زاویہ ہندی یروشلم میں بابا فرید کی سرائے

زاویہ ہندی

یروشلم میں بابا فرید کی سرائے

نبی موسیٰ میں ایک پاکستانی نژاد امریکی نوجوان نعمان سے ملاقات ہوئی جو کئی بار فلسطین اور یروشلم کی زیارت کر چکا تھا ۔اس نے حمزہ کو یروشلم کے مسلم کواٹررز میں موجود زاویہ ہندی کے بارے میں بتایا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں بابا فرید گنج شکر نے چالیس دن کا چلہ کاٹا تھا ۔

اس نے وعدہ کیا کہ وہ اگلے دن نماز مغرب کے بعد ہمارے ہوٹل آئے گا اور ہمیں وہاں لے جائے گا۔

اس لئے ہم نے اس سے زاویہ ہندی کا حدود و اربعہ جاننا ضروری نہ سمجھا ۔

دوسرے دن ہم تیار ہو کر اس کا انتظار کرتے رہے لیکن اسے نہ آنا تھا نہ وہ آیا ۔ اس کا فون بھی بند ملا ۔

تنگ آکر ہم تینوں باپ بیٹا خود ہی زاویہ ہندی کی تلاش میں نکلے لیکن کئی گھنٹے سر پھوڑنے کے بعد ناکام ہوٹل واپس لوٹ آئے ۔

اب اگلے کئی دن ہم زاویہ ہندی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن لگتا تھا کہ یروشلم والے نہ تو بابا فرید کو جانتے تھے اور نہ ہی زاویہ ہندی سے واقف تھے ۔ لیکن ہم نے ہمت نہ ہاری خاص طور پر حمزہ کو بہت اشتیاق تھا وہ جگہ دیکھنے کا ۔ وہ اپنے چچا رضوان بھٹہ اور ہمارے کزن علی چوھدری کے ساتھ بابا فرید کے مقبرے کی زیارت کرنے پاکپتن جا چکا تھا ۔ نعمان کا نمبر بھی مسلسل بند مل رہا تھا ۔ بالآخر تیسرے دن اس کا پیغام آگیا اور اس نے زاویہ ہندی کا ایڈریس لکھتے ہوئے معذرت کی تھی کہ اسے ایک ایمرجنسی کی وجہ سے امریکہ واپس آنا پڑا ۔ اس لئے وہ اپنا وعدہ نہ نبھا سکا ۔

یہ جان کر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ زاویہ ہندی ہمارے ہوٹل سے صرف تین چار منٹ کے فاصلے پر ہیروڈ گیٹ ( باب السائرہ) کے اندر داہنی طرف
محلہ سعدیہ میں ہمارے اسی راستے پر سو قدم اندر گلی میں واقع تھا جہاں سے ہم دن میں کئی گزر کر مسجد اقصیٰ نماز پڑھنے جایا کرتے تھے۔

اسی روز عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد ہوٹل واپس لوٹتے وقت وہاں پہنچ گئے ۔ یہ ہیرروڈ گیٹ میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف کوئی سو میٹر کے فاصلے پر ایک بند گلی کے آخری سرے پر خوبصورت سر سبز درختوں سے گھرا وسیع العریض احاطہ تھا جس کے بڑے سبز گیٹ کے اوپر جُلی حروف میں “زاویة الهندية “ درج تھا ۔ لیکن گیٹ بند ملا ۔
ہم پھر دوبارہ آنے کا ارادہ کر کے یہ سوچ کر واپس آگئے کہ شائید دیر بہت ہو گئی ہے ۔ اس لئے درگاہ بند ہے ۔

جب ہم نے اس کے بارے میں ڈاکٹر امنیہ کو بتایا تو وہ بھی اس جگہ کی زیارت کے لئے بہت پرجوش نظر آئیں ۔ دوسرے روز مغرب کے بعد ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ وہاں گئے لیکن گیٹ پھر بند تھا بڑی دیر کھٹکھٹانے کے بعد بھی جب گیٹ نہ کھلا تو ہم مایوس واپس لوٹ آئے ۔ اس سے اگلے دن ہم نے عصر کے بعد

