حضرت مریم کا گھر

Hazrat Maryam ka ghar

حضرت مریم کا گھر
House of Virgin Mary
یہ مضمون میری کتاب” زبان یار من ترکی“ کا حصہ ہے۔

ترکی کے شہر سلجوق سے سات میل دور ایک خوبصورت پہاڑی کے دامن میں بلند و بالا درختوں اور پرسکون ماحول میں ایک دو تین کمروں کا سادہ سا مکان ہے جسے تاریخ دان ہاؤس آف ورجن میری کے نام سے جانتے ہیں اور دنیا بھر سے سیاح اور خصوصا” عیسائی زارئرین“ اس کی زیارت کے لئے بہت بڑی تعداد میں آتے ہیں۔

روائیت ہے کہ حضرت عیسی کے اوپر جانے کے بعد جب حضرت مریم کی زندگی اہل یروشلم نے دشوار کردی تو سینٹ جان Apostle John حضرت مریم کو لے کر 37 ء میں ایشاء کوچک کے شہرایفیسس Ephesus آگیا۔ایفیسس موجودہ ترکی میں ازمیر سے پینتیس کلومیٹر دور جنوب میں واقع ہے اور اس شہر کا موجودہ نام سلجوق ہے،سلجوق بیگ سلجوقی سلطنت کے بانی طغرل بیگ کا والد تھا اور پہلا ترک تھا جو مسلمان ہوا ایفیسس میں اس وقت بت پرست رومی (Pegan) حکومت تھی ایفیسس دیوی ڈائنا کا شہر تھا۔

کچھ عرصہ ایفیسس میں رہنے کے بعد ان مشرکوں کے ڈر سے سینٹ جان حضرت مریم کو لے کر ایفیسس سے سات کلومیٹر دور ایک پہاڑ پر منتقل ہوگیا جس کا نام بلبل پہاڑ Bülbüldağı, Mount Nightingale ہے یہاں اس نے ایک مکان بنایا جو آج ہاؤس آف ورجن میری کہلاتا ہے۔

کہتے ہیں کہ حضرت مریم نے اپنی باقی زندگی یہیں گزاری اور گیارہ سال کے بعد ساٹھ سال کی عمر میں وہ فوت ہوئیں تو جان نے خفیہ طور انہیں دفن کردیا تاکہ رومی ان کی قبر کی بے حرمتی نہ کرسکیں،گو کہ وٹیکن نے کبھی بھی حضرت مریم کے یہاں قیام کی نہ کبھی تصدیق کی ہے اور نہ کبھی اس سے انکار کیا ہے ۔

لیکن 3 اکتوبر 2004ء میں پوپ جان پال نے اس مقام کا دورہ کیا اور یہاں عبادت کی،گوسینٹ جان نے بھی اپنی باقی زندگی ایفیسس میں گزاری اور وہ گزر اوقات کے لئے خیمے بناتا تھا یہیں اس نے باقی مائندہ بائبل لکھی جو سینٹ پال کی موت کے بعد ادھوری رہ گئی تھی۔

یہ سینٹ جان کی محنت اور حضرت مریم کی موجودگی کی برکت تھی کہ کچھ ہی عرصے میں ایفیسس کا گورنر عیسائی ہوگیا وہ قیصر روم کا پوتا تھااور پھر یہیں سے عیسائیت کا ننھا سا پودا تناور درخت بنا اور بت پرست رومی سلطنت عیسائی سلطنت بن گئی۔

سینٹ جان بھی اسی شہر میں ایک دوسرے پہاڑ کی چوٹی پر ترکوں کی دو یادگاروں (سترھویں صدی عیسوی تعمیرشدہ عثمانی ترکوں کے قلعہ اور سلجوقوں کی تعمیر کردہ عیسی بے مسجد) کے درمیان دفن ہے اور اس کی قبر پر چھٹی صدی عیسوی میں رومی بادشاہ جسٹینن نے ایک چرچ تعمیر کروایا۔

431ء میں کونسل آف ایفیسس نے اس روائیت کی تصد یق کی ساری دنیا کے عیسائی بشمول وٹیکن بھی اس جگہ کو حضرت مریم کی آخری آرامگاہ سمجھتے ہیں۔اس مکان کے باہر ایک چشمہ ہے جس کا پانی عیسائیوں کے لئے بہت متبرک ہےاور عیسائی زائرین پانی چھوٹی چھوٹی بوتلوں میں بھر کر تبرک کے طور پر اپنے ساتھ اپنے عزیز واقارب کے لئے لے کر جاتے ہیں۔

اس مکان سے ملحقہ دیوار کو wish wall کے طور پر جانا جاتا ہے اور آنے والا ہر شخص اس دیوار کے ساتھ اپنی خواہش لکھ کر لٹکا دیتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ورجن میری اس کی خواہش کو پورا کرے گی۔ اس دیوار پر آپ لاکھوں خط دیوار کے ساتھ لٹکی نظر آئیں گے جن پر زائرین کی خوہشات لکھی ہوئی ہوتی ہیں ۔حضرت مریم کی ایک قبر یروشلم میں ماؤنٹ اولیو Mount olive کے نیچے وادی قیدرون Valley of Kidron میں بھی واقع ہے مجھے یہ دونوں قبریں دیکھنے کی سعادت ملی ۔

ازتحریر
ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

Recent Blog Items