آج کا دن 10 ستمبر 1780ء

کیا آپ کو معلوم ہے کہ جنگوں میں راکٹ توپ خانے کا پہلا باقاعدہ استعمال میسور کی مسلمان افواج نے کیا تھا۔ 10 ستمبر 1780ء میں معرکہ پالیلر (Battle of Pollilur) میں ٹیپو سلطان کے والد حیدر علی کی افواج نے قابض انگریزوں کے خلاف ایسے راکٹ استعمال کیے جو دور جدید کی طرح لوہے کے سانچے میں بند تھے، ان کی رفتار اور رینج بھی انگریزوں کے زیر استعمال بارودی ہتھیاروں سے کہیں زیادہ تھی۔ انہیں میسوری راکٹ ( Masorean Rocket )کہا جاتا ہے

انہی راکٹوں کی بدولت پالیلر میں حیدرعلی کی افواج نے انگریزوں کو ذلت آمیز شکست دی اور معاہدے پر مجبور کیا۔ ہتھیاروں کو جدید تر بنانے کی یہی حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے حیدر علی اور ٹیپو سلطان نے اس وقت انگریزوں کے خلاف فتوحات حاصل کیں جب پورا ہندوستان ان کی عسکری قوت کے سامنے ڈھیر ہو چکا تھا۔

ٹیپو سلطان نے اس میں مزید جدت پیدا کی اور مختلف اشکال اور اقسام کے راکٹ بنائے ان پر کئی طرح کے وار ہیڈ لگائے اس کے تیار کدہ راکٹ میں شارٹ رینج اور لانگ رینج ہر طرح کے میزائیل شامل تھے اسے راکٹ آرٹلری کا موجد Pioneer of Rocket Artillery بھی کہا جاتا ہے

1799 ء کو سرنگا پرٹیم کے قلعہ میں جب اس عظیم حکمران کو میسور کی چوتھی جنگ میں غداری کی وجہ سے انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو جنگ کے بعد ٹیپو سلطان کے اسلحہ خانے سے انگریزوں کو چھ سو لانچر سات سو راکٹ اورراکٹ کے نو ہزار خالی خول ملے جنہیں تحقیق کے لیے انگلستان بھیجا گیا اوربر ٹش گورنمنٹ نے 1801ء میں Royal Woolwich Arsenal کے نام سے ایک ریسرچ سنٹر بنایا جس کا سربراہ ولیم کنگریو تھا ۔ بعد ازاں 1804ء میں انگریزوں نے انہی راکٹوں کی نقول بنائیں جنہیں اپنے خالق سر ولیم کنگریو Sir William Congre کے نام پر کنگریو راکٹ (Congreve rocket) کا نام دیا ا ور اس کارنامے پراسے سر کا خطاب دیا گیا ۔ان راکٹوں کو انگریزوں نے نپولین کے خلاف 1807ء میں استعمال کیا یہی میسورین اور کنگریو راکٹ تھے جو موجودہ راکٹ اور میزائیل ٹکنالوجی کی بنیاد ہیں

سب سے پہلا بارود ( Gun powered ) راکٹ اور گن چائنا کے سونگ بادشاہوں (Song Dynasty) نے 1245ء میں بنایا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ گن پاؤڈر گن پہلی بار 3 ستمبر 1260 ء میں بیبرس نے عین جالوت کی جنگ میں ہلاکو خان کی فوج کے خلاف استعمال کی۔ یہ خاص طور پر منگولوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کی گئی تھی یہ کسی بڑی جنگ میں گن پاؤرڈر کا پہلا باقاعدہ استعمال تھا بیبرس نے یہ ٹیکنالوجی قاہرہ آنے والے چینی تاجروں سے سیکھی اور خریدی تھی۔ چینی اسے آتش بازی اور کھیل تماشوں میں استعمال کرتے تھے ۔ لیکن بیبرس نے اسے میدان جنگ میں استعمال کرنے کا انوکھا فیصلہ کیا جو تاریخ ساز ثابت ہوا ۔

برصغیر پاک و ہند میں گن پاؤڈر گن کا پہلی بار استعمال بابر نے 1526 ء کو پانی پت کی پہلی جنگ میں ابراہیم لودھی کے خلاف کیا۔

جو اس جنگ میں ترپ کا پتہ ثابت ہوا ۔ اور لودھی فوجوں کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا ۔ دھماکوں کی آواز سے لودھی کے ہاتھی اتنے ڈرے کہ اپنی ہی فوج کو کچلتے ہوئے بھاگ گئے ۔

از تحریر

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

Recent Column