آخری زندہ صحابی

اردن میں آخری زندہ صحابی کی زیارت کا قصہ

یہ مضمون میری دوسری تصنیف

“اہل وفا کی بستی “

میں شامل ہے جو اردن ، فلس طین اور اسرائیل کے سفر کی یاد داشتوں پر مبنی ہے

ابھی تاریکی پوری طرح چھٹی نہیں تھی کہ ہم نماز فجر ادا کر کے ہوٹل سے نکل پڑے۔

اور ٹریفک بڑھنے سے پہلے پہلے شہر کے مضافات میں پہنچ گئے۔

آج ہمارا ارادہ مشرق کی طرف جانے کا تھا۔ اردن کے جنوب مشرق میں سعودی عرب اور شمال مشرق میں عراق واقع ہے۔

عمان سے تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر دور ارزق نامی قصبے کے قریب لق و دق صحرا میں وہ درخت آج بھی موجود ہے جسے رسول اکرم صلعم ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوااور جس نے میرے پیارے نبی صلعم ﷺ کو اس وقت دھوپ کی تمازت اور شدت سے بچایا تھا جب وہ بارہ سال کے تھے۔

اس درخت کو شجربقیعاویہ شجر حیاة اور صحابی درخت بھی کہتے ہیں۔

اندھیرا آہستہ آہستہ چھٹنے لگا تھا۔

اور سورج جیسے ہمارے عین سامنے سڑک کے درمیان سے اگ رہا تھا۔

سڑک کی یہ خستہ حالی دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے سرگودھا بھلوال روڈ آگئی۔

سڑک کا ہر گڑھا مجھے وطن عزیز کی یاد دلاتا رہا۔

دور دور تک ریت کے ٹیلے بکھرے ہوئے تھے جن کے درمیان سے گزرتے تاریکی میں ڈوبے بجلی کے دیو ہیکل بھوت نما کھمبے بڑا عجیب سا تاثر دیتے تھے جیسے یہ سارا علاقہ آسیب زدہ ہو ۔ انسانی آبادی کا دور دور تک نام ونشان نہیں تھا ۔ لگتا تھا یہاں ہر طرف بھوتوں کا راج ہے ۔ اردن کا یہ علاقہ شمالی حصے سے یکسر مختلف ہے جو شام کی سرحد کی طرف واقع ہے جس کی وادی اردن قدرتی حسن ، سبزے اور ہریالی کی دولت سے مالا مال ہے۔

شہر سے باہر نکل کر حمزہ نے گاڑی روک دی اور مجھ سے گاڑی ڈرائیو کرنے کی درخواست کرنے لگا ۔ اسے شدید نیند آرہی تھی ۔ جب میں سیٹ بدلنے کے لئے گاڑی سے اترا تو صحرا کی ٹھنڈی ٹھنڈی خوشگوار ہوا نے جیسے جسم میں ایک دم تازگی سی بھر دی۔

میں نے لمبی لمبی دو تین سانسیں لے کر تازہ ہوا کو پھیپھڑوں میں مقید کیا اور کار چلانے لگا ۔جیسے جیسے سورج بلند ہو رہا تھا ڈرائیونگ مشکل ہوتی گئی سورج کی تیز شعاعیں آنکھوں کو چندھیا رہی تھیں سامنے سڑک پر نگاہ جمانا دشوار تھا۔

سڑک کے گڑھوں اور سیدھی آنکھوں میں پڑنے والی روشنی کی وجہ سے کار چلانا دشوار تر ہوتا جارہا تھا۔ سنگل روڈ پر سامنے سے آنے والی گاڑی کو دیکھنا مشکل ہو رہا تھا۔

خوش قسمتی سے ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی ورنہ ڈرائیونگ ناممکن ہوجاتی ۔سامان سے لدا ہوا بڑا ٹرک جب سامنے سے آتا تو اسے راستہ دینے کےلئے مجھے گاڑی سڑک سے نیچے اتار کر روک دینا پڑتی۔

پہلے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا اور نہ کبھی زندگی میں سورج کی سیدھ میں اتنی شکستہ حال سڑک پر اس طرح اتنی دیر تک گاڑی چلائی تھی۔

