طغرل بیگ

‎ آج کا دن ۔ 4ستمبر 1063ء
‎اس سلطان کا قصہ جس نے مسلم اُمّہ کی بکھرےہوئے موتیوں کوسمیٹا۔ اور بکھرے موتیوں کو ایک مالا میں پرو دیا ۔

‎آج سلجوقی سلطنت کے بانی طغرل بیگ کا یوم وفات ہے، وہ سلطان جس نے عباسیوں کے زوال پر مسلمانوں کو نیا عروج بخشا مردہ قوم کے جسم میں نئی روح پھونک دی اور ایک ایسی سلطنت کی مضبوط بنیادیں رکھیں جو بعد میں موجودہ ترکی سے لے کر افغانستان اور وسط ایشیا سے لے کر عمان تک پھیل گئی اسکی سرحدیں دریائے ڈینوب سے لے کر دریائے سندھ تک پھیلی تھیں

دسویں صدی عیسوی کے آغاز میں ارغوز ترکوں کا ایک قبیلہ کیانک (قنق ) سنٹرل ایشیاء سے ہجرت کر کے موجودہ قازقستان کے علاقے میں آباد ہوا ۔
‎اس قبیلے کا سردار سلجوق بن تیمور یا لگ تھا ۔
985ء میں سلجوق نے اسلام قبول کیا وہ پہلا ترک تھا جس نے اسلام قبول کیا
وہ ایک کرشماتی شخصیت کا مالک تھا ترکوں کے بکھرے ہوئے قبیلے اس کے گرد اکٹھے ہونے لگے
اور بہت جلد اس نے موجودہ قازقستان کے علاقے میں ایک چھوٹی سی ریاست قائم کر لی جو آنے والے سالوں میں عظیم الشان سلجوق سلطنت کی بنیاد بنی ۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مولانا مودودی رحمتہ علیہ نے تاریخ کے موضوع پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ انہوں نے ۱۹۲۹ء میں سلجوقوں کی تاریخ پر ایک انتہائی شاندار کتاب لکھی تھی ۔ جس کا نام “سلاجقہ” ہے۔

اس کتاب میں مولانا نے مستند حوالوں سے سلجوقوں کے عروج وزوال پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

