دیوار گریہ ۔ یہودیوں کے ایمان اتحاد،امید اور روحانیت کا زندہ مرکز

دیوار گریہ ۔ یہودیوں کے ایمان اتحاد،امید اور روحانیت کا زندہ مرکز

یہودیوں کی عبادات

قسط نمبر ۱

یہ تحریر میری آنے والی کتاب “ اہل وفا کی بستی “ میں شامل ہے جو فلسطین کا سفر نامہ ہے

آج ناشتے کی میز پر بس ایک ہی موضوع زیر بحث تھا کہ آج کہاں جایا جائے ۔ آج کا دن کیسے گزارا جائے ۔

ہر کوئی چار چھ کی ٹولیوں میں ناشتا کرتے ہوئے ایک دوسرے سے یہی سوال کر رہاتھا ۔ پروگرام کے مطابق آج کوئی گروپ پروگرام طے نہیں تھا ۔ ہر کسی کو آزادی تھی کہ مرضی کے مطابق اپنی مصروفیات طے کر لے ۔

میں بھی امریکہ سے آئی چار ڈاکٹرز کے ساتھ بیٹھا ناشتا کرتے ہوئے اسی قسم کی گفتگو میں مصروف تھا ۔

یہ چار ڈاکٹرز ہمارے گروپ کا سب سے دلچسپ کریکٹر تھیں ۔ ادھیٹر عمر خوش اخلاق خوش شکل ، باعلم ، باادب لیکن نوجوانوں کی طرح کھلنڈری طبیعت کی مالک ۔ ہر وقت مسکراتی خوش رہنے اور خوشیاں بکھیرتی ، آسانیاں بانٹتی یہ چاروں کراچی کی رہنے والی تھیں ۔ سکول کے زمانے سے ساتھ تھیں ۔ پھر دوستی کا یہ سفر ڈاؤ میڈیکل کالج سے ہوتا ہوا امریکہ میں بھی جاری رہا ۔ گو کہ یہ چاروں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں رہتی ہیں ۔ لیکن یہ دوریاں کبھی ان کی دوستی میں حائل نہیں ہوئیں ۔

ہر سال دنیا کے کسی نہ کسی مقام کی سیر کے لئے اکٹھی جاتی ہیں ۔ دوستی کے گہرے سمبندھ میں بندھی ان چاروں ڈاکٹروں کے مزاج اور شکلوں میں بھی مماثلت بہت تھی ۔

ڈاکٹر خدیجہ خان اور ڈاکٹر وجہیہ کراٹیلا ماہر نفسیات ہیں اور میسوری میں رہتی ہیں ۔ ٹیکساس میں رہنے والی پروفیسر ڈاکٹر راحیلہ حفیظ ماہر اطفال ( پیڈیاٹرک ) ہیں جبکہ ڈاکٹر ہما شکیل میری لینڈ میں رہتی ہیں اور میڈیکل سپشلسٹ ہیں

میں اکثر ان کے نام بھول جاتا اس لئے انہیں “فور سسٹرز” کا نام دے رکھا تھا ۔ ان کو دیکھ کر نجانے کیوں مجھے سڈنی کے بلیو ماؤنٹ کی تھری سسٹرز یاد آجاتی تھیں ۔ جو درحقیقت پہاڑ کی چوٹی پر وادی کے کنارے کھڑی ایک ہی جیسی تین بڑی بڑی آدمی کی شکل کی چٹانیں ہیں ۔

میں ارض مقدس کے اس سفر میں ان فور سسٹرز کا چھوٹا بھائی تھا۔ یروشلم میں میرا زیادہ تر وقت انہی کے ساتھ گزرا ۔

آج کا دن بھی انہی کے نام تھا ۔ تھوڑے بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ ہو گیا کہ ہم دیوار گریہ دیکھنے جائیں گے ۔ حیرت کی بات تھی کہ ہم پانچوں کے علاوہ گروپ کا کوئی دوسرا فرد ہمارے ساتھ دیوار گریہ نہیں جانے کا خوہشمند نہیں تھا ۔

میں نے حمزہ اور بلال سے بھی ساتھ جانے کا کہا ۔ لیکن حمزہ کو جانے کیوں دیوار گریہ سے جیسے الرجی تھی ۔ وہ اسکا نام بھی سننا پسند نہیں کرتاتھا لہذا اس نے انکار کر دیا ۔ بلال نے

بھی اس کا ساتھ دیا اور دونوں بھائی ڈاکٹر امنییہ کے ساتھ شہر کی سیر کے لئے چلے گئے ۔

