حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی تعالی عنہ

مسلمانوں کی فوج کے سپریم کمانڈر جنہوں نے دنیا کی دو سپر پاورز کو شکست دی

حضرت معاذ بن جبل رضی تعالیٰ عنہ کا دیدار کر کے نکلے تو سورج تقریباً نصف النہار پر تھا دھوپ کی شدت اور حدت میں خاصا اضافہ ہو چکا تھا لیکن یہ شدت ناگوار نہیں تھی وادی اردن کے نشیب و فراز میں دور دور تک

پھیلےانگور اور زیتون کے باغات بہت خوبصورت لگ رہے تھے

یہ وادی اپنی خوبصورتی اور سبزے کی بہتات کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے اس سفر کے دوران ابھی تک ہم نے ایسا سر سبز اور خوبصورت علاقہ نہیں دیکھا تھا نہ اسرائیل میں اور نہ اردن میں

حمزہ نے جب یہ بتایا کہ بابا یروشلم یہاں سے صرف بیس پچیس کلومیٹر دور ہے تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا

لیکن جب بھی ہماری کار کسی پہاڑ ی کی چوٹی پر پہنچتی تو سامنے دریائے اردن اور بحیرہ مردار کے اس پار مقبوضہ فلسطین نظر آنے لگتا۔

اسرائیلی موبائیل فون کی سم اب پوری طرح کام کر رہی تھی اسی نیٹ ورک network پر میں نے آج صبح میدان یرموک سے اپنی لائیو وڈیو شئیر کی تھی۔

وہ کہہ رہا تھا کہ وادی اردن اس ملک کی خوبصورت ترین اور زرخیز ترین وادی ہے اور اس صحرا کو اس سبزے میں تبدیل کرنے کا سب سے بڑا سہرا ان پاکستانی کاشتکاروں کو جاتا ہے جو بھٹو کے دور میں ایک معاہدے کے تحت سندھ اور بلوچستان سے آکر یہاں آباد ہوئے تھے آج ان کی دوسری اور تیسری نسل یہاں بستی ہے

پچھلی رات عمان کے واحد پاکستانی ریستوران میں ہمیں جو لڑکا ملا تھا وہ غالباً انہی کاشتکاروں کی تیسری نسل سے تھا۔

اب ہم کہاں جارہے ہیں ؟

میں نے حمزہ سے پوچھا تو اس نے جواب دیا کہ اب ہم حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے مقبرے پر جائیں گے تو میں چونک گیا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

ان لمحات کا مجھے جانے کب سے انتظار تھا مجھے یقین نہیں آرہا تھا مجھے اس جلیل القدر صحابی کے حضور باریابی کی سعادت نصیب ہونے والی ہے ۔

جنہیں اللّٰہ نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت سنا دی تھی میرا صبر جواب دینے لگا۔

“ہمیں وہاں پہنچنے میں کتنی دیر لگے گی “

تقربیاً چالیس منٹ میں ہم وہاں ہوں گے اس نے اپنے مخصوص اردو لہجے میں عربی کا ٹانکا لگاتے ہوا کہا

اور میں بے تابی سے ان لمحات کا انتظار کرنے لگا جب میں ان کے حضور حاضری دوں گا ۔

حمزہ اب بلال کو حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی تعالیٰ عنہ کے بارے میں بتا رہا تھا اس کی معلومات کا ذخیرہ بہت وسیع تھا ۔ پتہ نہیں وہ کہاں سے یہ سب پڑھنے کے لئے وقت نکال لیتا تھا ۔ مجھے اس کے علم پر رشک آنے لگا۔

وہ کہہ رہا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ رضی تعالیٰ عنہ قریش کے قبیلے سے تعلق رکھتے تھے وہ ۵۸۳ ء کو مکہ میں پیدا ہوئے۔ان کا اصل نام عامر بن عبداللّہ بن الجراح تھا ان کے داداقریش کے مشہور طبیب تھے۔