مولانا نے ابن تاثیر کی کتاب تاریخ الکامل کے حوالے سے لکھا ہے کہ

سلجوق کے پانچ بیٹے تھے ۔ بڑے بیٹے میکائیل سے اسے بہت پیار تھا طغرل بیگ 990ء میں میکائیل کے ہاں پیدا ہوا۔ میکائیل نوجوانی ہی میں گھوڑے سے گر کر مر گیا ۔۔ اس کی موت کے بعد سلجوق نے میکائیل کے دونوں بیٹوں چغری بیگ داؤد اور طغرل بیگ کو اپنی سر پرستی میں لے لیا اور ان کی تعلیم و تربیت میں خاص طور پر دلچسپی لی ۔
قنق قبیلہ اب سلجوق قبیلہ کہلاتا تھا ۔
۱۰۰۹ء میں سلجوق بیگ کے انتقال کے بعد اس کا دوسرا بیٹا ارسلان اسرائیل سلجوق قبیلے کا سردار بن گیا۔
اس وقت غزنوی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط ترین سلطنت تھی ۔ اور تقریباً سارا سنڑل ایشیاء اور ماورالنہر ان کے زیر تسلط تھا۔ ارسلان کے دور میں سلجوق قبیلے نے بہت طاقت پکڑ لی۔ اور وہ سنٹرل ایشاء میں غزنوی سلطنت کا سب سے بڑا حریف بن کر ابھرا۔
۱۰۲۵ء میں جب محمود غزنوی نے بخارا پر حملہ کیا تو ارسلان اور سلجوق قبیلے نے امیر بخارا کا ساتھ دیا ۔ محمود غزنوی فتح یاب ہوا ۔ ارسلان اپنے بیٹے قتلمش سمیت گرفتار ہوا۔
ابوالفضل بیہقی جو گیارہویں صدی عیسوی کا مشہور تاریخ دان گذرا ہے اور محمود غزنوی کے بیٹے مسعود غزنوی کے مصباحین میں شامل تھا اس نے “تاریخ بیہقی “کے نام سے غزنوی خاندان اور سلجوقوں کے ظہور کی تاریخ لکھی ہے جو آنکھوں دیکھے حالات پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب فارسی میں ہے ۔ اس کی تیس جلدوں میں سے صرف پانچ جلدیں آج کل میسر ہیں اس نے ارسلان اسرائیل کی گرفتاری کے بارے میں چشم دید گواہوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ محمود غزنوی سلجوقیوں کی ابھرتی ہوئی طاقت سے بہت فکرمند تھا۔
اس نے ان کی طاقت کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ارسلان کو صلح کا پیغام بھیجا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ ارسلان اپنے بیٹے قتلمش اور دیگر سلجوقی سرداروں کے ساتھ محمود غزنوی سے ملنے آیا۔
محمود نے اس کی بڑی آؤبھگت کی اور بہت عزت کے ساتھ پیش آیا۔ اور انہیں انعام و اکرام اور شاہی خلعت سے نوازا۔ ایک دن اس نے ارسلان سے درخواست کی کہ اسے ہندوستان کی مہم کے لئے اس کی فوجی مدد درکار ہے۔
ارسلان نے اسے اپنا تیر دیتے ہوئے کہا۔ کہ جب بھی اسے سلجوقیوں کی مدد درکار ہو وہ یہ تیر کسی کے ہاتھ بھجوا دے تو ایک لاکھ سلجوقی فوجی اسکی مدد کو پہنچ جائیں گے ۔
محمود نے کہا اگر ایک لاکھ فوجی کافی نہ ہوئے ؟
ارسلان نے دوسرا تیر دے کر کہا کہ اگر آپ ان دونوں تیروں کو بغان کوہ بھیجیں گے تو پچاس ہزار فوجی اور آجائیں گے ۔
محمود نے کہا اگر وہ بھی کافی نہ ہوئے ؟
تو اس پر ارسلان نے اپنی کمان بھی اسے دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ یہ کمان بھی بھیجیں گے تو دو لاکھ سلجوقی فوج آپ کی مدد کے لئے حاضر ہوجائے گی ۔
اس گفتگو سے محمود غزنوی کو سلجوقوں کی اصل طاقت کا اندازہ ہوگیا۔ اور اسے محسوس ہوا کہ اگر ان کا سدباب نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں سلجوق غزنوی سلطنت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں چنانچہ اس نے ایک دن ارسلان اور اس کے سالاروں کو گرفتار کر کے کالنجر کے قلعے میں قید کر دیا ۔
حمد اللّٰہ بن ابی بکر مستوفی کی کتاب تاریخ گزیدہ اور ابوبکر نجم الدین محمد بن الراوندی کی کتاب راحتہ الصدور میں بھی یہ واقعہ تفصیل سے درج ہے۔ ابن تاثیر نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
یہ قلعہ ملتان کے قریب واقع تھا۔
مولانا مودودی نے بھی اپنی کتاب ” سلاجقہ” میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے علی عزالدین بن الاثیر الجزری (دسویں صدی عیسوی کا بڑا مشہور عرب تاریخ دان )کے حوالے سے تحریر کیاہے کہ
ارسلان کی غیرموجودگی میں سلجوق قبیلے کی قیادت طغرل بیگ کے ہاتھوں میں آگئی۔
۱۰۳۲ء میں ارسلان کا دوران اسیری ہی کالنجر قلعے میں انتقال ہوگیا۔ چند سال بعد اس کا بیٹا قتلمش کسی نہ کسی طرح وہاں سے فرار ہو کر جنڈ پہنچ گیا ۔
اس دوران محمود غزنوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ اور اس کا بیٹا مسعود اوّل غزنوی سلطنت کا حکمران بن چکا تھا ۔
قتلمش نے اپنے چچازاد بھائی طغرل بیگ کے ساتھ مل کر سلجوق سلطنت کے قیام میں بڑااہم کردار ادا کیا۔

Recent Column