غبار کارواں کی تلاش

غبار کارواں کی تلاش۔

آج کا دن ۳ ستمبر

جنگ عین جالوت

آج تین ستمبر ہے اور آج کے دن عین جالوت فلسطین میں اسلامی تاریخ کا بہت بڑا تاریخ ساز معرکہ ہوا جس نے تاریخ عالم کا رخ بدل دیا ۔ اس جنگ کے حوالے سے یہ مضمون پیش خدمت ہے جو میری آنے والی کتاب اہل وفا کی بستی کا حصہ ہے

اسرائیل کے دارلحکومت تل ابیب سے 150 کلو میٹر کے فاصلے پر جنین شہر سے گیارہ کلومیڑ دور ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو زرعین کہلاتا ہے
یہ علاقہ ویسٹ بنک میں واقع ہے اور تنظیم آزادی فلسطین کے زیر انتظام ہے

اس گاؤں کے باہر وادئ جزریل میں کوہ گیلوبا (Mountain of Gilboa ) کی ایک غار سے ایک چشمہ نکلتا ہے جسے عین جالوت
“the Spring of Goliath”, کہتے ہیں .

عبرانی (ہیبرو Hebrew) میں اس کا نام معين هارود Ma’ayan Harod ہے ۔

یہ چشمہ ہزاروں سال سے رواں دواں ہے

یہودی اس چشمے کے پانی اور اس مقام کو بہت متبرک اور مقدس سمجھتے ہیں۔

ياقوت الحموي الرومي اور بہاؤالدین شداد کی تحریروں کے مطابق یہاں پر کبھی ایک فلسطینی گاؤں آباد تھا جس کا نام ہی عین جالوت تھا۔ یہ گاؤں ۱۹۲۰ء تک قائم رہا۔ جب یہودی سرمایہ کار جوشوا ہنیکن Yehoshua Hankin نے یہودی آباد کاروں کے لئے یہ سارا علاقہ خرید لیا۔ چونکہ یہ علاقہ یہودیوں کے لئے تاریخی اور مذہبی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس لئے یہودیوں نے فلسطنیوں کو اس گاؤں سے نکال دیا۔

اس لئے آج کل اسرائیلی گورنمنٹ نے یہاں ایک بہت اعلی درجہ کا تفریحی پارک بنا رکھا ہے اس پارک کا نام معین ہیروڈ نیشنل پارک (Ma’ayan Harod National Park ) ہے اسرائیل بھر سے لوگ سیر و تفریح کرنے اور اس مقام کی زیارت کے لئے یہاں آتے ہیں

تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح (۱۰۲۹ قبل مسیح ) میں یہاں حق و باطل کا ایک بہت بڑا تاریخ سازمعرکہ ہوا تھا

جب ایک چرواہے کے کمزور چھوٹے سے سولہ سالہ لڑکے داؤد نے اپنے سے دس گنا بڑے اور طاقتور دیو ہیکل اور دیو قامت جالوت کو موت کی گھاٹ اتار کر بنی اسرائیل کو آزادی دلا کر یہودیوں کی حکومت کی داغ بیل ڈالی تھی

ضرت داؤد علیہ اسلام اور جالوت کے درمیان اس تاریخی معرکے نے دنیا کی تاریخ بدل دی بنی اسرائیل کو جالوت کی قید سے رہائی ملی اور فلسطین کی سر زمین پر یہودیوں کی حکومت قائم ہوئی

یہ واقعہ سورۂ البقرہ میں بڑی تفصیل سے بیان ہواہے کہ جالوت ایک بہت طاقتور بہت بڑا اور دیو ہیکل انسان تھا جس کا قد عام انسانوں سے دس گنا بڑا تھا اور وہ ایک بہت عظیم الشان اور بڑی فوج کا مالک تھااس کا تعلق فلسطی قوم سے تھا جو کنعان کی قدیم قوم تھی۔ اس نے یروشلم پر قبضہ کرنے کے بعد یہودیوں کو غلام بنا لیا تھا –

