فصیل کے دروازوں کے آس پاس ہیروڈ گیٹ اور راکفیلر آوکیالوجیکل میوزیم

فصیل کے دروازوں کے آس پاس

ہیروڈ گیٹ اور راکفیلر آوکیالوجیکل میوزیم

‎یہ تحریر میری آنے والی کتاب “ اہل وفا کی بستی “ میں شامل ہے جو فلسطین کا سفر نامہ ہے ۔”

عین جالوت سے واپس آتے ہوئے رستے میں ابو خالد نے مجھ سے پوچھا ۔

“ڈاکٹر کیا آپ لوگوں نے یروشلم شہر کی فصیل کے گرد چکر لگایا ہے ۔”

میں نے نفی میں سر ہلایا تو کہنے لگا کہ

“ یروشلم شہر کی سیر اس وقت تک مکمل نہں ہوتی جب تک آپ
پیدل فصیل کے ساتھ ساتھ شہر کے گرد چکر نہیں لگا لیتے۔ “
“کیا یہ ممکن ہے ۔ “

میں نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔

“بالکل ممکن ہے اور یہی اس شہر کو جاننے کا بہترین ذریعہ ہے اس طرح آپ شہر کے تمام دروازوں کی بھی سیر کرسکتے ہیں
آپ کسی ایک دروازے سے اپنے اس سفر کا آغاز کریں اوردیوار کے ساتھ ساتھ دائرے کی شکل میں سفر کرتے ہوئے واپس وہیں پہنچ جائیں گے ۔ آپ اس دیوار کے اوپر بھی ریمپارٹ واک کر سکتے ہیں “۔

پھر اس نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ

“یروشلم شہر میں داخلے کے لئے کل آٹھ دروازے ہیں۔ جن میں سات دروازے آج بھی زیر استعمال ہیں جبکہ ایک دروازہ پچھلے پانچ سو سال سے مستقل طور پر بند ہے۔

یہ تمام دروازے شہر کے مختلف تاریخی ادوار کی عکاسی کرتے ہیں اور ہر دروازے کا اپنا ایک منفرد جداگانہ ، تاریخی اور ثقافتی پس منظر ہے ۔

یروشلم کے یہ دروازے صرف شہر کے داخلی راستے نہیں ہیں بلکہ اس کی متنوع اور دلچسپ تاریخ، ثقافت اور مذہبی اہمیت کی علامت بھی ہیں۔”
“اس میں کتنی دیر لگتی ہے “۔

میں نے استفسار کیا تو وہ سوچنے کے سے انداز میں کچھ توقف کرتے ہوئے بولا کہ

“بہتر ہے آپ لوگ ایک پورا دن اس کے لئے رکھیں ۔ آپ کو اس میں چار سے پانچ گھنٹے آسانی سے لگ جائیں گے ۔ ہر دروازے کی اپنی علیحدہ کہانی ہے ۔ اپنا ایک منفرد قصہ ہے جو زمانے کے ساتھ چلا آ رہا ہے۔ یروشلم کا ہر تاریخی مقام کسی نہ کسی دروازے سے جڑا ہے اور یروشلم شہر کی تاریخ کا ہر واقعہ کسی نہ
کسی دروازے سے نسبت رکھتا ہے ۔ یروشلم شہر کو جاننے کا اس سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں ۔

میرامشورہ ہے کہ آپ یہ دونوں تجربات کریں ۔ پہلے ایک دن پیدل شہر کے باہر دیوار کے گرد چکر لگائیں اور دوسرے دن دیوار کے اوپر ریمپٹ واک کریں جس میں آپ کو دو سے تین گھنٹے لگیں گے ۔ اگر آپ چاہئیں تو میں آپ کے لئے ٹورسٹ گائیڈ کا بھی بندوبست کر سکتا ہوں ۔ “

اور ہم نے اس کا مشورہ پلے باندھ لیا اور اگلے ہی روز کچھ ضروری تیاری کرکے علی الصبح ناشتے کے فوراً بعد اپنے ارادے کو عمل جامہ پہنانے کے لئے نکل کھڑے ہوئے ۔

ہمارا ہوٹل گولڈن وال ہوٹل پرانے یروشلم شہر کے باہر دمشقی دروازے اور ہیروڈ گیٹ کے درمیان سلطان سلیمان سٹریٹ پر واقع تھا ۔

