سرخ داڑھی والا۔ باربروسہ

سرخ داڑھی والا ۔ باربروسہ

زیر نظر مضمون میری آنے والی کتاب “زبان یار من ترکی “ میں شامل ہے۔

ترکی جانے سے پہلے جب میں ان مقامات کی فہرست بنانے بیٹھا جہاں کی سیر میرے نزدیک مقدم تھی تو اس فہرست میں خیرالدین باربروسہ سے ملاقات بھی شامل تھی ۔ باربروسہ ہمیشہ سے میرے ہیروز میں شامل رہا تھا ۔ مجھے یاد ہے بچپن میں جب میں نے اس کے بارے میں پہلی کتاب پڑھی تو میں غالباً ساتویں یا آٹھویں جماعت میں پڑھتا تھا۔ مجھے وہ بہت اچھا لگا۔ دل چاہا میں بھی اس کی طرح بحری قزاق بن جاؤں ۔ مجھے جتنی کتب اس کے بارے میں مل سکیں ۔ حاصل کر کے پڑھ ڈالیں ۔ سکول کی لائبریری چھان ماری یہاں تک کہ لائبرییرین تنگ آگئی ۔ مجھے دیکھتے ہی کہہ دیتی کہ اب لائبریری میں باربروسہ سے متعلقہ کوئی اور کتاب موجود نہیں ہے ۔ ہر گذرتے دن کے ساتھ میری باربروسہ میں دلچسپی بڑھتی گئی اس کی پراسرار شخصیت میں بہت رغبت محسوس ہونے لگی ۔ باربروسہ سے پکی دوستی ہوگئی -میرے لئے اس کا طرز زندگی بہت کشش کا باعث تھا ۔ بڑے بھائی کو بھی شائد وہ اچھا لگتا تھا اس لئے قزاقوں جیساکاسٹیوم پہن کر ایک آنکھ پر پٹی باندھ کر تلوار ہاتھ میں تھامے تلوار بازی کرنا ہمارا پسندیدہ مشغلہ بن گیا تھا۔ اس کی محبت میں ایک طوطا بھی پال لیا تھا اور اس طوطے کو کندھے پر بٹھا کر گھومنا اچھا لگنے لگا تھا۔ جب بھی سکول یا گھر والوں کی طرف سے سختی کا کوئی وقت آتا تو مجھے باربروسہ بہت یاد آتا ۔ دل چاہتا اگر وہ کہیں مل جائے تو جب کچھ چھوڑچھاڑ کر اس کے ساتھ بحری جہاز پر سمندر کے سفر کو نکل جاؤں ۔شائد اس طرح سکول کی پابندیوں سے جان چھوٹ جائے ۔ میں کئی بار راتوں کو خواب میں باربروسہ کا ہم سفر رہا تھا۔ اس کی لوٹ مار اور قتل و غارت میں شریک رہاتھا۔

وہ مجھے ایک طلسماتی اور دیومالائی شخصیت لگتاتھا ۔ ایک مافوق الفطرت طاقت کا حامل انسان جو دنیا کا کوئی بھی کام کرسکتا تھا۔

اس وقت مجھے صرف اتنا معلوم تھا۔ کہ وہ ایک بحری قزاق ہے اور ساری دنیا خاص طور پر گورے اس سے بہت خوف کھاتے ہیں ۔ ان کے ڈراموں فلموں کتابوں کارٹون سیریلز میں اس کا اتنا ذکر تھا کہ لگتاتھا جیسے وہ ان کے حواس پر سوار ہے ۔

لیکن جوں جوں وقت گذرا میری علمی قابلیت بڑھی ۔ شعور میں پختگی آئی ، مطالعہ وسیع ہوا باربروسہ کی پراسرار شخصیت کے پرت کھلے اس کے بارے میں زیادہ جاننے کا موقعہ ملا تو مجھے احساس ہوا کہ باربروسہ تو اسلام کا بہت بڑا خادم تھا ۔

وہ بہت اچھا مسلمان تھا ۔ وہ تھا تو انسان ہی لیکن غیر معمولی ذہانت ، بے مثال حوصلے ، بہت مضبوط ایمان ، اور بہترین بحری جنگی صلاحیتوں کا مالک تھا –

