آج کادن 17 ستمبر
عدنان میندریس کایوم شہادت
اس دن کے حوالے سے لکھا مضمون جو میری کتاب زبان یار من ترکی میں شامل ہے
کمال پاشا کا ترکی یا عدنان میندریس کا ترکیہ
اگست۲۰۱۹ء کی ایک بہت خوشگوار شام تھی ۔ استنبول کی فضاؤں میں ہلکی ہلکی خنکی چھائی تھی ۔ میں ایک دوست سے ملنے کے بعد واپس اپنے ہوٹل جا رہا تھا۔ ٹیکسی ڈرائیور کا نام حسن گࣿل تھا جو بلا کا باتونی تھا ۔ وہ پچاس کے پیٹے میں ہوگا۔ وہ کوئی بہت پڑھا لکھا تو نہیں تھا لیکن پچھلے تیس سال سے استنبول کی سڑکوں پر ٹیکسی چلا رہاتھا۔ روز اس کا واسطہ سیاحوں سے پڑتا تھا شائد اسی لئے اس کی انگریزی استنبول کے اکثر ڈرائیور وں کی نسبت بہت اچھی تھی۔ استنبول میں اتنی اچھی انگریزی بولنے والا ٹیکسی ڈرائیور نصیب والوں کو ملتا ہے ۔ یہ جاننے کے بعد کہ میرا تعلق پاکستان سے ہے اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی اور لہجے کے گرم جوشی میں اضافہ ہوگیا۔اس نے معلومات کے دریا بہا دئیے ۔ وہ مجھے سڑک کے کنارے گذرتی عمارتوں کے بارے میں بتاتا رہا۔
اچانک میری نظر ایک چبوترے پر بنی اونچی عمارت پر پڑی ۔ جوچینی طرز کی پگوڈا نما عمارت تھی۔اس عمارت کی طرز تعمیر بڑی مختلف تھی۔ میں نے ایسی عمارت ابھی تک استنبول میں نہیں دیکھی تھی۔ اس کی منفرد طرز تعمیر سے نظر ہٹنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔ پوچھنے پر حسن نے بتایا کہ یہ عدنان منڈریس کا مقبرہ ہے۔
پھر وہ مجھ سے پوچھنے لگاکہ کیا میں عدنان منڈریس کو جانتا ہوں اس پر میں نے جواب دیا کہ ہم تو کئی دنوں سے اس مقبرے کو تلاش کر رہے ہیں۔یہ تو میرا ہیرو ہے ۔
میرا یہ جواب سن کر ٹیکسی ڈرائیور کے چہرے پر جیسے شفق سی پھیل گئی ۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی ۔
جب میں نے ٹیکسی رکوائی اور اسے فارغ کرنے کے ارادے سے پیسے نکالنے کے لئے جیب میں ہاتھ ڈالا تو اس نے گرمجوشی اور محبت سے جواب دیا کہ میں تسلی سے اوپر جا کر فاتحہ پڑھ سکتا ہوں ۔ وہ نیچے میرا انتظار کرے گا۔ میں نے ممنون بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور اسے وہیں ٹھہرنے کا کہہ کرمقبرے کی سیڑھیاں چڑھ گیا۔
اوپر ایک بڑے چبوترے پر پگوڈا نما چھتری کے نیچے عدنان میندریس اپنے دونوں رفیقوں وزیرخارجہ فطین اور وزیر خزانہ حسن کے درمیان محو خواب تھا۔ تینوں قبروں کے گرد خاصے لوگ جمع تھے ۔ کچھ اردگرد بیٹھے قرآن پڑھ رہے تھے۔
میں نے بھی دوسرے زائرین کی دیکھا دیکھی فاتحہ کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے۔
عدنان منڈریس کا نام بچپن سے سن رکھا تھا۔ذرا بڑے ہوئے سیاسی سمجھ بوجھ آئی تو وہ ہیرو کادرجہ اختیار کر گیا۔ عدنان منڈریس، ترکی کا وہ مظلوم وزیراعظم ہے ۔ جسے 17 ستمبر 1961ء میں غداری کے الزام میں تخت دار پر لٹکادیا گیا تھا۔
عدنان منڈریس کا “پہلا جرم“یہ تھا کہ اس نے قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کرتے ہوئے اسمبلی کے ذریعے اُس قانون کو منسوخ کروایا۔جس کے تحت ترکی میں عربی زبان میں اذان دینے پر پابندی تھی۔اس فیصلے کے نتیجے میں ۱۷ جون ۱۹۵۰ء کو اٹھارہ سال بعد ترکی کے طول و عرض میں عربی میں اذان دی گئی۔
