داریوش اعظم کا مقبرہ

Tomb of Darius the Great

the Great ( قبل مسیح 520-486) کا مقبرہ ہے۔ جسے دارا اول اور اولڈ پرشین میں دارِ یاوش۔I بھی کہا جاتا ہے۔ جو کہ ہخامنشی سلطنت Achaemenid امپائر کا تیسرا اور سب سے اہم شہنشاہ تھا۔ یہ مقبرہ دارالحکومت پارساد شہر سے ۱۲ کلومیٹر دور واقع تھا۔ اس تاریخی جگہ کو نقش رستم کہتے ہیں۔ یہاں داریوش کے علاوہ چار دیگر ہخامنشی شہنشاہوں کے مقبرے بھی ہیں۔

سکندر اعظم کی ایران پر فتح کے بعد یونانیوں نے ان مقبروں کو لوٹ لیا تھا۔ قبروں میں موجود قیمتی نوادرات اور کچھ باقیات کو بھی برباد کیا گیا۔ان مقبروں میں سے ہر ایک پر تحریریں موجود ہیں۔ جو کہ اولڈ پرشین، ایلامی اور آرامی زبانوں میں ہیں۔ اولڈ پرشین اور ایلامی کے لیے میسوپوٹیمیا کا میخی رسم الخط استعمال ہوا ہے۔ جبکہ آرامی کے لیے ارامی کا اپنا۔ مقبرے پر مفتوحہ علاقوں کے لوگوں کی مورتیاں بھی بنی ہیں جو ہتھیار اٹھائے اپنے روایتی لباس میں کھڑے دکھائے گئے ہیں۔

داریوش کے مقبرے پر جو تحریر کندہ ہے اس پر اس کی فتوحات، سلطنت کے جغرافیے اور اس کی کامیابیوں کا فخریہ تذکرہ موجود ہے۔ نقش رستم کی اس تحریر میں سے کچھ حصے کا ترجمہ نیچے لکھ رہا ہوں؛


”اہورا مزدا ایک عظیم خدا ہے، جس نے اس زمین کو پیدا کیا، جس نے اس آسمان کو، جس نے انسان کو، جس نے انسان کے لیے خوشی کو بنایا، جس نے داریوش کو بادشاہ بنایا، بہت سے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ، بہت سے آقاؤں میں سے ایک آقا۔

میں داریوش ہوں عظیم بادشاہ، بادشاہوں کا بادشاہ، طرح طرح کے انسانوں پر مشتمل ممالک کا بادشاہ، اس عظیم زمین میں دور دور تک میرا راج تھا، ہستاسپ کا بیٹا، ایک ہخامنشی، ایک فارسی، ایک فارسی کا بیٹا، ایک آریائی، آریائی نسل سے۔

بادشاہ داریوش کہتے ہیں: اہورامزدا کے فضل سے فارس کے باہر یہ وہ ممالک ہیں جو میرے تسلط میں تھے؛ میں نے ان پر حکومت کی؛ انہوں نے مجھے خراج دیا؛ انہوں نے میرے کہنے پر عمل کیا؛ انہوں نے میرے قانون کو مضبوطی سے تھامے رکھا؛

مادیا، ایلام، پارتھیا، آریا، باختر، سوگدیا، ہرکانیہ (خوارزم)، زرانکیا ( درانجیانہ)، ہورخوَتی (اراکوسیہ)، تھتہ گاؤش (ستاگیدیا)، گندھارا (گدارا)، سپت سندھو (ہیدوش)، ہوما پینے والے ساکا، نوکیلی ٹوپیوں والے ساکا، بابل، آشور، عرب، مصر، آرمینیا، کپادوشیا، لیدیا، یونانی (یونا)، سمندر پار (ماوراء نہر) کے ساکا، تھریس، پیٹاسوس پہننے والے مقدونی (یونا)، لیبیا، نوبیا، مکا (مکران ) کے لوگ اور کاریاہ کے لوگ۔

اہورامزدا کے فضل سے میں نے انھیں ان کے ملکوں میں رہنے دیا ؛ جو کچھ میں نے ان سے کہا، انہوں نے وہ کیا، میری خواہش کے عین مطابق۔

اگر آپ اب سوچیں کہ”بادشاہ داریوش نے کتنے ممالک کو تھام رکھا ہے؟“ تو تخت کو اٹھانے والوں کی مورتیوں کو دیکھیں، تب آپ کو معلوم ہوگا، تب یہ آپ کو معلوم ہو جائے گا: ایک فارسی آدمی کا نیزہ دور تک چلا گیا ہے؛ تب یہ آپ کو معلوم ہوگا: ایک فارسی آدمی نے فارس سے بہت دور جنگ کی ہے۔

بادشاہ داریوش کہتا ہے : یہ جو کچھ واقع ہوا ہے، وہ سب اہورامزدا کی مرضی سے میں نے کیا۔ اہورامزدا نے میری مدد کی، یہاں تک کہ میں نے شہنشاہت قائم کی، اہورامزدا مجھے نقصان سے بچائے، اور میرے شاہی گھرانے کو، اور اس ملک کو: یہ میں اہورامزدا سے دعا کرتا ہوں، یہ اہورامزدا مجھے اپنے فضل سے عطا کرے۔

اے انسان، جو اہورامزدا کا حکم ہے، اسے آپ اپنے لئے ناگوار نہ سمجھیں؛ صحیح راستے کو نہ چھوڑیں؛ بغاوت میں نہ اٹھیں!“

ڈاکٹر تصور بھٹہ

Recent Blog Items