یروشلم شہر ، اسکی فصیل اور چار محلے
یہ مضمون میری آنے والی کتاب “اہل وفا کی بستی ” میں شامل ہے
وسطی فلسطین میں تقریباً سو کلو میٹر لمبا اور بیس سے پچیس کلومیٹر چوڑا ایک پہاڑی سلسلہ ہے جو شمال میں رام اللہ سے شروع ہو کر جنوب میں صحرائے نقب Negev اور مشرق میں بحیرہ مردار اور صحرائے یہودہ تک پھیلا ہوا ہے ۔
مغرب میں اس کی ڈھلوان غزہ کے ساحلی علاقوں تک جاتی ہے ۔
تاریخی اور سیاسی اعتبار سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ پرانا تاریخی اور متنازع پہاڑی سلسلہ ہے ۔ جو ہزاروں سال سے دنیا کے بڑے باشاہوں اور فاتحین کی نظروں کا مرکز رہا ہے ۔
بائبل کی چھٹی جلد “کتاب یشوع Book of Joshua ” کی رو سے یہ سارا علاقہ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے یہودا کی اولاد کے حصے میں آیا تھا ۔
مائیکل برینر نے اپنی کتاب “یہودیوں کی ایک مختصر تاریخ ” میں لکھا ہے کہ
“یہ پہاڑی سلسلہ جغرافیائی سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے 930 قبل مسیح میں شروع ہونے والی سلطنت یہودہ کا مرکز اور دل heartland تھا جو 586 قبل مسیح تک تقریباً ساڑھے تین سو سال تک قائم رہی ۔ “
Brenner, Michael (2010).
A short history of the Jews.
اس پہاڑی سلسلے کو تلال الخلیل (Judaean Hills ) کہتے ہیں ۔ یہ جبال الخليل ، ہیبرون ہلز ، جوڈین ماؤنٹین اور یہودہ پہاڑ کے ناموں سے بھی مشہور ہے ۔
اس سلسلے پر آباد سب سے بڑا شہر ہیبرون ( الخلیل ) ہے اور سب سے اونچی چوٹی ہیبرون شہر کے باہر حلحول کے قریب ہے جو تقریباً 1,020 میٹر ( 3366 فٹ ) اونچی ہے جس پر حضرت یونس علیہ السلام کا مقبرہ واقع ہے ۔ اس لئے اسے جبل نبی یونس بھی کہتے ہیں ۔
فلسطین کی سر زمین میں ریڑھ کی ہڈی کی حثیت رکھنے والا یہ پہاڑی سلسلہ تاریخی طور پر یروشلم سے الخلیل اور بئیر شبع تک کے سارے مقدس شہروں کو آپس میں جوڑتا ہے۔
یہودیوں کے چار میں سے تین مقدس ترین شہر ہیبرون (الخلیل) یروشلم اور صفد اور عیسائیوں کے تین مقدس ترین شہروں میں سے دو یروشلم اور بیت اللحم اور مسلمانوں کے دونوں مقدس شہر ہیبرون اور یروشلم اسی پہاڑی سلسلے پر واقع ہیں ۔
آج کل جوڈین ہلز کا زیادہ تر علاقہ ویسٹ بنک میں ہے جہاں فلسطینی عربوں کی تعداد نوے فیصد تک ہے ۔
یروشلم اس پہاڑی سلسلے کا مرکز ہے جس کے دو حصے ہیں ۔
مغربی یروشلم جو فصیل سے باہر جدید شہر ہے جبکہ مشرقی یروشلم یا قدیم یروشلم ایک اونچی فصیل کے اندر ایک قلعہ بند شہر ہے ۔
یروشلم کی تقسیم 1948 ء کی پہلی عرب اسرائیل جنگ کے بعد سے متنازعہ رہی ہے۔ مشرقی یروشلم فلسطینیوں کا دارالحکومت سمجھا جاتا ہے، جبکہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے
مشرقی یروشلم تین چوٹیوں اور دو وادیوں کا شہر ہے ۔
جبل زیتون Mount Olive :
شہر کے مشرق میں واقع چوٹی جبل زیتون کہلاتی ہے جس کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے ۔
جبل صہیون Mount Zion :
