یاد سے امید تک، درد سے تخلیق تک

یاد سے امید تک، درد سے تخلیق تک

“حبرون صرف ایک شہر نہیں ہے بلکہ اہل وفا کی وہ بستی ہے جس کا ہر باسی وفا کا رشتہ نبھا رہا ہے ۔ وہ روز اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتا ہے لیکن تیسرے درجے کے شہری کی زندگی گزارنے کے باوجود اس شہر سے اور اس سرزمین سے اپنا رشتہ توڑنے پر تیار نہیں ۔ اپنا سر نگوں کرنے پر رضامند نہیں ۔

ہیبرون اور یروشلم کے درمیان تیس پنتیس کلومیٹر کا یہ مختصر راستہ اسرائیل فلسطین تنازعے کی مکمل تصویر بیان کرتاہے اس میں ایک طرف تو فطرت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اپنی خوبصورتی اور دلکشی کے جلوے بکھیرتی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف حضرت انسان کے ظلم و ستم کی زندہ کہانیاں اس وادی میں جگہ جگہ بکھری نظر آتی ہیں ۔

یہ سفر محض ایک جغرافیائی سفر ہی نہیں ہے بلکہ اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کے درمیان کھنچی سیاسی اور نسلی تفریق کی لکیروں اور وادی میں پھیلی ہزاروں سال پر مشتمل کنعانی یہودی ، رومی اور اسلامی تاریخ اور تہذیبوں کا سفر بھی ہے ۔

اس سفر کے دوران آپ صرف باغات میں لدی جامنی اور سرخ انگوروں کی سبز بیلوں ، پتھریلی دیواروں سے جھانکتے سرخ انار سے بھرے درختوں ، پہاڑیوں کے ڈھلوان پر بکھرے سیڑھیوں کی طرز کے اونچے نیچے کھیتوں میں پھیلی سنہری گندم کے خوشوں ، انجیر کے درختوں کے گہرے سبز پتوں میں چھپے جامنی پھل ، سبز سے سیاہی میں بدلتے زیتون سے لدے درختوں اور پتھریلی زمین پر سبز سے سنہری ہوتی خزاں رسیدہ جھاڑیوں کے درمیان سے ہی نہیں گزرتے ہیں ۔

بلکہ آپ کا واسطہ جگہ جگہ بنی قلعہ نما چیک پوسٹوں ، انسانوں کو تقسیم کرنے والی بلند وبالا اونچی پتھریلی دیواروں ان پر پینٹ کی گئی گرافیتی آرٹ پر مبنی فلسطینی بے بسی اور بے چارگی کی تصویروں —

ہر 2-3 کلومیٹر بعد بنے مشاہدہ ٹاور watching towers , سڑک پر گشت کرتی فوج کی گاڑیوں ، سڑک پر جابجا لگے بئیریرز ، ان پر کھڑی خصوصی وردی والی بارڈر پولیس اور ان کے گستاخانہ اور توہین آمیزسلوک سے بھی پڑتا ہے ۔

ہماری بس بیت اللحم پہنچی تو گوش ایتصیون کی یہودی بستی پر قائم چیک پوائنٹ 300 پر ہماری بس روک لی گئی اور جب ایک خرانٹ سی شکل کا موٹا تازہ بڑی توند والا گنجا سارجنٹ تین چار نوجوان طالبعلم نما سپاہیوں کے جلو میں بس پر سوار ہوا تو بس میں ایک دم سے گہری خاموشی چھا گئی ہر کوئی سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا ۔ وہ اپنے ہاتھ میں پکڑے ڈنڈے سے مسلسل بس کے دروازے کو بجاتے ہوئے اپنی عقابی نگاہوں سے مسافروں کا جائزہ لے رہاتھا ۔
ابو ولید ( ہمارا گائیڈ) میرے پہلو میں بیٹھا تھا وہ اٹھ کر اس کے قریب گیا اور عبرانی میں اس سے کچھ کہنے لگا ۔ دونوں میں ایک مکالمہ ہوا جس پر چند لمحوں تک ہمیں گھورنے کے بعد وہ ہونٹوں پر ایک تحقیرانہ سی مسکراہٹ سجائے اپنے ہمراہئیوں سمیت بس سے نیچے اتر گیا ۔

