آج کادن – 16 ستمبر
طلاس کی جنگ اور کاغذ کی کہانی
Battle of Talas & Story of Paper
قازقستان اور قیرغستان کے باڈر پر دریائے طالاس Talas کے کنارے قازقستان میں ایک چھوٹا سا شہر آباد ہے جسے طاراز Taraz کہتے ہیں یہ تین ہزار سال پرانا شہر سنڑل ایشیاء کا قدیم ترین شہر ہے جو شاہراہ ریشم پر واقع تھا
16 ستمبر ( بعض روایات میں جولائی ) 751ء کو یہاں چینی تانگ (Tang ) شہنشاہ اور پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس السفاح کے درمیان ایک جنگ ہوئی جسے دریائے طالاس کی جنگ Battle of Talas ( معرکہ نہر طلاس ) کہتے ہیں
یہ جنگ دنیا کی ان بڑی تاریخ ساز جنگوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے موجودہ دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیا اور یہ تاریخ کی واحد جنگ بھی ہے جو عربوں اور چینیوں کے درمیان سنڑل ایشیاء
( ماوراءالنہر ) کا قبضہ حاصل کرنے کے لئے لڑی گئی اور جس کے بعد مسلمانوں اور چینیوں کے درمیان جاری سوسالہ چپقلش کا اختتام ہو گیا
ماوراءالنہر عربی میں اس علاقے کو کہتے ہیں جو سائر دریا ( Syr Darya) اور دریائے آمو کے درمیان واقع ہے اور جہاں موجودہ ازبکستان ، تاجکستان ، قازکستان اور قیرغستان آباد ہیں
مسلمانوں اور چینیوں کے درمیان اقتدار کی یہ سو سالہ پرانی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حضرت عمر کے دور میں مسلمانوں نے 641ء میں جنگ نہاوند میں فتح کے بعد ایران فتح کیا اور پھر ماوراءالنہر کی طرف متوجہ ہوئے تو چینی جو ایرانیوں کے اتحادی بھی تھے انہیں سنڑل ایشیاء کی طرف بڑھتی مسلمانوں کی یہ یلغار اپنے اقتدار کے لئے بڑا خطرہ محسوس ہوئی دریائے آمو کے پار کے علاقے بلخ غزنی باغ دیس اور فریاب اور ہرات جو آجکل افغانستان کا حصہ ہیں وہ تو حضرت عمر کے دور میں ہی اسلامی سلطنت کا حصہ بن گئے تھے اور کچھ حضرت عثمان کے دور میں فتح ہوئے
اموی خلیفہ ولید بن عبدالمالک کے دور میں قتیبہ بن مسلم نے 710ء میں کاشغر 712ء میں بخارا ، فرغانہ اور 714ء میں سمرقند فتح کیاتو مسلمان تقریباً پورے ماوراءالنہر میں غالب آگئے لیکن بعد میں امویوں اور عباسیوں کے درمیان ہونے والی چپلقش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چینیوں نے ان تمام علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
المقدسی نے اپنی کتاب “احسن التقویم فی معرفت الاقلیم ۔ The Best Divisions for Knowledge of the Regions” میں اس جنگ کے بارے میں تفصیل سے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “ طلاس کی جنگ میں ہونے والی عبرت ناک شکست کے ساتھ ہی سنڑل ایشیاء پر صدیوں سے قائم چینی تسلط ہمیشہ کے لئےختم ہوگیا – اور یہ علاقے مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔ “
751ء کو دریائے طالاس کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ میں چینی سپہ سالار جاؤ ژیانگ ہی (Gao Xianzhi ) کا مقابلہ زیاد بن صالح سے تھا