عدنان منڈریس کا
“دوسرا جرم“ مسلم دنیا میں بابائے سیکولر ازم“مصطفی کمال پاشا “ کے مزار کے عین سامنے مسجد تعمیر کروانا تھا۔ جس کے لیے اس نے اپنی جیب سے ایک لاکھ لیرا (ترک کرنسی) دیے تھے۔
عدنان منڈریس کا “تیسراجرم“ اتاترک کی حج بیت اللّہ پر عائد کی گئی پابندی اٹھانا تھا۔اس کے اس اقدام سے ربع صدی یعنی ۲۵ سال بعد ۱۹۵۰ء ہی میں ۳۲۴ ترک باشندوں نے فریضہ حج اداکیا۔
عدنان منڈریس کا چوتھا”جرم“ یہ تھا کہ وہ عثمانی خلیفہ اور ان کے اہل وعیال کو واپس لایا تھا۔ اس کا پانچواں جرم پردے کی پابندی کو نرم کرنا تھا۔
عدنان منڈریس نے وہ بیڑیاں بڑی حد تک کاٹ ڈالیں جو ترکی میں قیامِ جمہوریت کے وقت اسلام کے پاؤں میں ڈال دی گئی تھیں۔ پچیس سال کے بعد ترکی کی مسلم شناخت واپس آنے لگی تھی ۔ لیکن کمال پاشا کی باقیات سے یہ برداشت نہ ہوسکا۔
مئی 1960ء میں ترک فوج نے حکومت کا تختہ الٹ کر عدنان اور اس کی کابینہ کے دو اراکین کو شہزادوں کے ایک جزیرے Princess Islands
یسی ایڈا (میر علی ۔ میرالی) میں قائم فوجی تنصیبات میں قید کر دیا ۔ بعد میں اسی جزیرے پر عدنان اور اس کے ساتھیوں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا۔اور آئین کی خلاف ورزی اور غداری کا بے بنیاد الزام لگاتے ہوئے انہیں پھانسی کی سزا سنا دی۔
فوج پر”سیکولر ازم کےدفاع“ کا جنون اس قدر سوار تھا کہ اس نے امریکی صدر جان ایف کینیڈی اور ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوئم سمیت کئی عالمی رہنماؤں کے مطالبوں کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا۔
۱۷ستمبر ۱۹۶۱ء کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔پھانسی پانے والے دو دیگر سیاست دانوں میں عدنان کی کابینہ کے وزیر خارجہ فطین رشتو زورلو اور وزیر خزانہ حسن پولاتکان بھی شامل تھے۔
۱۹۲۴ء میں جب کمال پاشا نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرکے ترکی کو سیکولر اور جمہوری ملک بنا کر اسلام اور اسلام سے وابستہ ہر شئے پر پابندی لگائی تو استاد بدیع الزماں سعید نورسی اس کی راہ کے رکاوٹ بنے انہوں نے اپنی تحریک اور رساله نور كلیاتی کے
ذریعے ترکی میں اسلام اور اسلامی شعار کی شمع کو روشن کئے رکھا۔ ان کی زندگی قید و بند کی صعبوبتیں برداشت کرتے گذری لیکن ترکی کی اسلامی شناخت کو قائم رکھنے والی تحریک کا خاتمہ نہ ہوسکا۔
عدنان میندریس استاد نوریسی کا ہی لگایا ہوا پودا تھا جس نے سیاست کے میدان میں آگے بڑھ کر کمال پاشا کی لادینی اور سیکولر سوچ کو جمہوری طریقے سے شکست دی تھی ۔
۱۹۶۱ء میں ترک فوج نے عدنان میندریس کو تختہ دار پر لٹکا دیا ۔ اࣿسی سال استاد نوریسی کی قبر جو عرفہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی غار کے باہر واقع تھی اسے کھود کر مسمار کر دیا گیا اور ان کا جسد خاکی ہی


