ہزار فن احمد چلیبی

ہزار فن احمد چلیبی

Hezârfen Ahmed Çelebi

دنیا کا پہلا ہواباز

First Bird man in the history of humankind

زیر نظر مضمون میری کتاب “ زبان یار من ترکی “ کا حصہ ہے

جون ۱۶۳۲ء جمعہ کا دن تھا۔

سارا قسطنطنیہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد آبنائے فاسفورس کے دونوں کناروں پر جمع تھا۔

بیمار اور اپاہج لوگوں کو چھوڑ کر شائد ہی شہر کا کوئی باسی ایسا بچاہو ۔ جو آج یہاں موجود نہ تھا۔ قسطنطینہ کے ضلع پیرا (گلاٹا) کی گلیوں میں ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے تھے ۔

بیس سالہ عثمانی خلیفہ مراد رابع بھی اپنی ماں کوسم سلطان کے ساتھ قسطنطنیہ کے یورپی کنارے پر واقع سرائے بورنو میں سنان پاشا کے محل کی چھت پر موجود تھا ۔

عورت ،مرد ،بچہ ، بوڑھا ہر کوئی بڑی بیتابی سے گلاٹا ٹاور کے طرف دیکھ رہا تھا۔

جہاں تئیس سالہ ہزار فن احمد چلیبی اپنے بڑے بھائی لگاری حسن چلیبی کے ساتھ گلاٹا ٹاور کی چھت پر کھڑا تھا ۔ احمد چلیبی نے اپنے بازوؤں اور جسم کے ساتھ پرندوں کے پروں جیسی فلائنگ مشین باندھ رکھی تھی۔

اس کی نظریں بےقراری سے گولڈن ہارن کے دوسرے کنارے پر موجود سلطان مراد پر لگی تھیں۔ اس نے آج کے دن کے لئے بڑی محنت کی تھی ۔ وہ پچھلے سات سال سے پرندے کی طرح ہوا میں اڑنے کے خواب دیکھ رہا تھا ۔

اس نے ہزاروں نقشے بنائے تھے ۔ اس نے کئی ہفتوں اور مہنیوں تک عباس بن فرناس اور لیونارڈو ونچی Leonardo da Vinci کے بنائے نقشوں کا مطالعہ کیا تھا۔ اس کا ہیرو وہ ترک اسماعیل جوہریI smail Cevheri تھا ۔ جو ۱۰۰۸ء میں پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے کی مشق کرتے ہوئے نیشا پور کی ایک مسجد کی چھت سے گر کر ہلاک ہو گیا تھا۔ اس نے اسماعیل کے بنائے ماڈل میں کئی تبدیلیاں کی تھیں ۔

اس نے گھنٹوں پرندوں کے اڑنے کے عمل کا مشاہدہ کیا تھا ۔ درجنوں بار اپنے سدھائے ہوئے شاہین کی پرواز کی تکنیک Aerodynamics کا بغورمطالعہ کیا تھا۔ کئی مہینوں تک اس نے اپنے اس پالتو شاہین کے پروں کا معائنہ کیا تھا ۔ تب جا کر اس نے عقاب کے پروں جیسے دو پر اپنے وزن اور جسامت کے مطابق تیار کیے تھے ۔ اس نے اپنے جسم کو چوٹ سے بچانے کے لئے خاص لباس بنایا تھا۔ پچھلے کئی مہینوں سے وہ اپنے جسم کے ساتھ یہ پر باندھ کر اڑنے کی مشق کر رہا تھا ۔ نو بار اسے اپنی ان کوششوں میں ناکامی ہو چکی تھی ۔ لیکن وہ حوصلہ نہیں ہارا تھا۔ اس کا عزم اس کی طرح جوان تھا اور آج ایک بار پھر وہ استنبول کے ہزاروں باسیوں کے سامنے پرندوں کی طرح اڑنے کا مظاہر ہ کرنے جا رہاتھا۔ جیسے ہی سلطان نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پرچم نیچے کیا۔ احمد چلیبی نے گہری سانس بھری ، ایک نظر نیچے کھڑے ہزاروں تماشائیوں پر ڈالی ان میں کچھ اس کے نام کے نعرے لگا رہے تھے ۔ لیکن اکثریت بڑی حیرت اور تعجب سے یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی ۔ ان کا غالب گمان تھا کہ ہزاروں فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگا نے کے بعد ابھی اسی کوشش میں اس پاگل سائنسدان کی ہڈیاں تک سرما بن جائیں گی ۔ سلطان کا اشارہ پاتے ہی حسن چلیبی نے اپنے بھائی کو گلاٹا ٹاور سے نیچے دھکا دیا۔ وہ تیزی سے نیچے گرنے لگا ۔ اسکا دل ڈوبنے لگا ۔ خوف اور امید کی ملی جلی کفیات کے ساتھ اس نے اپنے بازوؤں کو پرندوں کی مانند اوپر نیچے حرکت دیتے ہوئے اپنے جسم سے بندھے پر کئی بار پھڑپھڑائے اور سات آٹھ بار کوشش کرنے کے بعد وہ نیچے گرنے کی بجائے کسی بڑے پرندے کی مانند ہوا میں تیرنے لگا ۔ اس کا وہ خواب جس کے لئے اس نے دن رات ایک کر دئیے تھے ۔ پورا ہو گیا ۔ وہ پرندوں کی طرح ہوا میں اڑ رہاتھا۔

