آج کا دن
جنگ ماریٹسا(مرچا)
Battle of Maritsa
26 ستمبر 1371ء
کو لڑی جانے والی
وہ تاریخ ساز جنگ ہے جس میں صرف آٹھ سو ترکوں نے ستر ہزار کے لشکر کو شکست دی
اور لالہ شاہین پاشا کی کہانی جس نے صرف اٹھارہ سپاہیوں کے ساتھ جنگ کا نقشہ بدل دیا
“یہ مضمون میری کتاب “ زبان یار من ترکی میں شامل ہے ۔ “
مجھے لالہ شاہین کی قبر اور اس مدرسے کی تلاش تھی جو اس کے نام سے
بر صہ میں قائم تھا لیکن لگتا تھا کہ یا تو برصہ والے میری زبان نہیں سمجھ رہے تھے یا وہ واقعی لالہ شاہین کو نہیں جانتے تھے ۔
میں اکیلا پرانے برصہ میں پیدل پھرتا رہا ۔
سارا عثمان غازی ڈسڑکٹ چھان مارا ۔ ہر جگہ گیا ۔ کئی لوگوں سے پوچھا ۔ ہر بار زبان کی تنگی آڑے آئی ۔ یہاں تک کہ پیر درد کرنے لگے ۔
لیکن لالہ کو نہ ملنا تھا نہ ملا۔
رات کو علی سے ملاقات ہوئی ۔ اس سے ذکر کیا لیکن وہ بھی اس سے ناواقف نکلا ۔
میں نے اس کے استفسار پر لالہ شاہین کی ساری کہانی اسے سنائی ۔
جسے سن کر وہ بہت پر جوش نظر آنے لگا ۔
کہنے لگا ڈاکٹر ! یہ تو مجھے پتہ تھا کہ تمہیں ترکوں کی تاریخ پر عبور حاصل ہے لیکن تم ہماری تاریخ کو اتنا زیادہ جانتے ہو یہ معلوم نہ تھا ۔
دوسرے دن وہ مجھے ساتھ لے کر برصہ کی مرکزی لائبریری پہنچ گیا ۔
اس کی زبان مہتمم کو سمجھ آ کئی اور ہمیں لالہ شاہین کا پتہ مل گیا ۔
بوڑھا مہتمم کہنے لگا کہ
“آج بہت دنوں کے بعد کوئی لالہ شاہین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے ورنہ بیشتر سیاح تو عثمان غازی کے مزار کی زیارت کر کے اور سلطان بایزید یلدرم کی مسجد میں تصاویر کھنچوا کر الودا پہاڑ کی سیر کو واپس چلے جاتے ہیں یا برصہ کے گرم حماموں کا رخ کرتے ہیں ۔ “
پھر مجھ سے پوچھنے لگا کہ
“کیا میں کوئی ریسرچ سکالر ہوں “۔
اور جب علی نے اسے میرے بارے میں بتایا کہ میں پاکستانی ہوں اور ڈاکٹر ہوں تو وہ بہت خوش ہوا اس کے لہجے میں گرمجوشی اور محبت جھلکنے لگی اس نے مجھے کاردش کہہ کر مخاطب کیا اور ہمیں کافی پلانے پر اصرار کرنے لگا۔
لیکن ہم اس کا شکریہ ادا کر کے باہر نکل آئے اور لالہ شاہین کے پاس پہنچ گئے ۔
عصمت پاشا روڈ پر دریائے نیلو فر کے کنارے مصطفی کمال پاشا کمپلکس
کے ایک کونے میں لالہ شاہین پاشا کا مقبرہ تھا جس کے ساتھ ملحقہ مسجد ایک مدرسہ کی عمارت اور ایک حمام بھی تھا ۔یہ ساری عمارات لالہ شاہین نے اپنی زندگی میں تعمیر کروائی تھیں ۔ کتب خانے کے بوڑھے مہتمم نےہمیں بتایا تھا کہ ان عمارات کی دیکھ بھال لالہ شاہین فاؤنڈیشن کرتی ہے ۔1855 ء کو برصہ میں جو خوفناک زلزلہ آیا تھا اس میں یہ عمارات تباہ ہوگئی تھیں اور 1948 ء میں ان کو از سر نو تعمیر کیا گیا تھا۔
