اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں
شریف مکہ – حسین بن علی
قسط نمبر۱
مسجد اقصیٰ کے کمپاؤنڈ میں مغرب کی جانب بنی فصیل کے اندر کئی مدرسے اور عمارتیں قائم ہیں ۔ انہی مدرسوں میں سے ایک مدرسہ الخاتونیہ ہے جو باب القطانين
Cotton Merchants’ Gate کے بائیں جانب قائم ہے ۔ اس مدرسے کے ایک کمرے میں حسین بن علی شریف مکہ کی قبر ہے ۔ اور اس مدرسے کے ہی دوسرے کمرے میں مولانا محمد علی جوہر دفن ہیں ۔
میں مولانا کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے بعد دونوں ہاتھ اٹھائے اپنی سوچوں میں مگن گمُ سم سا کھڑا تھا کہ حمزہ کی آواز سنائی دی وہ پہلو کے کمرے کی کھلی کھڑکی کے سامنے کھڑا بیتابی سے مجھے بلا رہا تھا ۔ میں نے ایک بار پھر فاتحہ پڑھی اور اٹھے ہوئے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر پھیرنے کے بعد میں اس طرف بڑھ گیا ۔ اس کمرے کی کھلی کھڑکی کے اوپر اردن کا شاہی نشان بنا تھا ۔ اندر نگاہ ڈالی تو اس کمرے کی شان ہی نرالی تھی ۔ اس کی سجاوٹ اور آن بان دیدنی تھی ۔ سنگ مرمر کا فرش ، دیواروں پر بہت خوبصورت خطاطی میں آیت قرآنی کندہ تھیں ۔ چھت پر بھی بہت دلکش نقش ونگار بنے تھے ۔
قبة الحضرہ کی شکل کا خالص سونے سے بنا ایک بہت بڑا اور شاندار فانوس چھت سے لٹک رہا تھا۔
کھلی کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھا تو اندر کمرے کے عین درمیان میں سنگ مرمر سے بنی ایک شاندار قبر نظر آئی ۔ جس پر چار رنگوں کا انتہائی قیمتی مخمل لپٹا ہوا تھا اس کپڑے پر سونے کی تاروں سے آیات قرآنی کی کشیدہ کاری کی گئی تھی ۔
“یہ کس کی قبر ہے “
میں نے حمزہ سے پوچھا
“بابا ! یہ شریف مکہ حسین بن علی کی قبر ہے ۔ “
اس نے دیوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا ۔ جہاں اس کا نام لکھا تھا ۔
میں نے بے یقینی سے حمزہ کی جانب دیکھا تو اس نے تائید میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
“ ہاں بابا ! یہ تاریخ کا کیسا جبر ہے کہ حسین بن علی اور مولانا محمد علی جوہر آج ایک ساتھ دفن ہیں۔“
اور میں تاریخ کی اس ستم ظریفی پر ششدر رہ گیا یہ میرے لئے ایک بہت بڑا انکشاف تھا۔
مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا نیرنگئی گردش دوراں تو دیکھئیے کہ الخاتونیہ مدرسے کے ان دو کمروں میں دفن دونوں شخصیات ایک ہی دور میں پیدا ہوئیں دونوں ایک ہی عہد میں جئے ۔ جوانی میں بھی ہم عصر رہے اور دونوں آگے پیچھے چند مہینوں کے وقفے سے ایک ہی سال اس جہان فانی سے رخصت ہوئے لیکن دونوں کی دنیا بھی مختلف تھی اور افکار واعمال بھی ۔دونوں ایک بلکل مختلف مقصد کے لئے جئے ، دونوں کی پرواز دو مختلف آسمانوں میں رہی بلکل ویسے ہی ۔ جیسے کرگس اور شاہین ہیں تو ایک جیسے پرندے لیکن دونوں کا جہان بھی مختلف ہوتا ہے ۔ اور مشاغل بھی مختلف ۔