ناشتہ کرتے ہی ہم اپنے گولڈن وال ہوٹل سے نکل آئے اور دیوار گریہ کی طرف چل دئیے ۔

گولڈن ہال ہوٹل پرانے یروشلم شہر کی چار دیواری کے

باہر سلطان سلیمانیہ سٹریٹ پر ہیروڈ گیٹ (باب ساہرہ ۔ پھولوں والا دروازہ ) اور دمشقی گیٹ (باب العامود ) کے عین درمیان میں واقع ہے ۔ یہاں سے دو راستے دیوار گریہ کی طرف جاتے تھے ۔ ایک راستہ تو جنوب کی جانب ہیروڈ گیٹ سے گزر کر مسلم کواٹرز کی الواد روڈ (HaGai Street) سے ہو کر جاتا تھا جس کے ذریعے ہم دن میں دو تین دفعہ مسجد اقصیٰ جایا کرتے تھے ۔ لیکن آج ہم نے دمشقی دروازے کے رستے جانے کا فیصلہ کیا یہ رستہ تھوڑا لمبا ضرور تھا لیکن شہر کے بارونق بازاروں سے ہو کر گزرتا تھا ۔ سوچا اسی بہانے یروشلم کے بازاروں کی بھی سیر ہو جائے گی ۔ جیسے ہی ہم ہوٹل سے باہر نکلے تو سورج مہاراج کے مزاج کا اندازہ ہوا جو خاصا برہم نظر آتاتھا ۔

دمشقی دروازے تک پہنچتے پہنچتے ہم سب پسینے سے شرابور ہو چکے تھے ۔ یروشلم میں ایسے گرم دنوں سے کم کم ہی واسطہ پڑتا ہے ۔

دمشقی گیٹ یروشلم کا سب سے بارعب ، بڑا اور خوبصورت مرکزی گیٹ ہے ۔ جو مسلمانوں عیسائیوں اور یہودیوں کے یکساں استعمال میں رہتا ہے ۔ اسے باب العامود “ستون کا دروازہ” بھی کہتے ہیں

رومن دور میں اس مقام پر ایک بڑا ستون (Column) ہوا کرتا تھا جس پر شہر کا مرکزی سنگ میل لگا تھا۔

· انگریزی میں اسے “دمشق گیٹ” اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ دروازہ تاریخی طور پر شام کے شہر دمشق جانے والی سڑک پر واقع تھا۔ دمشق گیٹ صرف ایک دروازہ نہیں ہے بلکہ یروشلم کی تاریخ، ثقافت ، تہذیب اور روزمرہ زندگی کا اہم ترین مرکز ہے۔ یہ شہر کی متعدد تہذیبوں اور ثقافتوں اور مذاہب کا امین اور شہر میں ہونی والے سیاسی احتجاجوں اورتقریبات کا مرکز بھی ہے۔

رومن دور میں یہ دروازہ رومن شہر ایلیا کیپٹولینا کا مرکزی شمالی دروازہ تھا ۔ یہ دو محرابی دروازہ کسی بڑے قلعے کے گیٹ کی طرز پر سلطان سلیمان عالیشان نے 1537 ء میں تعمیر کروایا تھا جس پر پتھروں سے کندہ کاری کی گئی ہے اس کے بلند وبالا دونوں برج ، اونچی فصیل اور بہت بڑا دیو قامت گیٹ اس کے رعب و دبدبے کا باعث ہے ۔

ہم پیدل ہی گولڈن ہال ہوٹل سے پرانے یروشلم شہر کی اونچی فصیل کے پہلو میں چھوٹے چونے (لائم سٹون) کے پتھروں سے بنی پختہ روش پر چلتے دمشقی دروازے پہنچ گئے ۔

یروشلم میں یہ پتھر اتنی زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے کہ تقریباً ہر قسم کی تعمیر اسی سے کی گئی ہے ۔ ہر عمارت اس سے بنی ہے ۔

اس روش کے دونوں اطراف سر سبز گھاس بچھی ہے ۔ کناروں پر کھجور کے درختوں کی چھاؤں میں رنگ بھرنگے پھولوں کے دلکش تختے ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے خوبصورت پارک بنے ہیں جن میں لگے سیمنٹ اور لکڑی کے بنچوں پر لوگ بیٹھے تھے ۔ یہ فٹ پاتھ ایک بہت مصروف سڑک