لالہ کی قبر کے سرہانے کھڑا فاتحہ پڑھتے ہوئے کئی بار میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ جب سے میں برصہ آیا ہوں میں نے صرف سلطانوں کے مقبروں پر ہی حاضری دی ہے ۔ صرف شاہی خاندان کے افراد کی قبروں پر ہی فاتحہ پڑھی ہے آج پہلی بار ایک جرنیل کی قبر پر کھڑا ہوں جس کا شاہی خاندان سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ لیکن لالہ شاہین پاشا کی قبر پر دعا مانگتے ہوئے میری جو کفیت ہے وہ کسی سلطان کے حصے میں نہیں آئی واقعی عظمت شاہی خون کی نہیں جرآت و ہمت کی مرہون منت ہوتی ہے ۔
لالہ شاہین پاشا رومیلی کا گورنر تھا وہ برصہ کا رہنے والا تھا
وہ رومیلیا کا پہلا ابیگلربیگ (Rumelia Beylerbeyi) تھا ۔ رومیلیا عثمانی سلطنت کے یورپی حصےکو کہتے تھے۔
لالہ شاہین وہ پہلا ترک بھی ہے جسے پاشا کا خطاب ملا۔
لالہ شاہین اور خان کا سب سے قابل اعتماد جرنیل تھا اور مراد خان اوّل کا استاد بھی تھا
اسی نے سارا بلقان اور ایڈرنہ فتح کیا تھا ۔
ترکی اور یونان کی سرحد پر یونان کے اندر دریائے مارٹیسا کے کنارے ایک چھوٹا سا گاؤں ہے ۔جسے چرنومن Chernomen کہتے ہیں اس کا موجودہ نام Ormenio ہے ۔
26 اگست 1371 ء کو یہاں وہ تاریخ ساز جنگ ہوئی جس میں آٹھ سو ترکوں نے لالہ شاہین پاشا کی قیادت میں ستر ہزار کے لشکر کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ۔
یہ جنگ دنیا کی چند تباہ کن ترین جنگوں (Most disastrous
Battles of the world ) میں شمار ہوتی ہے ۔
480 کلو میٹر لمبا دریائے مارٹیسا بلغاریہ کی ریلا پہاڑیوں
(Rila Mountains)
سے نکلتا ہے اور جنوب کی جانب بلغاریہ کی وادیوں سے بہتا ہوا
پلوفدیف (Plovdiv) شہر کے قریب ترکی میں داخل ہوتا ہے ۔ ترکی کا مشہور سرحدی ، تاریخی شہر اور سابقہ دارلحکومت ایڈرنہ Edirne اس کے کنارے واقع ہے ۔
دریائے مارٹیسا محض ایک دریا نہیں ہے ، بلکہ تاریخ، زراعت، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کا ایک اہم محور ہے۔ یہ بلقان کے اس حصے کی زندگی کا مرکز و منبع ہے، جس کے کنارے پر ہزاروں سال سے تہذیبیں پروان چڑھتی اور زوال پذیر ہوتی رہی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی تاریخی پہچان مرچا کی جنگ ہے، جس نے خطے کی تاریخ کا رخ بدل دیاتھا ۔
دریائے مارٹیسا کو دریائے ایونیو بھی کہتے ہیں ۔ بلغاریہ سے ترکی میں داخل ہونے کے بعد یہ یونان اور ترکی کو تقسیم کرتا بحیرہ ایجئین میں جا گرتا ہے ۔
اسے سربین زبان میں دریائے مرچا کہتے ہیں اس لئے جنگ مارٹیسا کو جنگ مرچا بھی کہا جاتاہے ۔
یہ سلطان مراد اوّل کا دور حکومت تھا ۔
سلطان مراد نے اپنے باپ اور خان غازی کی وصیت کے مطابق 1363 ء میں اپنا دارلسلطنت برصہ سے ایڈرنہ منتقل کر دیا اب عثمانی سلطنت کی سرحدیں سنڑل یورپ تک پھیل چکی تھیں ۔
اور اس وقت کی یورپ کی سب سے بڑی اور طاقتور ریاست سربیین Serbian سلطنت سے جا ملتی تھیں جس کا حکمران ووکاشان Vukašin Mrnjavčević تھا ۔
وہ ترکوں کی اپنی سرحدوں تک وسعت کو اپنے لئے اور اپنی سلطنت کے لئے بڑا خطرہ سمجھتا


