مقام نبی سموئیل اور اوسلو اکارڈ
“یہ مضمون میری آنے والی کتاب
“اہل وفا کی بستی “ میں شامل ہے
جو فلسطین اور اسرائیل کا سفر نامہ ہے “
ہم حطین جانے کے لئے ہوٹل سے باہر نکلے تو جبل زیتون کے پیچھے سے طلوع ہونے والا سورج کافی بلندی پر آچکا تھا ۔ فضا میں تمازت خاصی بڑھ گئی تھی لیکن ناگوار محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔ شہر میں بڑی ہل چل تھی گو کہ یہودیوں کے سالانہ تہوار “ روش ہشانہ “ کی عام تعطیلات ختم ہو چکی تھیں لیکن سال نو کے بعد والے تہوارکی تقریبات ابھی جاری تھا اس تہوار کو عشرہ یامی تیوبہ” (10 دن کی توبہ) کہتے ہیں
جس کا اختتام یوم کپور پر ہوتاہے ۔ ان دنوں میں یہودی روزے رکھتے ہیں ۔ آج ان کا آٹھ واں روزہ اور دو دن بعد یوم کپور تھا ۔
شہر کے داخلی راستوں پر بڑی بڑی بسوں کی آمدورفت جاری تھی جو ٹریفک میں تعطل کا باعث بن رہی تھیں ۔ اِن میں اُن یہودیوں کی تعداد غالب تھی جو غیر قانونی طور پر بسائی گئی نئی کالونیوں کے رہنے والے تھے ۔اور انہیں ہر سال سرکاری خرچے پر ایسے تہواروں کے لئے خاص طور پر یروشلم لایا جاتا ہے اس لئے وہ دور سے ہی پہچانے جاتے تھے یوں لگتا جیسے پینڈو پہلی بار شہر آیا ہو اورشہر کی چکا چوند سے اس کی آنکھیں چندیا گئی ہوں ۔
شہر بھر میں یہ اشکنازی یہودی ٹولیوں کی شکل میں ایسے بگل نما سینگ بجاتے پھرتے تھے جسے “شوفار Shofar” کہا جاتا ہے ۔ شوفار عام طور ہو گائے یا مینڈھے کے سینگ سے بنایا جاتا تھا ۔ شوفار کو یہودی مذہبی تقریبات، خاص طور پر روش ہشانہ (یہودی نیا سال)اور یوم کپور
(کفارہ کا دن)پر بجایا جاتا ہے ۔
روش ہشانہ کے موقع پر شوفار بجانا اس لئے ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ توبہ اور نئے آغاز کی علامت ہے .
جبکہ یوم کپور جو یہودیوں کا سب سے مقدس دن ہے اس پر شوفار (یوم استغفار) کی آواز سے عبادت کا اختتام ہوتا ہے ۔
اس کا استعمال تاریخی طور پر جنگوں میں اشارہ دینے یا اجتماعات کو بلانے کے لیے بھی ہوتا تھا۔ اور عام طور پر یہ کینسا سے باہر یہودیوں کی عبادت شروع کرنے سے پہلے بجایا جاتا ہے ۔ یہودی روایات کے مطابق، شوفار خدا کی طرف سے دی گئی ہدایت یا انتباه کی علامت ہے۔ اسے تورات میں بہت مقدس اہمیت حاصل ہے اور یہودی اس اس کو بجانا باعث ثواب سمجھتے ہیں ۔ شوفار کی آواز کو “اللہ کی پکار”سمجھا جاتا ہے، جو لوگوں کو توبہ اور عبادت کی طرف بلاتی ہے۔
یہودی عقیدے کے مطابق شوفار کی آواز قیامت کی یاد دہانی بھی ہے، جیسے اسلامی عقیدے میں اسرافیل علیہ السلام کا صور پھونکنا .