شہر کے جنوب میں واقع چوٹی جبل صہیون کہلاتی ہے ۔
الحرم الشریف Mount Temple :
جبل زیتون اور جبل صہیون کے درمیان والی پہاڑی ماؤنٹ ٹمپل یا حرم شریف ہے ۔اس پر مسجد اقصیٰ واقع ہے یہودیوں کے فسٹ ٹمپل اور سکینڈ ٹمپل بھی اسی چوٹی پر بنائے گئے تھے اس لئے اسے ٹمپل ماؤنٹ کہتے ہیں ۔
یہ تینوں چوٹیاں جوڈین ہلز کے مشرقی حصے میں واقع ہیں
ماؤنٹ اولیو اور ماؤنٹ ٹمپل کی درمیان وادی کو وادئ کیدرون Kidron Valley کہتے ہیں . جس میں یہودیوں کا قبرستان اور چند قدیم مقبرے واقع ہیں
اس کی تفصیل میری کتاب کے باب “ دنیا کا سب سے مہنگا قبرستان “ میں موجود ہے ۔
جبکہ ماؤنٹ ٹمپل اور ماؤنٹ زیون کی درمیانی نشیبی علاقے کو وادی الربابة “Tyropoeon Valley کہتے ہیں ۔
اس کاقدیم نام وادی ہنوم Valley of Hinnom تھا ۔
یہ وادی یہودیوں کے زمانے میں بت پرستی اور بچوں کی قربانی کی وجہ سے بدنام ہوئی۔ بعد میں عیسائیوں کے دور میں اس کا نام “Gehenna” روحانی عذاب اور آخرت کی جگہ کے تصور سے منسلک ہو گیا ۔
اسی لئے توریت میں اس کو “گی ہنوم Ge Hinnom “ جبکہ بائبل میں گی حنا Gehenna کہا گیا ہے ۔
اس وادی میں مشرقی یروشلم کا قدیم مضافاتی محلہ سلوان واقع ہے جس میں حضرت داؤد کے تعمیر کردہ قدیم یروشلم کے آثار قدیمہ ہیں ۔ جسے داؤد کا شہر City of David کہا جاتاہے ۔
بعض روایات کے مطابق حضرت داؤد کا مقبرہ بھی جبل صہیون پر ہے ۔
اپنی چار ہزار سالہ لمبی تاریخ میں
۔ 52 مرتبہ اس شہر پر حملہ ہوا
۔ 23 مرتبہ اس کا محاصرہ کیا گیا
۔ 44 مرتبہ اسے فتح کیا گیا
۔ 2 مرتبہ یہ شہر اس طرح تباہ و برباد ہوا کہ اس کے دوبارہ آباد ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی ۔ لیکن یہ پھر آباد ہوا اور ایسا آباد ہوا کہ ہر بار پہلے سے زیادہ شان وشوکت والا شہر بنا ۔
دنیا کے کسی اور شہر کے لئے شائید ہی کبھی اتنی زیادہ جنگیں لڑی گئی ہوں گی تاریخ کے ہر بڑے مہم جو اور فاتح نے یروشلم پر چڑھائی کی اسے فتح کرنے کی کوشش کی اور شہر کے باسیوں نے ان طالع آزماؤں کے خلاف مزاحمت کی داستانیں رقم کیں ۔ اس مزاحمت میں پہلے دن سے ہی اس کی حفاظتی فصیلوں
نے ہمیشہ سب سے اہم کردار اداکیا ۔ یہ شہر پہلے دن سے ہی ایک قلعہ بند شہر تھا اور اس کے گرد حفاظتی فصیلوں کی چار دیواری تھی ۔
وقت گزرا یہ شہر مختلف قوموں کی آمجگاہ بنا ، عروج وزوال کی کے کتنے ہی دور اس شہر پر گزرے۔ گردش دوراں نے اس شہر کے کئی روپ دیکھے اس کے کئی نام تاریخ کی کتابوں میں رقم ہیں ۔ شہر کے بدلتے روپ کے ساتھ ہی اس کی فصیل بھی تاریخ کے مدوجزر سے گزری لیکن
اس شہر کے ساتھ اگر کوئی اور چیز قائم رہی تو وہ اسکی فصیل تھی ۔ اور آج بھی یہ فصیل اس شہر کی شناخت کی سب سے نمایاں علامت اور پہچان ہے ۔
یروشلم شہر کی یہ تاریخی قلعہ بند دیوار Jerusalem City Walls) قدیم یروشلم کا مکمل طور پر احاطہ کرتی ہے۔
یہ فصیل نہ صرف ایک دفاعی ڈھانچہ ہے، بلکہ یروشلم کی ایک زندہ تاریخ بھی ہے جو کنعانی،


