous Shale کہتے ہیں ۔ اس علاقے کے رہنے والے بدوؤں کو پتہ چلا تو انہوں نے ان چٹانوں سے تیل نکالنا شروع کر دیا ۔ جسے وہ جلانے کے لئے استعمال کرتے ۔ وہ ان چٹانوں کے ٹکڑے اپنے خیموں میں لے جاتے اور انہیں چراغوں کی طرح جلا کر ان سے روشنی حاصل کرتے اور ان چٹانوں کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتے ۔ وہ ان چٹانوں کو “ احجار موسیٰ” کے نام سے پکارتے تھے ۔

ان جلنے والی چٹانوں نے مقامی عربوں کے اس عقیدے کو اور بھی تقویت بخشی کہ حضرت موسیٰ یہاں دفن ہیں اور ان چٹانوں کاان کی قبر کے اردگرد پایا جانا ان کی یہاں موجودگی کی وجہ سے ہے ۔

توفیق کنعان عثمانی دور کا ایک فلسطینی سائنسدان اور تاریخ نگار تھا اس نے ۱۹۲۷ء میں ایک کتاب لکھی جس کا نام “Mohammedan Saints and Sanctuaries” ہے

اس نے بھی اپنی اس کتاب میں نبی موسیٰ کے گردونواح میں پائی جانے والی ایسی کالی اور لال چٹانوں کا ذکر کیا ہے جنہیں مقامی بدو ایندھن کی طرح جلاتے تھے اور ان کا یقین تھا کہ یہ حضرت موسیٰ کا معجزہ ہے جو ان کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی موجود ہے ۔

اس عقیدے کے پنپنے میں بخاری اور مسلم کی اس حدیث کا بھی بڑا اہم کردار تھا جس میں رسول اکرم صلعم نے فرمایا تھا کہ “ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا جو سرخ ٹیلے کے قریب واقع ہے ۔ “

نبی موسیٰ سے تھوڑی دور ایک بڑی سرخ رنگ کی پہاڑی چوٹی پر حشمونی دور کاایک قلعہ بناہے جسے ہورکانیہ Horkania کہتے ہیں یہ قلعہ حشمونی Hasmonean بادشاہ جان ہائرکینس John Hyrcanus نے ایک سو بیس (۱۲۰) قبل مسیح میں بنوایاتھا ۔ بعد میں تیس (۳۰) قبل مسیح میں ہیر ڈوڈس اعظم نے جب اس علاقے کو فتح کیا تو اس نے اس قلعے کی ازسر نو تعمیر کروائی ۔ یہ قلعہ آج بھی کھنڈرات کی صورت میں نبی موسیٰ سے چندسو میٹرکے فاصلے پر موجود ہے۔

اور غالباً اسی سرخ چوٹی کی وجہ سے مقامی عربوں اور یہاں سے گذرنے والے حاجیوں کا یہ یقین اور بھی پختہ ہوگیا کہ یہی وہ سرخ ٹیلہ ہے جس کا حوالہ حدیث میں ہے ۔ اور نبی موسیٰ ہی وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ دفن ہیں ۔

مجیرالدین علیمی یروشلم کے رہنے والے اور فلسطینی مورخ تھے وہ یروشلم کے قاضی بھی رہے ان کا مقبرہ وادی قیدرون میں حضرت مریم کے مقبرے کے بالکل سامنے واقع ہے اور جج کا مقبرہ (Judge’s Tomb ) کہلاتاہے۔ان کے تحقیقی کام نے قرون وسطی میں یروشلم اور الخلیل کی تاریخ کو داستان دی ہے۔مجیرالدین علیمی کا بڑا کارنامہ انکی تاریخی کتاب ”الانس الجليل بتاريخ القدس والخليل “ ہے جو ۱۴۹۵ء میں لکھی گئی تھی۔اس کتاب کو انمول سمجھا جاتا ہے ۔

جرنل آف امریکن اورئینٹل سوسائٹی نے لکھا ہے کہ

“یہ کتا ب یروشلم اور فلسطین کی تاریخ کا سب سے زیادہ جامع ، غیر جانبدار نہ تعارف ہے جو اُس وقت لکھا گیا ۔ “

اور آج بھی اس کتاب کو یروشلم کی تاریخ کا سب سے زیادہ مستند اور تفصیلی ذریعہ مانا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنی کتاب میں نبی موسیٰ کے بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ۶۳۸ء میں فلسطین کی فتح کے بعد جب عرب جانے والے مسلم قافلے اس راہ سے گزرنا شروع ہوئے تو یروشلم سے چلنے کے بعد وہ اپنی پہلی رات کا قیام نبی موسیٰ پر کرتے اور چونکہ یہ مقام وادی اردن اور صحرائے یہودا سے بہت اونچائی پر واقع تھا لہٰذا رات کو چاند اور ستاروں کی روشنی میں وادی اردن اور جبل نیبو کا منظر یہاں سے صاف نظر آتا ۔ یہ منظر ان قافلوں میں بہت مقبول تھا ۔ اور چونکہ جبل نیبو حضرت موسیٰ کے ساتھ منسوب تھا لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ نبی موسیٰ اور جبل نیبو بھی ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہو گئے پھر نجانے کس وقت یہ روائیت مشہور ہوگئی کہ نبی موسیٰ میں حضرت موسیٰ دفن ہیں جو وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی چلی گئی اور پھر نبی موسیٰ پر حضرت موسیٰ کا مزار بھی بن گیا اور صلاح الدین ایوبی والی روائیت نے اس عقیدے کو اور مضبوط

Recent Blog Items