دو مطیع الرحمان – نام ایک پر قسمت جدا جدا

دو مطیع الرحمان نام ایک پر قسمت جدا جدا

ایک مطیع الرحمن (امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش)2016 میں آج کے دن ڈھاکہ جیل میں پھانسی پا کر آسودہ خاک ہو چکے. جب بھی پاکستان نے ان وار ٹرائلز کے متعلق کچھ کہنے کی کوشش کی بنگلہ دیش نے غرّا کر جواب دیا کہ یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس قسم کی کسی بات کو بنگلہ دیش کے اندرونی معاملات میں مداخلت سمجھا جائے گا.

نام نہاد قومی مفاد تھا یا کچھ اور پاکستان کے مالک دم سادھے ایک طرف کو ہوگئے . حالانکہ جس “جرم” میں یہ مقدمات چلائے جا رہے تھے وہ اس وقت ہوئے جب یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا.

بہرحال، مطیع الرحمن پاکستان سے محبت کی پاداش میں چپ چاپ پیوند خاک ہو گئے.

اب ذکر دوسرے مطیع الرحمن کا.

فلائیٹ لفٹیننٹ مطیع الرحمن … جی ہاں، وہی مطیع الرحمن جو راشد منہاس شہید کے انسٹرکٹر تھے اور دوران تربیت پاکستانی فضائیہ کا جہاز جنگی پلان سمیت بھارت لے جانے کی کوشش کر رہے تھے مگر راشد منہاس کی بروقت مداخلت سے ناکام ہو گئے. تاہم، اس دوران جہاز بے قابو ہو کر زمین سے ٹکرا گیا اور دونوں پائلٹ جہاز کے ساتھ ختم ہوگئے .

فلائیٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمن پاکستان ائیر فورس کے افسر تھے، یہ واقعہ پاکستان میں پیش آیا اور پاکستان کا اندرونی معاملہ تھا.

لیکن بنگلہ دیش نے علی الاعلان مطیع الرحمن کو اپنا ہیرو کہا. انہیں اعلی اعزاز Bir Sreshtho )سے نوازا. یہی نہیں ….مسلسل جدوجہد اور دباؤ سے پاکستان کو اس بات پر مجبور کر دیا کہ پاکستان میں دفن شدہ مطیع الرحمن کی باقیات بنگلہ دیش کے حوالہ کی جائیں. پھر پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ڈھاکہ کے شہدائے آزادی قبرستان میں ان کی تدفین کی گئی. بنگلہ دیش حکومت کو یہ سب کرنے میں 35 سال لگ گئے لیکن انہوں نے 2006 میں یہ کر کے چھوڑا.

دونوں جرم پاکستان کی سر زمین پر ہوئے پاکستان میں پاکستان سے محبت کرنے والا مجرم اور اسی پاکستان میں بنگلہ دیش کا حمایتی، ہیرو.

ایک پاکستان سے محبت کرنے کے جرم میں بڑھاپے میں کئی سال جیل کی صعوبتیں جھیلتا پھانسی پر چڑھ گیا دوسرا پاکستان سے غداری کرکے بھی سب سے اعلی فوجی اعزاز کا حقدار ٹھہرا

بس یونہی خیال آ گیا. نام ایک سا ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ قسمت بھی ایک سی ہو !!!

گلہ بنگلہ دیش سے نہیں انہوں نے وہی کیا جو انہیں کرنا چاہئیے تھا

شکوہ تو اپنوں سے ہے جو اپنے ہیرو کی قدر تو درکنار اسکی پھانسی کے مسئلے کو اپنا اندرونی مسئلہ بھی قرار نہ دے سکے

اور جب بھی موقعہ آیا وہ ان کا نام بھی نہ لےسکے جو ان کے کہنے پر اپنی جان مال خاندان سب کچھ قربان کر گئے

گلہ تو یہ ہے کہ پاکستانیوں نے اس بوڑھے شخص کو کیا دیا جو تہتر سال کی عمر میں پاکستان کے لئے پھانسی پر جھول گیا

از تحریر

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

Recent Blog Items