چرچ آف دی ہولی سیپلکرکی چابی کی انوکھی دلچسپ اور تاریخی رسم کی کہانی

دہرائی جا سکے گی نہ
ہماری داستان عشق پھر

“چرچ آف دی ہولی سیپلکرکی چابی کی انوکھی دلچسپ اور تاریخی رسم کی کہانی جو صدیوں سے جاری ہے “

‎”یہ تحریر میری آنے والی کتاب “ اہل وفا کی بستی “ میں شامل ہے جو فلسطین کا سفر نامہ ہے “

نو اکتوبر ۲۰۲۲ء کی سہانی شام تھی ۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔ سورج دن بھر کی مسافت کے بعد سامنے چوٹی پر بنی مسجد عمر کے پیچھے چھپنے جا رہا تھا ۔ افق پر چھائی شفق اب رات کی سیاہی میں گھلتی جا رہی تھی ۔
عیسائیوں کے سب سے مقدس ترین مقام کلیسائے مقبرہ مقدس کے صحن میں مجمع لگا تھا ۔ لوگوں کی ایک بھاری تعداد جمع تھی جس میں اکثریت عیسائی زائرین کی تھی ۔ اس بھیڑ میں ہم جیسے صرف چند ہی مسلمان سیاح تھے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی تھی ۔

عیسائی عقیدے کے مطابق یہ چرچ اس مقام پر قائم کیا گیا ہے جہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب دی گئی، دفن کیا گیا، اور پھر وہ دوبارہ زندہ ہوئے۔ اس لیے اسے “قبر مسیح” (The Tomb of Christ) بھی کہا جاتا ہے۔

سب کی نگاہیں چرچ کے دروازے کی طرف لگی تھیں جو اب بند ہوچکا تھا ۔
سب بے تابی سے اس منظر کے انتظار میں تھے جو پچھلے آٹھ سو سال سے دن میں دو مرتبہ بلا ناغہ اس کشادہ صحن میں دہرایا جاتا ہے ۔

علی الصبح ایک مسلمان عیسائیوں کے اس مقدس ترین مقام کا دروازہ کھولتا ہے اور پھر شام ڈھلے بند کر کے تالا لگاتا ہے اور اس کی چابی ایک دوسرے مسلمان کے حوالے کر کے رخصت ہو جاتا ۔

مذہبی یگانگت کا ایسا مظاہرہ ایسی مثال چرخ نیلی فام نے پہلے کہیں نہیں دیکھی ۔

ہمیں بھی کئی گھنٹوں سے اس لمحے کا انتظار تھا ۔

اچانک ایک سمت سے ایک درمیانی قامت کا ادھیٹر عمر شخص نمودار ہوا صحن اور دروازے کی سمت بڑھا ۔ اس نے دروازے پر دستک دی ۔ بند دروازے کے دائیں پٹ میں ایک کھڑکی کھلی جس میں ایک سیڑھی نظر آ رہی تھی ۔ اس شخص نے اس سیڑھی کو باہر نکالا دروازے کے ساتھ لگایا اس پر چڑھا صحن میں موجود ایک دوسرے شخص نے لوہے کی ایک بڑی چابی اسے تھما دی جو تقریباً 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ) لمبی تھی اس چابی کی مدد سے اس نے پہلے دروازے کا اوپر والا تالا لگایا پھر نیچے اتر کر نچلا قفل بند کیا سیڑھی دوبارہ اس کھلی کھڑکی میں کھڑے شخص کے حوالے کی ۔ قفل کی وہ بڑی چابی اپنے قریب کھڑے اس شخص کو واپس کر دی جس نے اسے وہ چابی دی تھی ۔ چرچ کے بڑے پادری کے ساتھ مصافحہ کیااور رخصت ہوگیا ۔

اس آنے والے شخص کا نام اجمل نوسیبہ تھا جس نے تالا لگا اور جس شخص کے سپرد چابی کی گئی وہ واجد جودہ تھا وہ اس چابی لے کر گھر چلا گیا ۔