ہم نے ہیروڈ گیٹ سے اپنے سفر کا آغاز کرنے کا ارادہ کیا اور سٹرک پار کر کے ہیروڈ گیٹ کے سامنے بنے پارک میں پہنچ گئے ۔ صبح کے آٹھ بجے تھے ۔ یروشلم شہر کی سہانی صبح کی دلکشی اپنے عروج پر تھی پارک میں کئی فسطینی جوانوں کی ٹولیاں بینچوں پر بیٹھی اس خوبصورت موسم سے لطف اندوز ہو رہی تھیں ایک طرف چند لڑکیاں بھی فصیل کے سائے میں گھاس پر بیٹھی تھیں ۔

ہیروڈ گیٹ ہمارے لئے نیا نہیں تھا ہم پچھلے دس دنوں سے روز دن میں دو تین بار اس سے گزر کر مسجد اقصیٰ جایا کرتے تھے لیکن ہم نے کبھی رک کر اس کا تفصیلی جائزہ لینے کی کوشش نہیں تھی ۔ مگر آج جب دروازوں کی سیر کے حوالے سے نکلے اور اس دروازے کے کھلے گیٹ کے سامنے کھڑے ہوئے تو مجھے ابو خالد کے مشورے کی افادیت کا اندازہ ہوا ۔ اگر وہ مشورہ نہ دیتا تو شائد ہم چند روز اور بھی اسی طرح گزار دیتے لیکن کبھی اسے اس تفصیل سے نہ دیکھتے ۔ اور نہ کبھی اس کے بارے میں جان پاتے ۔

1- ہیرودز گیٹ (باب الساھرہ):

شہر کے شمال مشرقی حصے میں واقع یہ گیٹ مسلم کوارٹرز کو بیرونی محلوں سے ملاتا ہے ۔
اور دمشقی دروازے سے چند سو میٹر کے فاصلے پر مشرق کی جانب واقع ہے .

یہ دروازہ دراصل ایک بڑے برج (ٹاور) میں کھلتا ہے۔ اور شہر کے دوسرے دروازوں کی نسبت چھوٹا اور بہت سادہ ہے ۔

بیرونی جانب اس پر ایک نوکیلی محراب (pointed arch) بنی ہے جس کے اوپر ایک پتھر کا پھول (stone rosette) کھدا ہوا ہے شائد اس کی وجہ سے اسے “پھولوں کا دروازہ” باب الزہرہ بھی کہا جاتا ہے ۔

دروازے کے بعد ایک ڈیوڑھی سے گزرنا پڑتا ہے جو مسلم کواٹرز کے کے محلہ سعدیہ میں کھلتی ہے ۔ جہاں سے مختلف گلیاں مسجد اقصیٰ کی طرف نکلتی ہیں ۔
دروازے میں داخل ہوتے ہی دائیں جانب ایک بند گلی کے اختتام پر کوئی سو میٹر کے فاصلے پر زاویہ ہندی ہے جو بابا فرید گنج شکر کے حوالے سے جانا جاتاہے
اس کا مکمل احوال میں میری اسی کتاب کے باب “ زاویہ ہندی ۔ یروشلم میں بابا فرید کی سرائے “
میں موجود ہے ۔

دروازے کے بالکل باہر سلطان سلیمان سڑیٹ کے پار والے فلسطینی محلے کو باب الزاہرہ (Bab az-Zahra) کہتے ہیں جس میں ہمارا ہوٹل واقع تھا ۔
گیٹ کے بالکل سامنے سلطان سلیمان روڈ پر ایک بڑا چوک ہے جس سے صلاح الدین سٹریٹ نکلتی ہے جو محلہ باب الزاہرہ سے گزرتی ہوئی نابلس روڈ سے جاملتی ہے ۔ صلاح الدین کے نام سے ایک بڑی مشہور ہائی وے ( طریق صلاح الدین ) غزہ میں بھی ہے ۔ پنتالیس کلومیٹر لمبی یہ سڑک اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر واقع ایرز کراسنگ Erez Crossing سے شروع ہوتی ہے اور پورے غزہ سے گزرتی ہوئی رفح کراسنگ کے ذریعے اسے مصر سے ملاتی ہے ۔

دروازے سے متصل ٹاور کو برج اللقلق (Burj al-Luqluq) یا سٹورک ٹاور (Stork Tower) کہا جاتا ہے، یہ ٹاور 1537 ء میں شہر کی دیواروں کی تعمیر کے دوران

Recent Blog Items