آج کا دن
یکم اگست 1326ء
عثمان خان غازی
سلطنت عثمانیہ کے بانی کا یوم وفات ہے ۔
میری کتاب ” زبان یار من ترکی “ کا ایک باب
عثمان غازی کی فوجوں کو برصہ کے قلعے کا محاصرہ کئے ہوئے نو سال ہوگئے تھے لیکن دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی شکست ماننے کو تیار
نہیں تھا
ترکوں نے پہلی مرتبہ اتنے بڑے اور مضبوط قلعے کا محاصرہ کیا تھا ان کے پاس قلعے کی دیواریں توڑنے کے لئے
منجبیقوں اور دوسرے ضروری ساز و سامان کی نہ صرف شدید کمی تھی بلکہ ماہر افراد کی موجودگی بھی میسر نہ تھی
قلعہ ایک اونچی پہاڑی پر واقع تھا
اور قسطنطنیہ کے بعد بزنطینی سلطنت کا دوسرا بڑا اور مضبوط ترین فوجی مستقر تھا
عثمان غازی بیمار پڑ گیا پاؤں کی شدید تکلیف کی وجہ سے چلنا پھرنا محال ہو گیا وہ سارا دن اپنے خیمے کے باہر اپنے بستر پر لیٹا قلعے کے باہر پہاڑ کی چوٹی پر بنے چرچ کے اس
نقرئی گنبد( Silver Dome )کو دیکھتا رہتا جو چاندی اور سیسے کا بنا ہوا تھا اور سورج کی شعائیں پڑنے پر چمک اٹھتا تھا
ایک دن اس نے اور خان غازی سے کہا کہ وہ اس وقت تک مرنا نہیں چاہتا جب تک برصہ فتح نہ ہو جائے اور جب وہ مر جائے تو اسے اس
چمکنے والے گنبد کے اندر دفن کیا جائے
موسم سرما شروع ہوا سردی بڑھ گئی اورعثمان غازی کا
گٹھیا (Gout ) کا مرض بھی شدت پکڑ گیا تو اورخان غازی نے اپنے باپ کو سوغوت منتقل کر دیا
بالآخر 6 اپریل 1326ء کے دن برصہ والوں کے حوصلے جواب دے گئےاور برصہ کے کماندار اور قلعہ دار ساروز نے یتھیار ڈال کر برصہ اورخان غازی کے حوالے کر دیا
اور خان یہ خبر لے کر سب سے پہلے سوغوت میں اپنے باپ کی خدمت میں پہنچا اور اسے برصہ کی فتح کی خبر سنائی
اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد عثمان غازی چل بسا اور اس کی میت کو برصہ لے جا کر اس نقرئی گنبد (Silver Dome ) کے نیچے دفن کیا گیا
عاشق پاشا زادہ (Aşıkpaşazade) نے اپنی کتاب “تواریخ العثمان “ میں بڑی تفصیل سے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے مزید لکھا ہے کہ گاؤٹ عثمانی سلا طین کی خاندانی بیماری تھی اور تقریباً تمام ہی سلطان اس بیماری کا شکار رہے اس نے عثمان غازی کی تاریخ وفات اکیس رمضان اکیس اگست 1326ء بیان کی ہے
لیکن زیادہ تر تاریخ دانوں نے یکم اگست کو اس کا یوم وفات قرار دیا ہے ۔
عثمان غازی ارطغرل غازی کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا اس کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے وہ غالباً 1254ء کو سوغوت میں پیدا ہوا اس کی ماں کا نام حلیمہ خاتون تھا جو سلجوقی سلطان علاؤالدین کیقباد کی بھتیجی تھی
عثمان کو 1282ء میں ارطغرل غازی کی وفات کے بعد کائی قبیلے کی سرداری کے لئے اپنے چچا دندار بے سے مقابلہ کرنا پڑا
ارطغرل غازی نے سوغوت میں ایک چند مربع میل کی چھوٹی سی جاگیر چھوڑی تھی جو دراصل سلجوقی سلطنت کا حصہ تھی عثمان نے بہت سے بزنطینی علاقے فتح کر کے اپنے باپ کی اس چھوٹی سی جاگیر کو ایک ریاست میں بدل دیا
