حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دربار میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دربار میں

میری آنے والی کی کتاب
“اہل وفا کی بستی “ کا ایک باب

“میں دروازہ عبور کر کے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی دیوار میں بنی سبز کھڑکی کی جالیوں سے ان کا سبز غلاف میں لپٹا تعویز نظر آرہا تھا ۔
میں اسے چھو نہیں سکتا تھا لیکن جی بھر کر دیکھ سکتا سو کھڑکی کی سلاخیں ہاتھ میں پکڑے نم آنکھوں سے اسے دیکھتا رہا ۔ پیاس تھی کہ بجھتی ہی نہیں تھی ۔ دل تھا کہ بھرتا ہی نہیں تھا ۔ پتہ نہیں کتنی دیر یوں ہی گزر گئی میں فاتحہ پڑھنا بھی بھول گیا تھا ۔ اس عظیم ہستی کی قربت کا احساس مجھ پر کچھ اس طرح سے حاوی ہو گیا تھا کہ مجھے اپنی ہستی مٹتی ، فنا ہوتی محسوس ہوئی ۔ مجھے لگا جیسے میرا سارا بدن کرچی کرچی ہو کر فضا میں بکھر گیا ہو اور اب صرف کسی اجنبی کی روح کھڑکی کی سلاخیں تھامے کھڑی ہے ۔ “

ناجی العلی کے گھر سے کوئی سو میٹر دور مذید چلنے کے بعد ابو ولید اچانک دائیں جانب ایک بازار میں مڑ گیا ۔
قدیم طرز پر بنا یہ تنگ بازار ڈھلوان اور نشیب میں دور تک پھیلا ہوا تھا ۔ اس کے آغاز میں ہی ایک اسرائیلی فوج کی چیک پوسٹ تھی ۔
“اس گلی کا نام شارع الشہید ہے اور اس کے آخری کونے پر مسجد ابراہیمی واقع ہے ۔ اس چیک پوسٹ کے بعد ایچ ٹو ( مکمل اسرائیلی کنٹرول ) کا علاقہ شروع ہوتا ہے ۔”

اس نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا جب سے اسے یہ پتہ چلاتھا کہ میں واپس جا کر اپنے اس سفرنامے کو کتاب کی صورت دینے کا ارادہ رکھتا ہوں تو اس وقت سے ہی وہ حتی الامکان کوشش کرتا تھا کہ میرے گرد موجود رہے وہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی مجھے بتانا اپنی ذمہ داری سمجھتا تھا ۔
مجھے یاد ہے جب میں نے پہلی بار اسے اپنے اس ارادے سے آگاہ کیا تو وہ فرط جذبات سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔ اس کا چہرہ شدت جذبات سے تمتمانے لگا تھا ۔ بھرائے لہجے اور چمکتی لبریز آنکھوں کے ساتھ اس نے میرے ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں بھینچ کر انہیں سینے سے لگاتے ہوئے اپنی عربی لہجے والی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہاتھا کہ

“ ڈاکٹر ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں ہم صرف اتنا چاہتے ہیں ۔ کہ تم جیسے زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں آئیں ۔ ہماری حالت زارکو دیکھیں اور واپس جا کر دنیا کو بتائیں کہ ہم کس مشکل میں ہیں اور کیسے زندگی گزار رہے ہیں ۔ فلسطین سے باہر کی دنیا تک ہماری آواز نہیں پہنچتی ہے ۔ وعدہ کرو کہ تم ایسا کرو گے یہ تمہارا مجھ پر اور میری قوم پر بڑا احسان ہوگا اور جب بھی کتاب لکھو گے اس کی ایک جلد مجھے بھجواؤ گے ۔ “