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
آج قبروں کی اس قربت کے باوجود تاریخ کے انتہائی نازک اور اہم موڑ پر جب قوم کو ان کی ضرورت تھی ان کی توانائیاں اور زندگیاں دو متضاد اور بالکل مختلف سمتوں میں صرف ہوتی رہیں
ایک الوحدة الإسلامية Pan Islamism کا علمبردار تھا تو دوسرا نیشلزم ، اور پین عرب ازم Pan Arabism کا دعویدار
مولانامحمد علی جوہر نے اپنی ساری زندگی انگریز سامراج کے خلاف جدوجہد کی نذر کر دی ، اپنی ساری صلاحیتیں ساری توانائیاں انگریزوں کے خلاف جہاد کرنے میں صرف کر دیں اپنی جوانی کا بہترین حصہ خلافت عثمانیہ کی بقاء کی جنگ لڑتے گزار دیا ۔ اپنا سب کچھ خلافت کو بچانے کے لئے نچھاور کر دیا اور جب مرنے کا وقت آیا تو اس غلام سرزمین میں دفن ہونے سے بھی انکار کر دیا جہاں انگریزوں کی حکومت تھی ۔
جبکہ ان کے پہلو میں چند میٹر کے فاصلے پر دیوار کے پار دوسرے کمرے کے اندر محو آرام حسین بن علی وہی شریف مکہ ہے جس نے 1915/1916ء میں
انگریزوں اور فرانسسیوں کے ساتھ مل کر ترکوں کے خلاف گھناؤنی سازش کی ۔ سلطنت عثمانیہ کی پشت میں اس وقت خنجر گھونپا جب وہ اپنی تاریخ کے سب سے نازک موڑ پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی اور جس کے وجہ سے نہ صرف مسلمانان عالم کی مرکزیت کا خاتمہ ہوا بلکہ وہ یتیم ہو گئے ۔ سلطنت عثمانیہ پارہ پارہ ہوگئی اور پھر اس کے نتیجے میں ہونے والی بندر بانٹ میں عثمانی سلطنت اپنے مشرق وسطیٰ کے سارے علاقوں سے محروم ہوئی اور فلسطین و یروشلم پر انگریزوں اور شام و لبنان پر فرانس کا قبضہ ہوگیا ۔
سر زمین عرب چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں بٹ گئی ۔
سلطنت عثمانیہ شائید اتحادی فوجوں سے تو نمٹ لیتی لیکن اپنی ہی سلطنت کے عرب علاقوں سے اٹھنے والی اپنی رعایا کی بغاوت کی لہر کا مقابلہ نہ کر سکی اور پہلی جنگ عظیم کے اوائیل میں ہی اپنی سلطنت کے سب سے اہم اور بڑے حصے سے محروم ہو گئی ۔
اور آج تاریخ کا یہ جبر بھی دیکھنے والوں کو صاف نظر آتا ہے کہ دو مختلف دنیاؤں کے یہ دو باشندے آج شہر خموشاں میں ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں ۔
حسین بن علی کا تعلق بنو ہاشم سے تھا ۔ یہ قبیلہ حضرت حسن رضی تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہے ۔ اور حضرت علی رضی تعالیٰ عنہ اور حضور اکرم صلعم کے پڑ دادا ہاشم بن عبدالمناف کی نسبت سے ہاشمی قبیلہ کہلاتا تھا ۔
ابن خلدون نے لکھا ہے کہ ٩٦٩ء میں جعفر بن محمد الحسنی جس کا تعلق حضرت حسن علیہ السلام کے بیٹے حسن المثنّی کی اولاد سے تھا مدینہ سے مکہ آیا اور اس نے مکہ فتح کرنے کے بعد فاطمید خلیفہ المعزّ لدين الله کے نام کا جمعہ خطبہ جاری کر دیا ۔ اور خود شریف مکہ کا لقب اختیار کر کے یہاں کا حکمران بن گیا ۔
یہاں سے شرافت مکہ کا آغاز ہوتاہے ۔