ابو ولید بڑابڑاتاہواپھر میرے پہلو میں آبیٹھا ۔ اس کا موڈ خاصا خراب ہو گیا تھا میں اس سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا لیکن اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ کر خاموش رہا ۔

ڈرائیور نے بس آگے بڑھا دی ۔

یروشلم سے ہیبرون کافاصلہ یوں تو صرف تیس پنتیس کلومیٹر کا ہے جو عام حالات میں پچیس تیس منٹ میں طے ہو جانا چاہئے کیونکہ تین لینوں پر مشتمل شاہراہ 60 بہت کشادہ اور اچھی بنی ہے لیکن اس کے باوجود سکیورٹی چیک پوائنٹس کی وجہ سے ہیبرون پہنچنے میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے لگ سکتے ہیں ۔ کہیں بھی کسی بھی جگہ کسی بھی وقت آپ کو روک کر واپس جانے پر مجبور بھی کیا جا سکتاہے ۔

لیکن ہمیں بیت اللحم سے ہیبرون تک پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں ہی ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا اس دیری کی وجہ الخلیل کی نواحی بستی اشکول میں قائم چیک پوائنٹ 35 تھی جس پر الخلیل جانے والے سیاحوں کی بسوں کی ایک لمبی قطار لگی تھی ۔ ابو ولید ہم سب کے پاسپورٹ لے کر بس سے نیچے اتر گیا اور سڑک کے دائیں کنارے بنے آفس کے کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا جہاں اس جیسے بہت سے ٹورسٹ گائیڈ اپنی اپنی بسوں کے مسافروں کے پاسپورٹ لئے سیکورٹی کلئیرنس کے لئے قطار میں کھڑے تھے ۔ ہم لوگ بس میں بیٹھے انتظار کرتے رہے خدا خدا کر کے آخر کار آدھے گھنٹے کے بعد وہ واپس آیا اور سخت سیکورٹی چیکنگ سے گزر کر ہم بالآخر ہیبرون کی حدود میں داخل ہو گئے ۔ اس شہر میں سڑکوں پر ہر طرف عبرانی زبان میں ہی نشانات اور ہدایات لکھی نظر آرہی تھیں کہیں کہیں انگلش بھی نظر آئی لیکن عربی کا کہیں موجود نہیں تھا ۔ میں نے ابو ولید سے اس کے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ کہ آج سے دس پندرہ سال پہلے تک سب نشان عربی میں ہی تھے لیکن انہوں نے دانستہ طور اس شہر سے ہر وہ نشان مٹانے کی کوشش کی ہے جو عربی اورمسلمانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔ یہ کہ کر اس نے اس طرح منہ بنایا جیسے کوئی کڑوی گولی نگل لی ہو ۔

ہیبرون میں ہماری پہلی منزل شارع راشدہ پر واقع “تعاونية سيدات الخليل “ Hebron Women’s Cooperative for Handicrafts
تھی یہ ایک دکان ہے جو الخلیل شہر میں خواتین کی سرکردگی میں چلنے والے ایک فلاحی بہبود کے منصوبے کا حصہ ہے۔ جس میں مقامی خواتین کے ہاتھ کی تیار کدہ مصنوعات اور اشیاء فروخت کی جاتی ہیں اور اس کی آمدنی کو مقامی خواتین اور ان کے خاندانوں کی فلاح وبہبود کے لئے استعمال کیا جاتاہے ۔

اس تنظیم کا نعرہ ہے ۔

“من إبرة الخياطة إلى استقلالية المرأة”
(سلائی کی سوئی سے عورت کی خودمختاری تک)

الخلیل میں ایسے کئی رفاعی ادارے قائم ہیں جو اپنی مدد آپ کے تحت شہر میں اسرائیلی حکومت کے ظلم وستم کا شکار افراد کے لئے کام کرتے ہیں ۔

ایک ایسا ہی ادارہ “الخيمة الفلسطينية”ہے جو شہیدوں کے اہل خانہ کی مدد کا فریضہ سر انجام دیتا ہے۔

اس ادارے کا نعرہ ہے ۔

Recent Blog Items