چارلس پیڑک فٹزجیرالڈ Charles Patrick Fitzgerald اپنی کتاب “China – A short cultural History “ میں لکھتا ہے کہ “اس جنگ میں چینی فوج کی تعداد نوے ہزار کے قریب تھی جس میں ترک بھی شامل تھے جبکہ مسلمان تیس ہزار تھے اور انہیں تبتیوں کی مدد حاصل تھی جنگ کے دوران عین اس وقت جب چینی لشکر غالب آرہا تھا ترک سپاہی چینیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گئے اور یوں چینی فوج کو عبرت ناک شکست ہوئی اور پچاس ہزار کے قریب چینی سپاہی لقمہ اجل بنے جن میں سے اکثر فرار ہوتے ہوئے دریائے طلاس کی طغیانی موجوں کی نذر ہوئےاور کئی ہزار جنگی قیدی بنے جاؤ ژیانگ ہی بھیس بدل کر بڑی مشکل سے جان بچا نے میں کامیاب ہوسکا اس جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کو گو بہت بڑی ایسی جنگی فتح تو نہ ملی جس کی وجہ سے کوئی بہت بڑا نیا علاقہ ان کے قبضے میں آجاتا کیونکہ اس جنگ کے فوراً بعد زیاد بن صالح کو دوسرے محاذ پر بھیج دیا گیا ۔ لیکن یہ جنگ اس لحاظ سے بہت اہم رہی کہ اس کے نتیجے میں صدیوں پرانا چینی تسلط اور گرفت اس علاقے پر کمزور ہوئی ۔ یہ جنگ اس تبدیلی کا پیش خیمہ ضرور بنی جس میں چینیوں کی شکست کے بعد آنے والی چند ہی دھائیوں میں سنڑل ایشیاء میں چینیوں کے صدیوں پرانےاقتدار کا سورج ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا اور یہ علاقے مسلمانوں کے قبضے میں چلے گئے۔ یہ جنگ اپنے نتائج کے اعتبار سے اتنی زیادہ اہم اور تاریخ ساز ہے کہ اس کے بعد یہ سارا علاقہ بدھ مت کے پیروکاروں سے صاف ہو کر ہمیشہ کے لئے مسلم ہوگیا چینی تہذیب اور زبان کی جگہ عرب ایرانی اور مسلم کلچر تہذیب اور تمدن نے لے لی اور یوں اس علاقے کی صدیوں پرانی ہیت ہی بدل کر رہ گئی “
المقدسی ، طبری ، الیعقوبی ، ابو منصور ثعالبی اور دوسرے مسلمان تاریخ نگاروں کے ساتھ پروفیسر ژی زونگ ذہنگ Xue Zongzheng اور پروفیسر ڈینس سونار سمیت کئی یورپی اور چینی مستشرقین نے لکھا ہے کہ اس جنگ کا سب سے بڑا فائدہ مسلمانوں کو یہ ہوا کہ کاغذ بنانے کا راز مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔
کاغذ کی صنعت پر چینیوں کی اجارہ داری سات سو سال سے قائمُ تھی
یوں تو چینی سو سال قبل مسیح سے ہی درخت کی چھال سے کاغذ بنانے کے فن سے واقف تھے جسے ہمپ Hemp paper کہتے ہیں
لیکن یہ کائی لن Cai Lun تھا جس نے ھان Han بادشاہوں کے دور میں 105 ء میں کاغذ کی موجودہ ہیت دریافت کی اور پھر کاغذ بنانے کے فن کو ایک باقاعدہ صنعت کا درجہ دیا یہ وہی کائی لن ہے جسے مائیکل ہارٹ نے اپنی مشہور اور معرکتہ آراء کتاب
“ دی ہنڈرڈ The Hundred “ کے پہلے ایڈیشن میں رسول اکرم صلعم اور نیوٹن کے بعد تیسرے نمبر پر جگہ دی
اس کے بعد سے کاغذ بنانے کا فن ایک سٹیٹ سکیرٹ State Secret کی حیثیت اختیار کر گیا اور صرف چند لوگ ہی اس راز سے واقف ہوتے اور یہ نسل در نسل منتقل ہوتا
اس طرح چینیوں نے سات سو سال تک اس صنعت پر اجارہ داری قائم رکھی کہ وہ کا غذ بناتے اور ساری دنیا کو منہ مانگے داموں بیچتے لیکن اسے بنانے کی ترکیب صرف چند خاص لوگ ہی جانتے ان لوگوں کو چینی ریاست میں بہت خصوصی اور اعلی ترین مقام حاصل ہوتا اور ان کی ہر طرح سے حفاظت کی جاتی ۔
ابو منصور ثعالبی نے بڑی تفصیل سے لکھاہے کہ
“ جنگ طلاس میں گرفتار ہونے والے قیدیوں میں دو


