صحرائے یہودا اور
سرخ سرائے ۔ الخان الاحمر
قسط نمبر ۲
ماضی کی ان یادوں کو دل و دماغ میں بسائے مَیں خاموش بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا ۔ میرے اردگرد باقی سب لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے لیکن میرا ذہن اس سڑک پر سفر کرتے ہوئے صدیوں پرانی انہی بھول بھلیوں میں الجھا تھا ۔
ہم یروشلم سے نکلے تو بس ایک بڑی سرنگ میں داخل ہو گئی جس کے اختتام کے چند ہی کلو میٹرکے فاصلے پر ایک فوجی چوکی تھی ۔
فوجی وردی میں ملبوس چند نوعمر فوجی بس میں چڑھ آئے اوردروازے میں ہی کھڑے ہوکر طائرانہ نظروں سے مسافروں کو تاڑنے لگے ۔ چند ایک کے چہروں پر بڑی تمسخرانہ قسم کی مسکراہٹ تھی ۔ وہ ہمیں گھورتے رہے پھر ان کے افسر نے عبرانی زبان میں ڈرائیور سے کچھ پوچھا اور وہ بس سے اتر گئے ۔ ڈرائیور نے بس آگے بڑھا دی۔ اس چیک پوسٹ کے بعد ویسٹ بنک کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے ۔ جو تنظیم آزادی فلسطین کے کنٹرول میں ہے ۔
میرے قریب بیٹھے ابو ولید (گائیڈ )نے سرگوشی کے انداز میں مجھے بتایا کہ فلسطینیوں کو اپنی سبز رنگ کی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں صرف یہاں تک آنے کی اجازت ہے ۔ اس چیک پوسٹ سے آگے جانے کے لئے یا تو وہ اپنی گاڑی کی نمبر پلیٹ تبدیل کر کے اسرائیلی نمبر والی نیلی نمبر پلیٹ لگاتے ہیں یا اپنی گاڑی یہیں چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ کا سہارالیتے ہیں ۔ اور اسرائیلی علاقے میں داخل ہونے کی یہ سہولت بھی صرف ان چند خوش قسمت عربوں کو میسر آتی ہے جن کے پاس یا تو ورک پرمٹ ہوتا ہے یا خصوصی اجازت نامہ ۔
ہائی وے کے بائیں جانب کسی بڑی جیل کی فصیل جیسی اونچی دیوار تھی جو ویسٹ بنک کے رہنے والے اچھوتوں کو اس سڑک سے جدا کرتی ہے اور دائیں جانب دور دور تک صحرائے یہوداکی ریت بکھری نظر آرہی تھی ۔ جلد ہی فصیل ختم ہوگئی اوریہودی آباد کاروں Settlers کی ایک بستی شروع ہوگئی جس کا نام معالی ادومیم Ma’ale Adumim تھا ۔ اس کا مطلب ہے دو قبیلوں کے درمیان سرخ سرحد ۔ یہ نو آبادی ۱۹۹۱ء میں بسائی گئی تھی یہودیوں نے یہ بستی غالباً کتاب یوشع کی اس روایت کی یاد میں بسائی تھی جس میں یہودیوں کے دو قبیلوں یہودا اور بنجمن (بنیامین ) کا ذکر ہے جو ساڑھے تین ہزار سال پہلے اس قدیم شاہرہ کے اطراف آباد تھے ۔ کیونکہ معالی ادومیم کے بالمقابل ہائی وے ون کے دائیں جانب ایک اور یہودی بستی ہے جس کا نام كفار أدوميم Kfar Adumim ہے اور ان دونوں بستیوں میں تقریباً ساٹھ ہزار یہودی آباد ہیں جن کی اکثریت ایسٹرن یورپین (اشکنازی یہودیوں ) Ashkenazi Jews پر مشتمل ہے ۔ یہ بستیاں بسانے کے لئے یہاں رہنے والے عرب بدوؤں کے قبیلے “بدو الجهالين ۔ Jahalin Bedouin “ کو زبردستی اس علاقے سے بیدخل کیا گیا جو یہاں کئی صدیوں سے آباد تھے ۔ ان بدوؤں کو اردن کی حکومت نے وادی اردن میں رہنے کے لئے جگہ دی لیکن ان کے صرف چند خاندان ہی وہاں جا کر آباد ہوئے اکثریت نے اپنے آباؤاجداد کا علاقہ چھوڑنے سے انکار کر دیا تھا ۔ اب بھی یہودیوں کی بستیوں کے اردگرد خیمہ زن نظر آتے ہیں ۔۲۰۱۲ء میں ایک فرنچ ٹیلی ویژن نے ان بدوؤں پر ایک ڈاکومنیڑی بھی بنائی تھی جسے بڑی مقبولیت حاصل ہوئی تھی ۔ اس کا نام “Nowhere left to go” تھا ۔ اسرائیلی گورنمنٹ اردن کی مدد سے کئی بار ان بدوؤں کو یہاں سے نکال کر کہیں اور آباد کرنے کی کوشش کر چکی ہے ان سے زور زبردستی کی گئی ، انہیں لالچ دئیے گئے ، جدید اور آرام دہ زندگی کے سنہرے خواب دکھائے گئے ۔ اسرائیلی آرمی نے ان پر طرح طرح کی پابندیاں لگا رکھی ہیں ان کی بکریوں اور اونٹوں کو بھی صحرا میں چرنے کی آزادی
نہیں لیکن ان بدوؤں کا جینا مرنا اسی صحرا سے وابستہ ہے انہوں نے کسی بھی قسم کا دیاؤ برداشت کرنے سے انکار کر دیا ہے اور آج بھی اپنی صدیوں پرانی روایات کو سینے سے لگا ئے اپنے آباؤاجداد کے علاقے سے چمٹے جا بجا اس صحرا میں بکھرے نظر آتے ہیں ۔
صحرا کے اندر ان بدوؤں کی کئی خیمہ بستیاں ہیں ۔ جن میں سے ایک بستی ہائی وے ون کے جنوب میں كفار أدوميم Kfar Adumim کے قریب اور بالمقابل سڑک کے دوسری طرف نظر آتی ہے ۔ جس کا نام “ الخان الأحمر Khan al-Ahmar “ ہے ۔ جو ایک پرانی عمارت کے گرد آباد ہے ۔ یہ عمارت سلطنت عثمانیہ کے دور میں ایک سرائے ہواکرتی تھی جس میں اس سڑک پر سفر کرنے والے قافلے رات بسر کرنے کے لئے ٹھہرتے تھے ۔ غالباً اس علاقے میں پائے جانے والے سرخ رنگ کے پہاڑی ٹیلوں کے حوالے سے اس سرائے کا نام بھی الخان الأحمر (سرخ سرائے) پڑ گیا تھا ۔
پچھلی دو دہائیوں میں الخان الاحمر صحرائے یہودا میں جاری فلسطینی اسرائیلی کشمکش کا گڑھ بن چکا ہے ۔ کئی بار انٹرنیشنل میڈیا کی سرخیوں کا زینت بنا ہے ۔اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان بدوؤں کو یہاں سے نکالنے کا حکم جاری کر رکھا ہے کیونکہ اس کے بوسیدہ خیموں میں رہنے والے نزدیکی یہودی بستیوں کے لئے خطرہ ہیں ۔ پچھلے دس سال میں اسرائیلی گورنمنٹ تین بار اس بستی کو بلڈوزر کے ذریعے ملیا میٹ کر چکی ہے لیکن یہ بدو اتنے ڈھیٹ ہیں کہ اپنی بستی پھر بسا لیتے ہیں لیکن یہاں سے کہیں اور جانے کے لئے تیار نہیں ۔
جہاں الخان الاحمر میں رہنے والے بدوؤں کے بچوں کو جو اس سرزمین کے اصل مالک ہیں رہنے کے لئے گھر ، پہننے کے لئے کپڑے اور پڑھنے کے لئے سکول میسر نہیں وہیں اسرائیلی گورنمنٹ نے پچاس سال پہلے یورپ سے آنے والے یہودیوں کے بچوں کے لئے الخان الاحمر کے بالکل عقب میں اسرائیل کا سب سے بڑا اور شاندار تفریحی پارک Largest and most advanced indoor Amusement Park
بنا رکھا ہے جس کا نام میجک کاس Magic Kass ہے ۔
الخان الأحمر کے قریب ہی ایک سینکڑوں سال پرانی عیسائی خانقاہ کے آثار قدیمہ ہیں جسے دير یوثیمیوس Monastery of Euthymius کہتے ہیں ۔
یہ خانقاہ ترکی کے ایک آرمینئین عیسائی يوثيميوس الكبير Euthymius The Great نے ۴۲۰ء میں