میں نے اسکے ہاتھوں کو گرمجوشی سے دباتے ہوئے اس سے وعدہ کرلیا ۔

گلی کا موڑ مڑتے ہی ہمیں بیرئیر پر کھڑے اسرائیلی سپاہیوں نے روک لیا ۔ یہ نوجوان نظر آنے والے ، گنیں اپنے کندھوں سے لٹکائے طالبعلم نما سپاہی تھے جن میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل تھا ان کا عمر رسیدہ انچارج سڑک کے کنارے بچھی کرسی پر نیم دراز مزے سے سگریٹ کے کش لے رہا تھا ۔
ابو ولید نے آگے بڑھ کر عبرانی زبان میں انہیں ہمارے بارے میں بتایا جس پر تینوں سپاہیوں نے اپنے باس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تو انہوں نے کڑی تلاشی کے بعد بیرئیر اٹھا کر ہمیں آگے جانے کی اجازت دے دی ۔

اس تنگ پتھریلی گلی کی نوے فی صد دکانیں بند تھیں ۔ کہیں کہیں کوئی دکان کھلی نظر آئی ۔

تھوڑی دور جانے کے بعد ہی گلی کے اختتام پر دور سے قلعہ نما مسجد ابراہیمی کا سبز گنبد نظر آنے لگا تھا ۔ جو گلی کے آخری کونے پر ایک پہاڑی چوٹی پر واقع تھی ۔

شہداء سٹریٹ

شہداء سٹریٹ قدیم ہیبرون کا سب سے اہم مرکزی اور اپنے سیاسی تنازعے اور ماضی کی خون ریز جھڑپوں کی بدولت بین الاقوامی شہرت کا حامل بازار ہے ۔ اور فلسطین کے سب سے زیادہ متنازعہ علاقوں میں سے ایک ہے جسے 1929ء کے شہداء کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ اسے گرفیتی سٹریٹ بھی کہتے ہیں ۔ یہودی اسے حضرت داؤد کے حوالے سے کنگ ڈیوڈ سٹریٹ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ جگہ جگہ ڈیوڈ ہیمالک سٹریٹ David HaMelech Street کے نیلے رنگ کے بورڈ لکھے دیکھے جس کے نیچے لکھا تھا کہ “کنگ ڈیوڈ نے حبرون میں اپنی سلطنت قائم کی اور سات سال تک حکومت کی”
جیسے مسلمانوں کا مذہبی رنگ سبز ہے اسی طرح نیلا یہودیوں کا مذہبی رنگ ہے ۔

اردنی دور میں اسے شارع الملک فيصل (بادشاہ فیصل سٹریٹ) کہتے تھے ۔

تقریباً آدھ میل لمبا یہ بازار الحرم الابراہیمی (مسجد ابراہیم) سے اولڈ مارکیٹ (سوق البلدة) تک پھیلا ہے ۔ یہ بازار زیتون کے تیل، الخلیل کی روائتی تاریخی اور مشہور رنگین شیشے کی مصنوعات کی صنعت اور فلسطینی روایتی کپڑے کا گڑھ ہوا کرتا تھا یہ اتنا مصروف بازار تھا کہ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں زندگی کبھی نہیں سوتی اور اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے یہ بازار کھلا رہتا ، عثمانی دور میں اس کا نام شارع السلطان (سلطان کی سڑک)تھا اور مرکزی تجارتی اور ثقافی مرکز اور یہ خانقاہوں، مساجد اور بازاروں کا گھرتھا ۔ شہر کی ہر اہم سڑک اس سے شروع ہوتی تھی ۔

اس سڑک کاآغاز مسلمانوں کے محلے الصلاح سے اور اختتام یہودیوں کے گڑھ تل رمیدہ پر ہوتا ہے ۔

1994ء کے سانحے کے بعد سے اب یہ سڑک ایسی اجڑی ہے کہ جس بازار میں کبھی چار سو سے زیادہ دکانیں تھی اب صرف بیس پچیس کھلی رہ گئی ہیں ۔ باقی تمام دکانوں کے آہنی شٹر ولیڈ کر کے انہیں مستقل طور پر بند کر دیا گیا ہے ۔ اس گلی اور گردونواح کے سینکڑوں مکان خالی کروا لئے گئے ہیں

اس سڑک پر مقامی فلسطینیوں کا داخلہ مکمل طور

Recent Blog Items