عبیدہ ان کے بیٹے کا نام تھا گو کہ ان کے والد کا نام عبداللّہ تھا لیکن وہ اپنے دادا اور بیٹے کی نسبت سے ابوعبیدہ بن جراح کہلاتے تھے ۔

ابو قتیبہ نے لکھا ہے کہ حضور اکرم صلعم نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ ابو عبیدہ میری قوم کے امین ہیں لہٰذا تاریخ میں وہ “امین الامت “کے نام سے مشہور ہوگئے ۔

۲۸ سال عمر تھی ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اسلام قبول کیا اور وہ بھی اگلے ہی دن مسلمان ہو گئے اور پھر پوری زندگی رسول اللّہ ﷺ کے لیے وقف کر دی ۔ رسول اللّہ ﷺ نے حکم دیا اور وہ حبشہ چلے گئے ۔ واپس بلایا ۔واپس آ گئے ۔ مدینہ کی طرف رخ موڑا ۔ وہ مدینہ منورہ پہنچ گئے۔

غزوہ بدر میں والد کفار کی طرف سے سامنے آیا ۔ تلوار کا وار کیا اور اپنے والد کو قتل کر دیا ۔ یہ قربانی ایسی قربانی تھی کہ قرآن مجید کی آیت اتری اور یہ کارنامہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔

غزوۂ احد میں آنحضرت ﷺ زخمی ہوئے اور چہرہ مبارک میں زرہ کی دوکڑیاں چبھ گئیں ۔ محبوب تکلیف میں تھا۔ جب وہ ہاتھوں سے نہ نکل سکیں تو اپنے دانتوں سے کھینچ کر انہیں باہر نکال دیا اس کوشش میں سامنے کے دو دانت شہید ہوگئے ۔ لیکن کسے اپنے دانتوں اور چہرے کی خوبصورتی کی فکر تھی ؟ رسول اللّہ ﷺ کی محبت میں دو دانتوں کی کیا حثیت تھی ان کے لئے جان بھی نثارہوجاتی تو پرواہ نہ تھی۔

نبی اکرمؐ کے ساتھ ہر غزوہ میں شرکت کی ۔ آپؐ کے حکم پر ہر جنگ میں شریک ہوئے اور کام یاب بھی لوٹے ۔ وہ رسول اللہﷺ کے ان دس ساتھیوں(عشرہ مبشرہ) میں شامل تھے جنھیں زندگی میں جنت کی بشارت دی گئی تھی ۔ طبری نے لکھا ہے کہ آپ صلعم کے بعد خلافت کا مسئلہ کھڑا ہوا تو سقیفہ بنی ساعدہ کی عمارت میں ہونے والے اجلاس میں جب حضرت ابو بکر کے نام پر اتفاق ہوگیا ۔ تو انہوں نے انکار کرتے ہوئے حضرت عمر یا حضرت ابو عبیدہ میں کسی ایک کو خلیفہ بنانے کی درخواست کی لیکن دونوں نے یہ پیشکش ٹھکرا دی اور اور حضرت ابو بکر کو ہی خلیفہ بنانے پر اصرار کیا ۔ سقیفہ بنی ساعدہ پیغمبر محمدصلعم کے دور میں مدینہ کی وہ عمارت تھی جہاں بنو خزرج کی ایک شاخ بنی ساعدہ اپنے اجلاس کیا کرتے تھے ۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں شام جانے والی فوجوں کے سپہ سالار تھے۔حضرت عمر فاروقؓ ان کی سادگی اور جرات کے مداح تھے۔ آپؓ خلیفہ بنے تو انہیں حضرت خالد بن ولید پر فوقیت دیتے ہوئے شام اور ایران کے اسلامی لشکر کا سپریم کمانڈر بنا دیا ۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوئے اور مسلمانوں نے ان کی کمان میں قیصر اور کسریٰ کی دونوں سلطنتوں کو اپنے گھوڑوں کے سموں تلے روند کر رکھ دیا۔

وہ آخر میں شام اور موجودہ اردن

Recent Column