ہمیں حضرت عمر ؓ کے اس معاہدے کی تلاش تھی
جو حضرت عمر رضی تعالی عنہ اور یروشلم میں صلیبیوں کے حکمران صفرونيوس کے درمیان فتح فلسطین کے موقع پر ہوا تھا۔
اسے تاریخ میں عقد عمر Pact of Umar یا Treaty of Umar کہتے ہیں ۔
یہ معاہدہ فلسطین کے غیر مسلموں کے حقوق کا ضامن تھا اور مسلمانوں کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت بھی ۔
ہمارے گروپ کے لوگ واپس جا چکے تھے صرف ہم تین باقی رہ گئے تھے ہمیں بھی اردن جانا تھا لیکن ہم حمزہ کے اصرار پر جمعہ کی نماز مسجد اقصٰی میں پڑھنے کے لئے رک گئے تھے۔
آج کے دن کا کوئی اور پروگرام طے نہیں تھا چنانچہ پہلے ہم دیوار گریہ دیکھنے گئے کیونکہ حمزہ نے اسے ابھی تک نہیں دیکھا تھا ۔
دیوار گریہ دیکھنے کے بعد ہم زیر زمین پرانے یروشلم اور سکینڈ ٹمپل (ہیکل ثانی ) کے زیر زمین حصے کی سیر کے لئے اس جگہ گئے جہاں سے انڈر گراؤنڈ ٹور کا انتظا م ہوتا تھا یہ ٹور دو سے تین گھنٹے پر مشتمل ہوتا ہے اور گروپس کی شکل میں کروایا جاتا ہے اس کی فیس اڑتیس شیکل ہے ۔
استقبالیہ پر کھڑی یہودی لڑکی نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بڑے معذرت خواہانہ انداز میں ہمیں بتایا کہ آج کے لئے سارے ٹور پہلے سے بک ہو چکے ہیں ۔ ہم نے اگلے دن کے لئے ٹور بک کیا ۔ فیس ادا کی اور باہر نکل آئے ۔
اب ہم اس خط کی تلاش میں نکلے ۔ ایک چرچ سے دوسرے چرچ اور ایک مسجد سے دوسری مسجد ۔
ہم نے کئی میوزیم بھی دیکھ ڈالے ۔
ہم سارا دن اندرون شہر کی گلیوں میں پیدل پھرتے رہے
مسلم کواٹر سے کرسچئین کواٹر اور پھر آرمنین Armenian Quarter سے ہوتے ہوئے ڈیوڈ ٹاور کو دیکھتے ہوئے ہم جیوش کواٹر Jewish Quarter میں داخل ہوگئے ۔
یروشلم شہر کو نسلی اور مذہبی اعتبار سے چار محلوں ( حصوں ) میں تقسیم کیاجا تا ہے ۔
کواٹر Quarter کا مطلب غالباًُ محلہ ہے
مسلم کواٹرز مسلمانوں کا محلہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے گردونواح میں آباد ہے اس محلے میں نناوے فی صد مسلمان رہتے ہیں کہیں کہیں ایک دو گھروں پر ہم نے اسرائیلی پرچم بھی لہراتے دیکھے ۔
کرسچئین کواٹرز میں عیسائی رہتے ہیں اور یہ اس کلیسا (چرچ) کے گرد واقع ہے جسے کلیسائے مقبرہ مقدس Church of the Holy Sepulchre کہتے ہیں ۔ یہ عیسائیوں کا مقدس ترین مقام ہے اور عیسائی روایات کے مطابق اس جگہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا گیا تھا ۔ یہاں پتھر کی وہ سل اب بھی رکھی ہے ۔ جس پر ان کی میت کو رکھا گیا تھا۔ اور انہیں غسل دیا گیا ۔
اس کلیسا کے اندر ان کا خالی مقبرہ بھی موجود ہے ۔ جس میں وہ آسمانوں پر جانے سے پہلے تین دن تک دفن رہے ۔
آرمنئین کواٹرز میں آرمنئین عیسائی رہتے ہیں اور اس محلے میں حضرت عمران کا وہ مکان واقع ہے جس میں حضرت مریم علیہ السلام پیدا ہوئیں اور پرورش پائی ۔ یہ محلہ جیوش کواٹرز اور مسیحی کواٹرز کے درمیان آباد ہے ۔
۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیلی جنگ سے پہلے یروشلم کے شمال مشرق میں ایک پانچواں محلہ بھی ہوا کرتا تھا جسے مغربی محلہ یا مراکو کواٹرز کہتے تھے ۔ یہاں مراکش ، موریطانیہ اور الجزائر کے وہ مسلمان آباد تھے جو سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کا حصہ تھے اور بارھویں صدی عیسوی میں یروشلم شہر کی فتح کے بعد یہاں آباد ہو گئے تھے ۔ یہ محلہ چونکہ دیوار گریہ کے اردگرد آباد تھا ۔ اس لئے ۱۹۶۷ء کی جنگ میں فتح کے بعد جب اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تو یہودیوں نے اس محلے کو پیوند خاک کر دیا اور یہاں رہنے والے مسلمانوں کو جبراً جلا وطن کر دیا گیا تاکہ دیوار گریہ کے اردگرد کے علاقے کو کشادہ کر کے یہاں یہودیوں کی عبادت کے لئے جگہ بنائی جا سکے ۔ آجکل اس جگہ کو ویسٹرن وال پلازہ Western Wall Plazaکہتے ہیں ۔
جیوش کوارٹر یروشلم کے جنوب مغربی حصے میں دیوار گریہ کے اردگرد آباد ہے۔ جس میں صرف یہودی رہتے ہیں ۔
اس علاقے میں جا کر اندازہ ہوتا ہے نسلی اور مذہبی تعصب کیا ہوتا ہے ۔
کسی بھی عرب مسلمان یا فلسطینی کے لئے یہ علاقہ ممنوعہ ہے ۔
حمزہ نے شلوار قمیض اور بلال نے جبہ پہن رکھا تھا اس لئے یہاں ہمارا استقبال ناپسندیدہ نظروں سے کیا گیا ۔ انہوں نے یہ کپڑے نہ بھی پہن رکھے ہوتے تو بھی ہمارے چہروں پر رقم تھا کہ ہم اجنبی ہیں مسلمان ہیں ۔
اس لئے بے شمار نا پسندیدہ نگاہیں ہماری طرف اٹھتی رہیں ۔ ہر جگہ ہمیں ایسی ناگوار نظروں سے دیکھا گیا جیسے ہمارے سروں پر سینگ نکل آئے ہوں جیسے ہم کسی دوسرے سیارے کی مخلوق ہیں ۔ صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ہمیں خوش آمدید نہیں کہا جا رہا ۔
بس برداشت کیا جا رہا ہے ۔
لوگ ہماری طرف انگلیاں اٹھاتے رہے ۔ ہم پر ہنستے رہے ۔ لیکن ہمیں کسی نے روکا نہیں شائد اس لئے کہ ہمارے گردنوں میں سیاحوں والے تعارفی کارڈ لٹک رہے تھے ۔
ہم چلتے رہے ۔
اور یوں ہی گھومتے پھرتے حضرت عبداللّہ بن عمر کے مدرسے کی طرف جا نکلے۔ حضرت عبداللّہ بن عمر کے مدرسے کا دروازہ بند تھا ۔
میں نے دروازے پر دستک دینے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ اندر سے ایک دبلا پتلا منحنی شخص برآمد ہوا ۔ جس کے جھریوں پڑے چہرے پر شیخ چلی جیسی داڑھی لٹک رہی تھی ۔ وضع قطع سے فلسطینی لگتا تھا لیکن تھا بہت خشک طبع اور آدم بیزار سا۔
عموماً فلسطینی ایسے نہیں ہوتے ۔
اس نے ہمارے ہر سوال کے جواب میں بیزاری سے نفی میں سر ہلایا اور مدرسے کو تالا لگا کر سائیکل پر چڑھا اور ایک طرف کو چل دیا ۔
یہ مدرسہ ایک بڑے چوک کے شمالی کونے میں مسجد سیدنا عمر کے احاطے میں واقع تھا ۔ اس مسجد اور مدرسے کے بارے میں صحیح طور پر تو معلوم نہیں کہ کب اور کس نے تعمیر کیا لیکن