حضرت سموئیل علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم کے مطابق طالوت کو یہودیوں کے لشکر کا سالار مقرر کیا

یہودیوں کی اکثریت نے طالوت کی قیادت قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ اس کا باپ کِش ایک غریب اور معمولی مزدور تھا اور گمنام خاندان سے تعلق رکھتا تھا

لیکن اللّٰہ نے جب طالوت کے ذریعے انہیں ان کا گمشدہ تابوت سکینہ واپس دلوا دیا تو انہوں نے بادل نخواستہ طالوت کو سردار مان لیا
اور جب طالوت اپنا لشکر لے کر عین جالوت کے مقام پر پہنچا جہاں اس کا سامنا جالوت اور اس کی فوج سے ہوا تو صیح بخاری کے مطابق اس کے ساتھ موجود یہودی جالوت اور اس کے اتنے بڑے لشکر کو دیکھ کر جنگ سے ہی انکاری ہوگئ

اور میدان چھوڑ گئے یہاں تک کہ طالوت کے ساتھ صرف تین سو تیرہ لوگ رہ گئے تھے

عین جالوت کی یہ جنگ یہودیوں کی جنگ بدر تھی جالوت نے لوہے کی زرہ بکتر پہن رکھی تھی صرف اس کی ایک آنکھ خود سے باہر تھی جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت داؤد نے اپنی غلیل کے پتھر سے ایسا نشانہ مارا کہ جو سیدھا جالوت کی آنکھ میں جا کر لگا وہ زمین پر گر پڑا اور حضرت داؤد نے آگے بڑھ کر اس کاسر قلم کر دیا

جالوت کی موت سے اس کی فوج کے حوصلے جواب دے گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور یوں اللّٰہ نے اتنی کم تعداد میں ہونے کے باوجود نہ صرف یہودیوں کو فتح نصیب کی بلکہ انہیں تابوت سکینہ بھی واپس مل گیا اور آزادی بھی مل گئی طالوت یہودیوں کا بادشاہ بن گیا اس نے کنعان (فلسطین کا پرانا نام ) میں یہودیوں کی حکومت قائم کر دی

طالوت کے مرنے کے بعد حضرت داؤد حکمران بنے اور انہوں نے پہلی بار ییروشلم کو فتح کیا اور یہودیوں کی دونوں ریاستوں یہودہ اور اسرائیل کو یکجا کر کے ایک متحدہ عظیم الشان سلطنت قائم کی جس کا دارالسطنت یروشلم تھا اور یوں یہودیوں کے اس سنہری دور کا آغاز ہوا جو سو سال تک قائم رہا۔

یہودیوں کی مقدس کتاب سموئیل Book of Samuel میں یہ واقعہ اتنی تفصیل سے لکھا ہے کہ جالوت Goliath اور حضرت داؤد کاحلیہ تک بیان کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے مطابق جالوت کا قد نو فٹ اور نو انچ تھا ۔ جبکہ حضرت داؤد کا قد پانچ فٹ آٹھ انچ کے قریب بیان کیا گیا ہے ۔ یہیں سے انگریزی میں David and Goliath گولیت کی ضرب المثل مشہور ہوئی جب دو مخالفین کا آپس میں طاقت ، جسامت اور وسائل کے اعتبار سے کوئی موازنہ نہ کیا جاسکتاہو۔ اور کمزور مقابلہ جیت جائے تو اس موقعہ پر David and Goliath کی مثال دی جاتی ہے

ٹھیک دو ہزار سال بعد 3 ستمبر 1260ء( 25 رمضان 658 ہجری ) کو یہ علاقہ ایک بار پھر ایک اور تاریخ ساز جنگ کا میدان بنا جو دنیا کی دس بڑی تاریخ ساز جنگوں میں شمار ہوتی ہے اس جنگ نے ایک بار پھر دنیا کی تاریخ کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔

ڈیوڈ اور گولئیتھ David and Goliath ایک بار پھر آمنے سامنے تھے ۔

جس طرح دیو قامت جالوت

Recent Column