حمزہ ساتھ والی سیٹ پر چھوٹے چھوٹے خراٹے لے رہا تھا اور بلال پچھلی پوری سیٹ پر ٹانگیں پسارے سو رہا تھا ۔مجھے ان پر غصے کے ساتھ ساتھ رشک بھی آرہا تھا ۔خدا خدا کر کے ساڑھے سات بجے ہم ایک چھوٹے سے قصبے میں پہنچے۔ جس کا نام ارزق ہے ۔ ارزق سعودی عرب سے عراق جانے والی شاہراہ پر واقع ہے جو اردن سے گزرتی ہوئی عراق سے ہوتی ہوئی شام کی طرف نکل جاتی ہے موجودہ سڑک قدیم تجارتی گزرگاہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے ۔ میں ارزق پہنچ کر عراق کی طرف جانے والی سڑک پر مڑ گیا۔ اکا دکا کھانے پینے کی دکانیں کھلی تھیں ۔بچے گلے میں بیگ لٹکائے چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں سکول کی طرف رواں دواں تھے۔ مجھے اپنا بچپن یاد آنے لگا۔

میں نے گاڑی ایک بیکری کے سامنے روکی ۔حمزہ اندر سے ناشتے کا کچھ سامان لے آیا اور چند ہی منٹوں میں ہم شہر سے باہر نکل آئے ۔یہاں سے اس آخری زندہ صحابی کی درگاہ بیس کلو میٹر تھی ۔ باہر کا منظر یکسر بدل گیا تھا۔

ریت اور ٹیلوں کی جگہ اب سڑک کی دونوں جانب حد نگاہ تک ایک چٹیل میدان نظر آتا تھا جس میں سرمئی اور کالے رنگ کے بجری کی طرح کے چھوٹے پتھر بکھرے پڑے تھے جیسے کسی نے ترتیب سے پتھر وں کی تہہ یہاں بچھائی ہو۔

ایسا منظر میں نے زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ حمزہ اب جاگ رہاتھا جبکہ بلال ابھی بھی لمبی تان کر سو رہا تھا۔

پوچھنے پر حمزہ نے بتایا کہ ایسے میدان لاوہ فیلڈ کہلاتے ہیں۔

صدیوں پہلے غالباً اس علاقے میں کوئی آتش فشاں پہاڑ پھٹا تھا جس سے نکلنے والے لاوے نے یہ منظر تشکیل دیا تھا۔

کوئی دس کلو میٹر کے بعد گوگل نے ہمیں دائیں جانب مڑنے کا اشارہ کیا ۔یہ ایک بہت ہی تنگ اور چھوٹی سی سڑک تھی جو تاحد نگاہ تک کسی سانپ کی طرح بل کھاتی چلی گئی تھی ۔جس پر ایک وقت میں صرف ایک ہی گاڑی چل سکتی تھی لیکن خوش قسمتی سے سامنے سے کسی گاڑی نے ہمیں تنگ نہ کیا۔

دور دور تک پتھروں کا یہ میدان پھیلا تھا جس میں کہیں کہیں کوئی جڑی بوٹی اگی نظر آتی تھی ۔کچھ دور جا کر سڑک اچانک بھیڑ بکریوں سے بھر گئی اورمجھے کار روکنا پڑی یہ سینکڑوں بکریوں کا ایک بڑا ریوڑ تھا جن کے پیچھے دو لڑکے گدھوں پر سوار تھے اور دس بارہ کتے ان بھیڑوں کو ترتیب میں رکھے ہوئے تھے ۔مجھے حیرت تھی کہ اچانک اتنی ساری بھیڑیں کہاں سے ٹپک پڑیں ۔بھیڑوں کے گذر جانے کے بعد جب ان کی اڑائی دھول صاف ہوئی تو بائیں جانب چند سو میٹر کے فاصلے پر بدوؤں کے خیمے لگے نظر آئے جن کے سامنے فور ویل گاڑیوں کےساتھ اونٹ بھی بندھے نظر آرہے تھے ۔صحرائے عرب کے یہ بدو آج بھی اپنے صدیوں پرانے رسم و رواج اور طور طریقوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں اور گورنمنٹ بھی انہیں تنگ

Recent Blog Items