نبی موسیٰ
قسط نمبر ۱
الخان الاحمر کے قریب سے گزرتے ہوئے ابو ولید (گائیڈ ) مجھے صحرائے یہودا کے عرب بدوؤں کے بارے میں بتاتا رہا ۔ الخان الاحمر کا نام میرے لئے نیا نہیں تھا ۔ میں اس سے اچھی طرح واقف تھا ۔ پچھلے چھ سات سالوں میں یہ نام کئی بار انٹرنیشنل میڈیا کی خبروں کی شہ سرخی بنا رہا تھا ۔ اور فلسطینیوں سے ہمدردی رکھنے والا شائید ہی کوئی شخص ایسا ہوگا جو اس نام سے ناواقف ہو ۔ لیکن مجھے اس کے پس منظر اور اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوا جب اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ میں یہاں رکنا چاہتا تھا ۔ کچھ وقت ان بدوؤں کے ساتھ بِتانا چاہتا تھا۔ لیکن بس میں میرے علاوہ دوسرے پچیس تیس لوگ اور بھی موجود تھے جن کی موجودگی میں یہ ممکن نہ تھا ۔ پھر ہمیں دیر ہورہی تھی اور ابھی ہمیں نبی موسیٰ اور جیریکو بھی جانا تھا ۔ لیکن میں نے تہیہ کر لیا کہ اسرائیل چھوڑنے سے پہلے ایک روز الخان الاحمر ضرور واپس آؤں گا ۔ میں ان اولعزم اور دلیر بدوؤں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا تھا ان سے ملنا چاہتا تھا جو اس بے سروسامانی ، بے چارگی اور کسمپرسی کی حالت میں بھی پچھلے پچھتر سال سے دنیا کی طاقتور ترین ریاست کے سامنے ڈٹے کھڑے تھے ۔
بس الخان الاحمر سے گزر گئی اور میں کھڑکی سے بوسیدہ خیموں اور ٹین کی چھتوں سے بنے چھوٹے چھوٹے گھروں پر مشتمل چند سو افراد کی اس چھوٹی سی بستی کو دیکھتا رہا جو ظلم و جبر کے اس نظام کے خلاف آزادی ، ہمت اور جدوجہد کا استعارہ بن چکی ہے ۔
الخان الحمر سے کوئی پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر ہائی وے ون پر سطح سمندرSea level کی نشاندہی کرنے کے لئے ایک میناربنا تھا ۔ جو اس علاقے کی سطح سمندر سے گہرائی کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہیں سے ایک ذیلی سڑک نکل کر شمال کی طرف نبی موسیٰ کی طرف جاتی ہے ۔
نبی موسیٰ یروشلم سے بیس کلو میٹر شمال مشرق میں اور جیریکو سے بارہ کلومیٹر دور مغرب میں وادی مكلك Wadi Muqallik میں واقع ہے ۔
وادی مکلک یروشلم میں جبل زیتون اور جبل المشارف سے شروع ہو کر جیریکو تک چلی گئی ہے ۔ اس وادی سے گزرنے والی ندی کو اوگ نہل Nahal Og کہتے ہیں جو نبی موسیٰ کے قریب سے گزرتی ہوئی بحیرہ مردار میں جا گرتی ہے ۔
وادی مکلک وادی قلط کے متوازی اور بالمقابل ہائی وے ون کے شمال کی سمت واقع ہے ۔
ڈرائیور نے بس اس سڑک کی طرف موڑ لی ۔ مین روڈ سے کوئی دو کلو میٹر ہٹ کر صحرا کے اندر بدوؤں کی ایک خیمہ بستی تھی ۔اس بستی سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک اونچے سرخ رنگ کے ٹیلے پر قدیم طرز کی بڑی قلعہ نما عمارت تھی ۔ جس کی چھت پر کئی سفید اور سبز رنگ کے چھوٹے گنبد بنے تھے ۔ اور ایک کونے میں ایک بڑا اور اونچا چہار پہلو مینار کھڑا تھا ۔