ساڑھے آٹھ سو سال سے چرچ کے دروازے کا تالہ کھولنے اور بند کرنے کی اس رسم کی ذمہ داری دو مسلمان خاندانوں کے پاس ہے ۔ سب سے پہلے چابی کے محافظ جودہ خاندان کا ایک رکن قدیم لوہے کی بنی یہ چابی لے کر گرجا گھر پہنچتا ہے۔

وہ چابی نوسیبہ خاندان کے کسی فرد کے حوالے کرتاہے

دروازہ کھولنے اور بند کرنے کی ذمہ داری نوسیبہ خاندان کے پاس ہے۔ وہ گیٹ کیپر ہیں
نوسیبہ خاندان کا فرد ایک بڑی لکڑی کی سیڑھی کے ذریعے گرجا گھر کے مرکزی دروازے پر چڑھتا ہے ۔ اس دروازے پر دو تالے لگتے ہیں ۔

· یہ سیڑھی اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایک تالا دروازے کے اوپری حصے میں لگا ہوا ہے، جو زمین سے کافی بلند ہے۔

وہ چابی پہلے اوپر والے تالے میں ڈال کر اسے کھولتا ہے۔
· پھر وہ نیچے والے تالے کو بھی کھولتا ہے (جو بعد کے دور میں لگایا گیا)۔
· اس کے بعد وہ دروازے میں لگی بھاری لوہے کی قُل (کرسی) کو ہٹاتا ہے۔
· آخر میں، وہ بھاری لکڑی کے پٹ کو اپنے کندھے سے دھکا دے کر دروازہ اندر کی جانب کھولتا ہے۔

شام کو سورج ڈھلنے پر یہی عمل الٹی ترتیب سے دہرایا جاتا ہے۔
· دروازہ بند کرنے کے بعد دونوں تالے لگا دیے جاتے ہیں۔

اور چابی پھر جودہ خاندان کے فرد کے حوالے کر دی جاتی ہے ۔

جو اسے لے کر اپنے گھر چلا جاتا ہے ۔ یہ چابی وہی اصل چابی ہے جو صدیوں سے استعمال ہو رہی ہے۔

یہ سارا عمل عیسائی فرقوں کے تمام نمائندوں کی موجودگی میں ہوتا ہے، جو اس بات کے گواہ رہتے ہیں کہ رسم درست طریقے سے ادا ہوئی ہے ۔

سینکڑوں لوگ روز اس ناقابل فراموش منظر کے گواہ بنتے ہیں ۔
یہ انوکھی اور دل موہ لینے والی رسم پچھلے ساڑھے آٹھ سو سال سے بلا ناغہ جاری ہے ۔ آندھی ہو ، برسات ہو ، سردی ہو گرمی ہو ، سال کا کوئی موسم ہو ، روز ایسا ہوتا ہے کبھی اس معمول میں رخنہ نہیں پڑا۔ یہ تاریخی تقریب ہر روز بغیر کسی تعطل کے

گرمیوں میں صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے تقریباً 4:00 بجے اور شام کو غروب آفتاب کے وقت 7:00 بجے دن میں دو بار منعقد ہوتی ہے ۔

سردیوں میں یہ اوقات مختلف ہوتے ہیں ۔

یہ اوقات چرچ کی انتظامیہ طے کرتی ہے تاکہ روزانہ کی عبادات اور زیارت کا سلسلہ بروقت شروع اور اختتام پذیر ہو سکے۔
صدیوں سے جاری چرچ آف دی ہولی سیپلکر کی چابی اور دروازہ کھولنے اور بند کرنے کی یہ روایت یروشلم کے

مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان باہمی احترام بھائی چارے اور تعاون کی ایک زندہ مثال ہے۔

اس رسم کو Custody of the Key کہا جاتا ہے ۔

اس روایت کا آغاز حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں شروع ہوا ۔

بنو نو سیبہ سے تعلق رکھنے والے حافظ عبدالرحیم نوسیبہ الخزری نے اپنی کتاب The Khazraj Nusseibeh Family: Custodians of History and the Present۔ میں اپنے خاندان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
“ 637 ء میں مسلمانوں کی فوج نے شام اور فلسطین کی مہم کے دوران یروشلم کا محاصرہ کر لیا۔

Recent Blog Items