“ تقریباً تمام ہی امریکی صدور باک اوباما اور بل کلنٹن نے یہاں نوٹ رکھا تھا ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017ء میں نوٹ رکھا تو خاصا تنازعہ پیدا ہوا تھا

دوسرے اہم سربران ملک میں نریندرا مودی اور ٹونی بلئیر اور · ولادی میر پوتن بھی اس فہرست میں شامل ہیں ۔

کئی مشہور کھلاڑی اور اداکار جن میں عامر خان (بولی وڈ اداکار)

· پریانکا چوپڑا (ادکارہ)

· شاہ رخ خان (King Khan)

· سلمان خان

· ٹام کروز

· میڈونا (گلوکارہ)

· سٹیون اسپیلبرگ (ڈائریکٹر)

· نکول کڈمین

· مائیکل ڈگلس

· ڈیوڈ بیکہم (فٹبالر)

· لائنل میسی (ارجنٹائنی فٹبالر) بھی نوٹس رکھ چکے ہیں”

“مشہور شخصیات کے نوٹس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے کیا انہیں بھی دفن کیا جاتا ہے ۔ کیا انہیں بھی نہیں پڑھا جاتا ۔”

میں نے دلچسپی سے پوچھا ۔

“ہاں! مشہور شخصیات کے نوٹس بھی دفن کیے جاتے ہیں

· کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوتا

· کسی کو کوئی خصوصی استثناء نہیں دیا جاتا کیونکہ خدا کے سامنے سب برابر ہیں

· رازداری کا اصول سب پر لاگو ہوتا ہے ۔ لیکن کبھی کبھی کوئی اہم شخصیت اپنا نوٹ لکھنے سے پہلے میڈیا کے سامنے پڑھ کر سنا بھی دیتی ہے جیسا کہ پوپ جان پال دوئم نے کیا تھا ۔

وہ پہلے پوپ تھے جنہوں نے ۲۰۰۰ء میں دیوار گریہ کا دورہ کیاتھا

ان کا نوٹس معافی کے لیے تھا

· نوٹس میں لکھا تھا: “خدا ہمارے آباؤ اجداد سے وہ سلوک کرے جو ہم ان کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ “

لیکن اصل نوٹس پھر بھی دیوار میں رکھا گیا اور بعد میں دفن کر دیا گیا۔”

“کیا تم نے بھی کبھی ایساکیا ہے ۔

میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا ۔

اس نے مڑ کر غور سے مجھے دیکھا ، مسکرایا اور میرے چہرے پر نظریں گاڑ کر بولا ۔

“ ہاں میں نے جب بھی کبھی اس طریقے سے کچھ مانگا ۔خدانے مجھے دیا ۔ “

پھر اس نے جیب سے کاغذ اور قلم نکال کر میری بڑھاتے ہوئے کہا کہ تم بھی اپنی خواہش لکھ کراس سوراخ میں ڈال دو ۔ خدا تمہاری بھی دعا قبول کرے گا۔”

“لیکن وہ تو تمہارا خدا ہے میری کیسے سنے گا ۔ “

میں نے کہا

“ میں اس پر یقین نہیں رکھتا خدا تو بس ایک ہی ہے اور وہ سب کا خدا ہے ۔”

اس نے یقین سے کہا۔

جس پر میں نے اس کا دل کا رکھنے کے لئے اس کاغذ کے ٹکڑے پر اردو میں لکھا کہ

“ اللہ فلسطین کو یہودیوں سے آزادی نصیب فرما”۔

وہ خوش ہوگیا اور اس نے کاغذ کے اس ٹکڑے کو بڑے احترام سے تہہ کر کے ایک سوراخ میں گھسیڑ دیا ۔

پھر اس نے مجھے ان تقریبات کی تفصیل بتائی جو یہودی اس دیوار کے سامنے کرتے ہیں ۔

قومی تقریبات

•⁠ ⁠یوم ہعatzmaut (یوم آزادی)

اسرائیل کے قومی دن کی تقریب

اس دن دیوار گریہ پر فوجی بینڈ، بجایا جاتا ہے رقص کیا جاتاہے اور قومی گیت گائے ہیں