سلجوقی سلطنت کی زبوں حالی اور طوائف الملوکی کی بدولت وہ جب چاہتا اپنی آزاد ریاست بنا سکتا تھا
لیکن اپنے باپ کی وصیت کے مطابق جب تک سلطنت سلجوق قائم رہی عثمان غازی سلجوقوں کا وفادار رہا
اور جب 1296ء میں منگولوں کے ہاتھوں سلطنت سلجوق کا خاتمہ ہو گیا
تو 1298/99ء میں اس نے اپنی آزاد ریاست کا اعلان کر دیا اور کراچہ حصار، بیلجک، اور یینی شہر کو فتح کر کے سلطنت عثمانیہ کی داغ بیل ڈالی ۔
اور یوں اس چھوٹی سی ریاست نے آنے والے چند سو سالوں میں تین براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دنیا کی سپر پاور بن گئی
سلطنت سلجوق ٹوٹی تو چھوٹی چھوٹی درجن بھر ریاستوں میں تقسیم ہوگئی یہ سب ریاستیں مختلف ترک قبائل کے زیر تسلط تھیں ان ریاستوں کے ترک حکمرانوں کو بے کہتے تھے
اور یہ ریاستیں بےلک Beylick کہلاتی تھیں
عثمان خان کی ریاست بھی انہیں میں سے ایک تھی
جو تین اطراف سے بزنطینی سلطنت میں گھری ہوئی تھی
اس کا مقابلہ صرف طاقتور بزنطینی سلطنت سے ہی نہیں تھا بلکہ اسے اپنی زیادہ تونائیاں ان ترک حکمرانوں کے خلاف استعمال کرنی پڑیں جو
ہر وقت ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کر کے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف رہتے تھے اور انہیں متحد کرنا
جوۓ شیر لانے کے مترادف تھا
اس کی مقناطیسی شخصیت قائدانہ صلاحیتوں دلیرانہ انداز اور انصاف پسند طبیعیت کی بناء پر انا طولیہ کے بکھرے ترک اس کے گرد اکٹھے ہونے لگے اور بہت جلد وہ تمام ترک قبائیل اور ریاستوں کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوگیا ۔
اب اس کا مقابلہ بزنطینی سلطنت سے تھا اور یہی اس کا اصل حدف بھی تھا
قسطنطنیہ کی بزنطینی سلطنت کو بھی اپنی مشرقی سرحدوں پر عثمان غازی کی صورت میں موجود اس خطرے کا بخوبی اندازہ تھا
عثمان غازی نے جلد ہی سوغوت کے اردگرد واقع بزنطینی قلعے اور علاقے فتح کر لئے جن میں
بلجیک Bilecik
اسکی حصار Yenişehir،
یارحصار Yarhisar ،
آنی گول İnegöl اور کولوکا حصار Kulucahisar کے قلعے شامل تھے
1301 ء میں عثمان نے نیسیا Nicaea کا محاصرہ کیا جو پروسا کا دارلحکومت تھا اور بہت مشہور اور اہم بزنطینی عسکری چھاؤنی تھی
تو بزنطینی حکمران مائیکل ہفتم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے فیصلہ کن جنگ لڑنے اور عثمان غازی کے بڑھتے قدم روکنے کے لئے ایک بڑی فوج بھیجی
اور ستائیس جولائی 1302 ء کو بحیرہ مامورا کے کنارے واقع اہم سمندری بندرگاہ اور فوجی مستقر
نکو میڈیا Nicomedia کے قریب دونوں فوجوں کا ٹکراؤ ہواجس میں پچیس ہزار کے قریب بزنطینی لشکر پانچ ہزار ترکوں کے مدمقابل تھا
اسے باسفورس کی جنگ Battle of Bapheus کہتے ہیں
اس جنگ میں ترکوں کی فیصلہ کن فتح نے اناطولیہ کی قسمت کا فیصلہ کر دیا
آبنائے باسفورس اور بحیرہ مامورا کے مشرقی حصے پر مشتمل ترکی کو اناطولیہ کہتے ہیں ۔
یہ عثمان غازی کی بزنطینی سلطنت کے خلاف سب سے بڑی فتح بھی سمجھی جاتی ہے
اس جنگ میں عبرت ناک