اس عمارت کے سامنے سر سبز لمبے خوبصورت کھجور اور زیتون کے درختوں کا ایک جھنڈ نظر آرہا تھا ۔
چند ہی منٹوں کے بعد بس دھول اڑاتی اس عمارت کے مرکزی دروازے کے باہر جا کھڑی ہوئی ۔
اس جگہ خاصی چہل پہل تھی ۔ درجنوں سیاح عمارت کے اندر اور باہر موجود تھے ۔
سورج اب نصف النہار پر پہنچ چکا تھا اور اپنی پوری آب وتاب سے چمک رہا تھا ۔ کبھی کبھی نیلے آسمان پر چھائے سفید بادلوں کے ٹکڑے سورج کو ڈھانپ لیتے تو چھاؤں کی سی کفیت پیدا ہوجاتی ورنہ دھوپ کی تمازت میں خاصی شدت تھی ۔ لیکن صحرا میں چلنے والی ہلکی ہلکی ہوا کی وجہ سے یہ حدت ناگوار نہیں لگ رہی تھی ۔
درختوں کے چھاؤں میں ٹین کی چھت اور لکڑی کے تختوں سے بنی دیواروں والی بہت سی دکانوں کے آگے چھابڑی فروش اپنا کاروبار سجائے بیٹھے تھے ۔ یہ دراصل ایک چھوٹا سا نخلستان ہے جس میں زمین سے پھوٹتے ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں کی بدولت یہ جنت نظیر اور خوبصورت نخلستان وجود میں آگیا ہے ۔ چشمے کاپانی ایک چھوٹی ندی کی صورت میں ان دکانوں کے درمیان سے بہتا ہوا گزرتا ہے ۔ اور نہل اوگ میں جا گرتا ہے ۔
چشمے کے کنارے درختوں کی گھنی چھاؤں تلے کئی اونٹ بیٹھے نظر آئے ۔ جن پر سواری کے لئے خوبصورت رنگ برنگے کچاوے لدے تھے ۔ اونٹوں کے مالک بدو ان کے گرد کھڑے سیاحوں سے مول تول میں مصروف تھے ۔
کئی سیاح جن میں بچوں اور عورتوں کی اکثریت تھی اونٹوں پر سواری کرتے نظر آئے ۔ ایک طرف چند صحرائی بکریاں چر رہی تھیں ۔ کئی نیلے رنگ کے مور درختوں پر اور زمین پر بیٹھے نظر آرہے تھے ۔ ان سب چیزوں نے ملکر اس سرخ وسفید لق دق صحرا میں بڑے دلکش رنگ بھر دئیے تھے ۔ جیسے سفید کینوس پر کوئی خوبصورت تصویر پینٹ کردی گئی ہو ۔
دکانوں اور چھابڑی فروشوں کے گرد بھی سیاحوں کا ہجوم تھا ۔
ایک کونے میں ایک چھپر نما ہوٹل کے سامنے زیادہ بھیڑ لگی تھی اور لوگ دھڑا دھڑ چشمے کے پانی سے ٹھنڈے کئے گئے مشروبات خریدنے کے لئے قطار بنائے کھڑے تھے ۔ اسی ہوٹل کے چھپر کے سامنے ایک بدو نما شخص اپنی آستینیں چڑھائے ایک بڑی کڑاہی میں پکوڑے نما کوئی چیز تلنے میں مصروف تھا ۔ غرض ایک میلہ سا لگا تھا ۔ جنگل میں منگل والا محاورہ ہم نے پہلی مرتبہ اس صحرا میں پورا ہوتا محسوس کیا ۔
جیسے ہی میں بس سے نیچے اترا ۔ٹھنڈی تازہ ہوا کا ایک جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا ۔ جس نے طبیعت پر ایک عجیب سی کفیت طاری دی ۔ ایک ٹھنڈک
کا سا احساس ہوا جیسے تیز دھوپ کے بعد اچانک ٹھنڈی چھاؤں مل جائے سکون و طمانیت کی ایک لہر سی میرے رگ وپے میں اترتی چلی گئی ۔
ہماری بس کے چند مسافر تو اترتے ہی دکانوں کی طرف بڑھ گئے لیکن اکثریت ایک قدیم لکڑی کے بھاری دروازے سے