کچھ یہودی گروہوں کا خیال ہے کہ شوفار کی آواز مسیحا کے آنے کی علامت ہے ۔
اسلامی روایات میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ جب مسلمان مدینہ آئے تو بعض صحابہ نے نماز کے وقت بلانے کے لیے یہودیوں کے “قرن” (شوفار) جیسا طریقہ اپنانے کی تجویز دی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا اور اذان کا نظام رائج ہوا ۔
عبرانی میں روش ہسانہ Rosh Hashanah کا مطلب ہے
” سال کا سر “ اور یہ یہودی کیلنڈر کے پہلے مہینے “تشری” (Tishrei) کی پہلی اور دوسری تاریخ کو منایا جاتا ہے ۔ اس طرح یہودی روحانی طریقے سے اپنے نئے سال کاآغاز کرتے ہیں جس میں توبہ، دعا، شوفار کی آواز اور میٹھے کھانوں کے ذریعے اللہ کی رحمت طلب کی جاتی ہے۔ یہ تہوار 10 دن تک جاری رہتا ہے، جو یوم کپور پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
یہودی روایات کے مطابق روش ہشانہ دنیا کی تخلیق کا دن ہے، اسے خاص طور پر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا دن سمجھا جاتا ہے۔
اسے “یوم الدین” (یومِ عدالت) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہودی عقیدے کے مطابق اس دن اللہ انسانوں کے اعمال کا حساب کرتے ہیں اور آنے والے سال کے لیے فیصلے لکھے جاتے ہیں۔
• یہ “عشرہ یامی تیوبہ” (دس دنوں کی توبہ)کا آغاز ہے، جو یوم کپور (یوم الغفران)پر ختم ہوتا ہے۔
اس دن خاص تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔
100 (یا کم از کم 30) مرتبہ شوفار بجایا جاتا ہے جو توبہ اور اللہ کی طرف رجوع کی علامت ہے۔ شوفار کی آواز کو “نیند سے بیداری”کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اور خصوصی دعاؤں کااہتمام کیا جاتا ہے ۔ جس کے لئے “مخزور روش ہشانہ” نامی دعائیہ کتاب استعمال کی جاتی ہے۔
اور دریاؤں یا پانی کے کنارے گناہوں کو پانی میں پھینکنے کی علامتی رسم اداکی جاتی ہے جسے تاشلیخ” کہتے ہیں
دن کا آغاز شہد میں ڈوبی سیب کھا کر ہوتاہے اور میٹھے نئے سال کی دعا کی جاتی ہے۔
گاجر کا حلوہ، مچھلی کا سر اور انار جیسی چیزیں کھائی جاتی ہیں ۔ یہودی مذہب میں انار کے علامتی معنی ہیں ۔ مثلاً انار کے 613 بیج تورات کے 613 احکامات کی علامت ہیں ۔
لوگ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں دیتے ہیں اور عید مبارک کی طرح کے تہینیتی کارڈ بھیجتے ہیں ۔
جس پر “لشانہ تواہ تیکا تیو” (آپ کا نام اچھے سال کے لیے لکھا جائے) درج ہوتا ہے ۔
کچھ مسلمان یکم محرم الحرام کو روش ہشانہ کی طرح اسلامی نئے سال کے آغاز کے طور پر مناتے ہیں لیکن یہودیوں کا نیا سال (روش ہشانہ) عموماً ستمبر یا اکتوبر میں آتا ہے۔
جبکہ یوم کپور کا موازنہ یومِ عاشوراء ( 10 محرم) سے کیا جا سکتا ہے
روش ہسانہ کے بعد یہودی دس دن تک روزے رکھتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں ان دس دنوں عشرہ یامی تیوبہ” (10 دن کی توبہ) کا اختتام یوم کپور پر ہوتاہے ۔
یوم کپورYom Kippur یہودی مذہب کا سب سے مقدس دن ہے، جسے “ یومِ کفارہ” یا “ یومِ مغفرت”بھی کہا جاتا ہے۔
عبرانی بائبل کی دوسری جلد “کتاب خروج Book of Exudes “ کے مطابق جب حضرت موسٰی کوہ طور سے واپس آئے تو انہوں نے یہودیوں کو گائے کے بچھڑے کی عبادت کرتے پایا جس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ لائی دس پتھر کی تختیاں (الواح
موسیٰ (Ten Commandments ) توڑ دیں۔


