صحرائے یہودا اور سرخ شاہراہ
قسط نمبر۱
جبل زیتون یروشلم کے مضافات میں الطور At-Tur کے علاقے میں واقع ہے ۔ اس محلے میں عربوں اور فلسطینیوں کی اکثریت ہے ۔ اور یہ علاقہ مشرقی (پرانے ) یروشلم کا حصہ ہے ۔
تل ابیب سے آنے والی مرکزی ہائی وے ون (Highway 1) الطور سے گذرتی ہوئی مقام نبی موسیٰ ، جیریکو کی طرف جاتی ہے۔
یروشلم اور بحیرہ مردار کے درمیان ایک مختصر صحرا ہے جسے صحرائے یہودا Judean Desert کہتے ہیں ۔ صحرائے یہودا دنیا کا سب سے چھوٹا لیکن مذہبی اور تاریخی اعتبار سے دنیا کا سب سے اہم صحراہے ۔ انسانی تہذیب وتمدن کے جن ادوار اور تاریخ کے جن نشیب وفراز سے یہ صحرا گزرا ہے وہ شائید دنیا کے کسی اور خطہ زمین کی قسمت میں نہیں ۔ یہ صحرا یروشلم سے بحیرہ مردار اور دریائے اردن کے مغربی کنارے تک پھیلا ہے ۔ جیریکو اسی صحرا میں بحیرہ مردار کے کنارے پر واقع ایک نخلستان تھا جسے دنیا کا سب سے پرانا شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ یہ شہر سطح سمندر سے کوئی ایک کلومیٹر نیچے واقع ہے ۔اس لئے دنیا کا سب سے گہرا شہر بھی ہے ۔
یروشلم کو جیریکو سے ملانے والی سڑک ہزاروں سال پرانی ہے ۔ اور صدیوں سے یہ سڑک بحیرہ روم کے جزیروں ، یورپ اور فلسطین کو سرزمین عرب سے ملاتی چلی آئی ہے
بحیرہ روم اور یورپ سے آنے والے بحری جہاز حیفہ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوتے اور پھر ان جہازوں کے مسافر قافلوں کی صورت میں لُد اور یروشلم سے گزرتے ہوئے جیریکو پہنچتے اور پھر وہاں سے بحیرہ مردار کے کنارے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آ رکتے اور دریا عبور کر کے وادی اردن کے راستے عمان اور بترا سے ہوتے ہوئے وادی رم اور تبوک کے علاقے سے گزر کر حجاز اور یمن کی طرف نکل جاتے ۔
مقام نبی موسیٰ اور جیریکو کے درمیان ایک سہ راہے پر اس روڈ سے تین راستے نکلتے تھے ۔ ایک سڑک بحیرہ مردار ، جیریکو اور اردن کی سرحد کی طرف نکل جاتی ہے ۔ دوسری سڑک شام اور تیسری مصر کی طرف چلی جاتی ہے ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں یہ شاہراہ کنگز ہائی وے Kings Highway سے ملتی تھی ۔ زمانہ قدیم میں کنگز ہائی وے دنیا کی مشہور ترین تجارتی گزرگاہ تھی جو افریقا کو بین النہرین ( دریائے دجلہ اور فرات کی درمیانی وادی ) سے ملاتی تھی۔ یہ عین شمس مصر سے شروع ہو کر جزیرہ نما سینا سے گزرتی ہوئے جیریکو آتی اور پھر یہاں سے اردن کے شہر عقبہ تک پہنچتی تھی، جہاں سے یہ مڑ کر شمالی سمت میں شرق اردن سے ہوتے ہوئے دمشق اور دریائے فرات تک جاتی اور یہاں سے ایران کے راستے سنٹرل ایشیاء اور ترکی کے راستے یورپ کی طرف طرف جاتی تھی۔
جیریکو اور یروشلم کو ملانے والی اسی پرانی گذر گا ہ کو آج ہائی وے ون کہتے ہیں ۔ جسے اسرائیل کی اہم ترین ہائی وے سمجھا جاتا ہے۔ یہ تقریباً پنتیس کلومیٹر لمبی ہے ۔