وہ کئی دہائیوں تک اہل یورپ کے مذموم ارادوں اور پیش قدمیوں کے سامنے چٹان بنا کھڑا رہا ۔ وہ جب تک زندہ رہا دنیا کے سمندروں پر حکومت کرتا رہا اس کی اجازت کے بغیر بحیرہ روم ، بحیرہ ایجئین اور بحیرہ احمر میں کوئی چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی ۔ لوگ اسے سمندر کا شہنشاہ کہتے تھے ۔ سپین اور اندلس کے بے بس اور مظلوم مسلمانوں کے لئے وہ امید اور رحمت کی نوید تھا۔ لیکن اس کا نام اہل یورپ کے لئے خوف اور دہشت کی علامت تھی اور اسی لئے وہ اس سے اتنی نفرت بھی کرتے تھے۔

تاریخ میں شائد ہی کسی اور مسلم شخصیت کے خلاف اتنا بڑا اور منظم پروپیگنڈا کیا گیا ہو جتنا باربروسہ کے خلاف کیا گیا ہے ۔ اور نہ ہی شائد کسی اور اسلامی شخصیت کو کبھی اتنے بڑے پیمانے پر تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔ ہمیشہ اسے بحری قزاق کہنا اور اسے اس کے مخصوص نیم برہنہ لباس میں دکھانا کہ سر پر رومال بندھا ہے اور ایک آنکھ پر پٹی ۔ اور کندھے پر طوطا بیٹھا ہے اس سے بڑی زیادتی اس عظیم شخصیت کے ساتھ کوئی اور نہیں ہوسکتی ۔

جب میں استنبول میں مشہور اور سیاحوں میں مقبول جگہوں کی فہرست بنا رہا تھا ۔ تو باربروسہ کے مقبرے کا نام سر فہرست تھا ۔
لیکن استنبول پہنچ کر اس کی رنگینیاں کچھ اس طرح غالب آئیں کہ باربروسہ یاد ہی نہ رہا ۔

مگر کل ٹوپ کاپی محل کے لائبریری سکشن میں جب ہم نادر اور نایاب قرآن شریفوں کو دیکھنے کے بعد اس کمرے میں داخل ہوئے جہاں عثمانی ترکوں سے وابستہ کتب رکھی تھیں تو سلطان سلیم اوّل اور سلطان محمد فاتح کے لکھے دیوانوں کے ساتھ والے شوکیس میں ایک سبز رنگ کی کتاب نظر آئی ۔

غیر ارادی طور پر توجہ اس کتاب کی طرف مبذول ہو گئی غور سے پڑھنے پر احساس ہوا کہ یہ تو باربروسہ کی خود نوشت ہے ۔ خیرالدین باربروسہ کی آپ بیتی جو اس نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی کے آخری دنوں میں لکھی تھی ۔ مجھے علم نہیں تھا کہ باربروسہ نے کوئی خود گزشت بھی لکھی ہے ۔

میرے قدم وہیں جم سے گئے مارےجوش کے میرا دم سا رکنے لگا ۔ میں نے آواز لگا کر حمزہ کو بھی بلا لیا اور اسے بھی فخر سے وہ کتاب دکھائی۔ مجھے لگا جیسے یہ کتاب میں نے خود لکھی ہے یہ میری آپ بیتی ہے۔

یہ کتاب فارسی میں ہے اور اس کانام “غزوات خیرالدین پاشا”

Gazavat-ı Hayreddin Paşa (Conquests of Hayreddin Pasha)
ہے ۔

یہ کتاب اس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۵۴۵ء کو استنبول میں لکھی ۔

Gazavat-ı Hayreddin Paşa (Conquests of Hayreddin Pasha)

ہے ۔

یہ کتاب اس نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ۱۵۴۵ء کو استنبول میں لکھی ۔

یہ فارسی میں لکھی گئی تھی ۔

پروفیسر احمد شمشیر گل Ahmet Şimşirgil نے ترکی زبان میں اس کا ترجمہ “کپتان کی لاگ بک “کے نام سے کیا ہے ۔
Kaptan Paşa’nın Seyir Defteri (The Logbook of the Captain Pasha)

ارطغرل ڈزڈاگ M.Ertuğrul Düzdağ نے اس کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا ہے ۔ جس کا نام The Mediterranean was Ours) “کبھی بحیرہ روم ہمارا تھا” ہے ۔

اس کتاب کے ساتھ ہی باربروسہ کا پرچم رکھا تھا۔

میں نے کبھی اتنا شاندار اور دلچسپ پرچم نہیں دیکھا ۔

یہ پرچم اس کی رسول اکرم صلعم سے محبت کا منہ بولتا ثبوت

Recent Blog Items