ایک بار پھر قسمت آزمائی کی اس دفعہ ڈاکٹر امنیہ کے ساتھ امریکہ سے آئیں چاروں ڈآکٹرز بھی ہمراہ تھیں جنہیں میں “ فور سسٹرز” کہتا تھا ۔
لیکن نتیجہ مختلف نہ نکلا ۔

گلی میں چند نوعمر فلسطینی لڑکے فٹ بال کھیل رہے تھے ۔ ایک چار پانچ سال کا بچہ ایک ایسی سائیکل پر بیٹھا اسے گھسیٹنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا پچھلا ایک پہیہ ہی نہیں تھا ۔ اوپر بجلی کی تار پر جوتے لٹک رہے تھے ۔ دائیں جانب فصیل کی منڈیر پر کئی بلیاں بیٹھی مشکوک نظروں سے ہمیں گھور رہی تھیں ۔ احاطے کی اونچی دیوار سے جھانکتے صنوبر کے درختوں پر بیٹھی چڑیوں اور طوطوں نے ایک اودھم مچارکھا تھا ۔ گیٹ پر بہت سے کبوتر بیٹھے تھے جو ہمیں آتا دیکھ کر اڑے اور ساتھ والے درخت پر جا بیٹھے ۔ زاویہ ہندی کے بالمقابل فصیل کے اوپر چند نوجوان کرسیوں پر بیٹھے بورڈ یا شطرنج قسم کی کوئی گیم کھیلنے میں مشغول تھے ۔

غرض زندگی سے بھرپور گلی تھی لیکن لگتا تھا کہ اس احاطے میں کوئی نہیں رہتا ۔

میں نے رک کر گلی میں کھیلتے بچوں سے زاویہ ہندی کے باسیوں کے بارے میں پوچھا حمزہ نے عربی میں قسمت آزمائی کی لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا ۔ ہم اس بار بھی ناکام واپس لوٹ آئے ۔

یوں ہی دن گزرتے رہے اور ہمارے گروپ کے باقی سارے لوگ عمرے کی غرض سے سعودی عرب چلے گئے اور صرف ہم تینوں باپ بیٹے پیچھے رہ گئے کیونکہ ہم چند دن مزید یروشلم اور فلسطین میں گزارنا چاہتے تھے ۔

پھر ہمارا یروشلم میں آخری دن آگیا اور ہم نے تہیہ کر لیا کہ آج ہر صورت زاویہ ہندی کی زیارت کریں گے خاص طور پر حمزہ اسے دیکھے بغیر واپس جانے کے لئے رضامند نہیں تھا ۔

اس روز ہم عصر کے بعد زاویہ ہندی گئے تو گیٹ پھر بند ملا ۔

ہم بڑی دیر گیٹ پر کھڑے اندر جانے کی کوئی صورت ڈھونڈتے رہے ، گیٹ پر دستک دیتے رہے ۔

لیکن گیٹ نہ کھلا ۔ زاویہ ہندی کے بالمقابل شہر کی فصیل پر ہیروڈ گیٹ کے اوپر داہنی جانب ایک ہوٹل تھا جس کے باہر چند نوجوان خوش گپیوں میں مشغول کافی پی رہے تھے ۔ حمزہ نے جا کر ان سے عربی میں بات کی تو ایک نوجوان اٹھ کر اس کے ساتھ آگیا اور اس نے دیوار پھلانگی اور اندر جا کر گیٹ کھول دیا اور ہمیں بتایا کہ یہ ایک بہت بڑا کمپاؤنڈ ہے اور یہاں رہنے والے بہت دور اندر رہتے ہیں اس لئے شائید ان تک گیٹ کھٹکھٹانے کی آواز نہیں پہنچ سکی ۔

ہم اس کا شکریہ ادا کر کے بے دھڑک اندر داخل ہوگئے یہ واقعی ایک بہت بڑا کئی ایکڑ پر محیط بڑا احاطہ تھا جس کے آخری سرے پر ایک دیوار کے پیچھے بلند وبالا درختوں سے گھرا عمارتوں کا ایک سلسلہ بنا نظر آ رہا تھا ۔

Recent Blog Items