توریت اور انجیل میں اس سڑک کا ذکر بار بار آتا ہے ۔
یہی وہ شاہراہ ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تقریباً چار ہزار سال پہلے ۱۸۰۰ اور ۱۹۰۰قبل مسیح کے دوران چار مرتبہ سر زمین حجاز کے لئے سفر کیا ۔ پہلی مرتبہ وہ حضرت ہاجرہ اورشیر خوار اسماعیل کو چھوڑنے مکہ گئے ۔ دوسری مرتبہ جب حضرت اسماعیل تیرہ سال کے تھے اور ان کی قربانی کا واقعہ پیش آیا ۔ تیسری مرتبہ جب حضرت اسماعیل جوان ہو چکے تھے اور شادی شدہ تھے ۔ وہ ان کی بیوی سے ملے جس نے ان کو مسافر اور گداگر جان کر ان سے کچھ اچھا سلوک نہ کیا اور وہ حضرت اسماعیل کے نام یہ پیغام چھوڑ کر واپس چلے آئے “ کہ اپنی چوکھٹ کو تبدیل کرو ۔ “
اور چوتھی مرتبہ اس وقت عرب گئے جب انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر کعبہ کی تعمیر کی ۔
یہودیوں کی کتاب عبرانی بائیبل کی پہلی جلد “ کتاب پیدائش Book of Genesis میں حضرت ابراہیم کے ان چار سفروں کا ذکر ہے ۔
گو کہ ان کے کچھ سفر وں کی غرض و غائیت مختلف درج ہے ۔
کتاب یشوع میں اس سڑک کو یہودیوں کے دو اہم قبیلوں کے درمیان سرحد بھی قرار دیا گیا ہے ۔
قبیلہ یہودا کے لوگ اس سٹرک کے جنوب اور بنجمن قبیلہ شمال میں آباد تھا ۔ یہ دونوں قبیلے حضرت یعقوب کے دو بیٹوں کی اولاد سے تھے ۔
بنجمن (بنیامین )حضرت یوسف کے سگے بھائی تھے اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔
ان کی ماں کا نام راحیل(Rachel)تھا۔ جو حضرت یعقوب کی پہلی بیوی لیاہ کی چھوٹی بہن تھی ۔
جبکہ یہودا (Judah)حضرت یوسف کا سوتیلا بھائی تھا ۔ یہ حضرت یعقوب اور لیاہ (Leah) کے چھ بیٹوں میں سے چوتھے نمبر پر تھا اور یہ قبیلہ یہودہ کا بانی تھا ۔
کتاب یشوع میں اس سرحد کو معالی ادومیم Ma’ale Adumim سرخ سرحداور اس سڑک کو “سرخ شاہراہ “ کہا گیا ہے ۔ کیونکہ اس علاقے میں سفید ریت کے درمیان سرخ رنگ کے ٹیلے جابجا نظر آتے ہیں جو آئرن آکسائیڈ کے پتھروں Limestone of Iron Oxide سے بنے ہیں ۔ کتاب یشوع (یوشع ) Book of Joshua عبرانی بائبل کی چھٹی کتاب ہے۔ یہ کتاب حضرت یشوع بن نون سے منسوب کی گئی ہے، کیونکہ اس کتاب کے تمام واقعات ان سے ہی متعلق ہیں۔ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بھانجے حضرت یوشع بن نون یہودی قوم پر پیغمبر مبعوث ہوئے ۔ اور انہی کی راہنمائی میں چالیس سال تک صحراؤں میں بھٹکنے کے بعد تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے ۱۴۰۶قبل مسیح میں کنگز ہائی وے کے ذریعے دریائے اردن پار کر کے ارض فلسطین میں داخل ہوئے اور پھر جیریکو کو فتح کرنے کے بعد اسی راستے سے یروشلم پہنچے ۔ کتاب یشوع میں اس شاہراہ اور کنگز ہائی وے کا کئی بار ذکر آیا ہے ۔
عصر ہیلینستی Hellenistic Period اور رومی دور میں فلسطین کے حکمرانوں نے جیریکو اور صحرائے یہودہ میں اپنے محلات Winter Palaces تعمیر کروائے جہاں وہ موسم سرما