•⁠ ⁠یروشلم ڈے

1967 میں یروشلم کے دوبارہ اتحاد کی سالگرہ

ہزاروں لوگ اکٹھے ہو کر دیوار کے سامنے رقص اور گانا کے ساتھ جشن مناتے ہیں

•⁠ ⁠فوجی حلف برداریاں بھی دیوار کے سائے میں ہوتی ہیں

نوجوان فوجی دیوار کے سامنے حلف اٹھاتے ہیں

بین الاقوامی تقریبات

•⁠ ⁠عالمی یہودی اجتماعات

بین الاقوامی برادریوں کے اجتماعات

دنیا بھر سے یہودی رہنما جمع ہوتے ہیں

سیاحتی گروپوں کی تقریبات

بیرون ملک سے آنے والے گروپ اپنی خصوصی تقریبات منعقد کرتے ہیں

ہنگامی اور المیہ کی تقریبات

جب بھی اسرائیل کو مشکل حالات کا سامنا ہو تو

ہزاروں لوگ اجتماعی حفاظتی دعا کے لیے جمع ہوتے ہیں

خصوصی مذہبی تقریبات

•⁠ ⁠برکات کوهانیم (کاہنوں کی دعا)

یہ کاہنوں کی خصوصی دعا

ہے جو سال میں چند مرتبہ، خاص طور پر تہواروں پر کی جاتی ہے جس میں

·ہزاروں لوگ دعا میں شرکت کرتے ہیں

ماتمی عبادات (Mourning Practices)

بزرگوں اور اہم شخصیات کے انتقال پر بھی دیوار کے سامنے خصوصی عبادات کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔

ثقافتی تقریبات

•⁠ ⁠موسیقی کی تقریبات

مختلف تہواروں کے موقع پر اور خاص طور پر یروشلم ڈے پر روایتی یہودی موسیقی کے پروگرام اور رقص کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں ۔

“ان تمام تقریبات میں سخت سیکورٹی ہوتی ہے اور مناسب اور باوقار لباس ضروری ہے

فوٹو گرافی کی عام طور پر اجازت ہے، لیکن سبت کے دن فوٹو گرافی ممنوع ہوتی ہے “

اس نے نہ جانے کیوں ان تقریبات کی سکیورٹی کے بارے میں بھی بتانا ضروری سمجھا

اسی دوران ہم گفتگو کرتے ہوئے دیوار گریہ کے بائیں جانب بنے ایک بڑے اونچے سے ہال میں داخل ہو گئے جو دیوار کے اختتامی حصے پر بناتھا ۔ اس ہال کے اندر دیوار گریہ تاحد نگاہ تک پھیلی چلی گئی تھی ۔

میرے لئے وہ ہال ایک حیرت کدہ تھا ۔ ۔ اس میں داخل ہوتے ہی ایک خوشگوار ٹھنڈک کا احساس ہوا ۔ روشنی کا شاندار انتظام تھا ۔ لیکن کہیں کوئی ائیر کنڈیشنر یا بلب جلتے ہوئے نظر نہیں آ رہے تھے ۔ اس ہال کا ماحول بھی بہت متاثر کن اور پراسرا سا تھا ۔ قدیم زمانے کی کسی عبادت گاہ کی طرح لکڑی کے بھاری بھر فرنیچر سے سجا ہوا ۔ یہ ایک بہت وسیع اور شاندار بڑے بڑے پتھروں سے بنا ، سرنگ نما بہت لمبا بہت اونچی چھت والا کمرہ تھا۔ جس کی چوڑائی لمبائی کے مقابلے میں تھوڑی تھی ۔ چھت پر بہت شاندار پچی کاری کی گئی تھی اور تصاویر بنی تھیں ۔ دیوار کے سہارے دور دور تک لکڑی کے ریک کھڑے تھے جن میں کتابیں سجی تھیں ۔

یہ ہال بڑے بڑے پتھر کے بارہ ستونوں کے سہارے کھڑا تھا ۔ اسے دی گریٹ ہال (Great Hall) وارنز ہال یا گریٹ سٹون ہال بھی کہتے ہیں۔ ہیکل ثانی کے دور کا یہ شاہکار ہال ہیرودیس اعظم (37-4 قبل مسیح) نے انتہائی بڑے بڑے 10-15 ٹن

وزنی پتھروں کو بغیر سیمنٹ mortar کے ایک دوسرے پر رکھ کر تعمیر کروایا تھا اس کی تعمیر میں استعمال ہونے والا سب سے بڑا پتھر 570 ٹن وزنی ہے ۔ اس کی چھت بارہ میٹر سے اونچی ہے ۔ یہ 32 میٹر لمبا اور 13 میٹر چوڑا ہے ۔ سائنس آج بھی یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اتنے بڑے بڑے پتھروں کو کیسے تراشا گیا اور کس طریقے سے

Recent Blog Items