چھ دیر وہ ہوا میں تیرتا رہا اور پھر آبنائے باسفورس کے اوپر سے اڑتا ہوا تقریباً ساڑھے تین کلو میٹر (۳۳۵۸ میٹر ) کا فاصلہ طے کرکے اسکو دور Üsküdar کے ایک محلے ڈوگن کلئیر Doğancılar میں ایک میدان کے اندر بحفاظت اتر گیا۔ اس کی اس پرواز کا دورانیہ پندرہ سے بیس منٹ تھا۔

ڈوگن کلئیر اسکو دور کا سب سے اونچا علاقہ ہے اور آجکل یہاں ایک پارک بنایا گیا ہے جہاں احمد چلیبی نے لینڈ کیا تھا۔ اور یوں وہ دنیا کا پہلا شخص بن گیا جس نے سپین کے عباس بن فرناس اور نیشا پور کے اسماعیل جوہری کی بنائی ہوئی بغیر انجن کی فلائنگ مشین (گلائیڈر ) کو بہتر بنایا اور پرندوں کے پروں کی شکل والی اس مشین کی مدد سے پہلی کامیاب پرواز کی ۔

مغربی تاریخ دان اسے 1 first bird man in the history of the mankind کے نام سے پکارتے ہیں ۔

یہ دنیا کی پہلی بین البراعظمی intercontinental فلائٹ بھی تھی ۔ کیونکہ اس نے استنبول کے یورپی حصے سے پرواز کا آغاز کیا تھا اور استنبول کے ایشیائی حصے میں لینڈ کیا تھا ۔

اگلے دن احمد چلیبی کے لئے خاص طور پر ٹوپ کاپی محل میں دربار سجایا گیا ۔ خلیفہ مراد رابع نے سونے کے سکوں سے بھری بوری اسے انعام میں دی ۔

لیکن کچھ ہی مہینوں کے بعد اس نے احمد چلیبی کو یہ کہتے ہوئے جلا وطن کرنے کا حکم دے دیا ۔

“ایسے انسان سے ڈرنا چائیے کیونکہ وہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے ۔ ایسے انسانوں کو یہاں رہنے کی اجازت نہیں ہونی چائییے ۔ “

احمد چلیبی الجزائر چلا گیا ۔اور وہیں جلاوطنی کی حالت میں ہی اس کی موت واقع ہوگئی ۔

گلاٹا ٹاور کے ساتویں درجے پر آج بھی جھروکے میں اس جگہ ایک تختی لگی ہے جہاں سے چھلانگ لگا کر اس نے یہ تاریخ رقم کی تھی ۔ گلاٹا ٹاور کے میوزیم میں اس کے بنائے ہوئے گلائیڈر کے ماڈل کے ساتھ ہی اولیاء چلیبی کی کتاب بھی رکھی ہے ۔ جس میں اولیاء نے احمد چلیبی کے اس تاریخ ساز کارنامے کا چشم دید منظر بیان کیا ہے ۔

اولیاء کی عمر اس وقت اکیس سال تھی اور وہ خود بھی اس ہجوم میں شامل تھا۔

Recent Blog Items