یروشلم اک فسانہ عجائب – اصل وجہ تنازع کیا ہے؟

mosque

یروشلم اور مسجد اقصٰی تاریخ کے آئینے میں

رلاتا ہے ترا نظارا اے القدس مجھ کو

کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

مسلمان اسے بیت القدس کہتے ہیں ۔

عیسائی إيلياء ۔

اور یہودی یروشلم

کہنے کو تو یہ ایک شہر ہے لیکن کئی صدیوں سے ان تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان وجہ تنازع اور وجہ جنگ بھی ہے۔

آج تک کبھی کسی ایک شہر کے لئے اتنی زیادہ جنگیں نہں لڑی گئیں جتنی اس ایک شہر کے لئے لڑی گئی ہیں۔

دنیا کے ہر بڑے فاتح نے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی یہ شہر دنیا کی ہر بڑی قوم کے زیر تسلط رہا

اپنی چار ہزار سالہ لمبی تاریخ میں

52 مرتبہ اس شہر پر حملہ ہوا

23 مرتبہ اس کا محاصرہ کیا گیا

44 مرتبہ اسے فتح کیا گیا

دو مرتبہ یہ شہر اس طرح تباہ و برباد ہوا

.کہ اس کے دوبارہ آباد ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آتی تھی۔

یروشلم دنیا کے قدیم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور شائد واحد شہر ہے جو اتنالمبا عرصہ گذرنے کے باوجود اپنی پرانی خدوخال کو برقرار رکھے ہوئے ہے جس کی واحد وجہ غالباً وہ احاطہ ہے جسے حرم قدسی کہتے ہیں۔

جہاں مسجد اقصٰی اور ہیکل سلیمانی کے کھنڈرات اور دیوار گریہ واقع ہے اور یہ شہر شروع سے ہی حرم قدسی کے اردگرد آباد ہے۔

دستیاب معلومات کےمطابق اس خطے میں 11 ہزار سال قبل یعنی 9000 قبل مسیح میں بھی لوگ بستے تھے ۔ جن کی زرعی اور دیگرباقیات اور آثار ماہرینِ آثار قدیمہ کوملے ہیں۔

جیریکو شہر دس ہزار سال پرانا ہے ۔جو دنیا کا سب سے پرانا شہر مانا جاتا ہے ۔ یہ شہر بحیرہ مردار کے کنارے آباد ہے۔جیریکو یروشلم سے تقریباً چالیس کلو میٹر دور ہے ۔

چار ہزار ق.م اور تین ہزار ق م کےدرمیان یہاں جزیرۃ العرب (یمن ) سےآئی ہوئی ایک قوم آباد ہوئی جو کنعانی کہلاتے تھے۔

وہ سامی النسل تھے اور عرب مستعربہ میں شمارہوتے ہیں ۔ تب سےاب تک وہ قوم مستقل یہاں آباد رہی ہے ۔

اس لئے اس سر زمین کا قدیم نام کنعان ہی ہے ۔

اس قوم کو فلسطی بھی کہا جاتا تھا ۔ جس کی وجہ سے رومیوں نے اس خطہ زمین کو فلسطین کا نام دیا آٹھ ہزار سال پرانا یروشلم شہر فلسطین میں بحیرہ روم Mediterranean Sea اور بحیرہ مردار Dead Sea کے درمیان جبال الخلیل Judaean Mountains پر واقع ہے۔

پرانی مصری تختیوں میں اسے Erushalim یروشالم کے نام سے لکھا گیا ہے ۔ جس کا مطلب ہے City of شالیم جو قدیم مصریوں کا اندھیرے کا خدا (God of Dust) تھا اسے پیغمبروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے یہاں کم از کم پندرہ پیغمبروں کے مزار ہیں یہ شہر تینوں الہامی اور ابراہیمی مذاہب یہودیوں عیسائیوں اور مسلمانوں کے لئے یکساں طور پر مقدس ترین شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس شہر کی مستند تاریخ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے ۔

یہودیوں کی مقدس کتاب توریت کی پہلی جلد ”کتاب پیدائش Book of Genesis“ کے مطابق اللّٰہ کے حکم پر حضرت ابراہیم علیہ السلام (دو ہزار سال قبل مسیح ) میں ”اُر “ عراق کو چھوڑ کر کنعان کی سرزمین پر آکر آباد ہوگئے۔

نابلس اورالخلیل شہرانہوں نے ہی آباد کئے تھے ۔ الخلیل آج کل ہبیرون کے مضافات میں واقع ہے ۔ الخلیل شہرکی مسجد الخلیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے سارے کنبے کے ساتھ دفن ہیں۔

مسلمانوں کی روایات کے مطابق حضرت آدم نے مکہ میں خانہ کعبہ کے بعد زمین پر اللّٰہ کاجو دوسرا گھر بنایا وہ یروشلم میں تھا ۔

یہودیوں کی کتاب ”Book of Genesis“ کے مطابق جب اللّہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا تو انہیں جبال الخلیل Judaean Mountains کی ایک پہاڑی چوٹی پر موجود ایک بڑی چٹان پر اتارا گیا جس پر بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبح کرنے کی کوشش کی ۔ یہودی اس چٹان کو Mount Moriah (مروہ)کہتے ہیں ۔ ان وجوہات کی وجہ سے یہ چٹان کے لئے انتہائی مقدس ہے ۔ اس چوٹی کو یہودی ٹمپل ماؤنٹ Temple Mount اور مسلمان حرم قدسی ( حرم شریف ) کہتے ہیں۔

یہ وہی جگہ ہے جہاں آج کل مسجد اقصٰی اور قبة صخرا قائم ہیں ۔

اٹھارہ سو قبل مسیح میں حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹےحضرت یعقوب علیہ السلام نے اللّٰہ کے حکم سے ماؤنٹ ٹمپل پر حضرت آدم کی تعمیر کرد مسجد اقصٰی کی تعمیر نو کی تو ماؤنٹ مورایا اس مسجد کا اہم ترین حصہ تھی ۔

اس مسجد کی وجہ سے موجودہ یروشلم شہر آباد ہوا۔

حضرت یعقوب کا لقب اسرائیل تھا۔

جس کا مطلب ہے اللّہ کا بندہ یہودیوں کے بارہ قبیلے حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹوں سے ہی منسوب ہیں اور انہی کی اولاد ہیںان کے ایک بیٹے کا نام یہودہ تھا اور یہیں سے یہودیت کا آغاز ہوتا ہے۔

عبرانی بائیبل کی دوسری جلد” کتاب خروج Book of exudes“ کے مطابق تقریباً اٹھارہ سو سال قبل مسیح میں جب حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں عزیز مصر کے وزیر بنے تو حضرت یعقوب اور ان کی ساری اولاد رفتہ رفتہ مصر منتقل ہو گئی ۔ یہودی مصر میں چار سو سال تک رہے ۔

گزرتے وقت کے ساتھ مصریوں نے یہودیوں کو اپنا غلام بنا لیا اور تقریباً چودہ سو سال قبل مسیح میں حضرت موسیٰ نے انہیں اس غلامی سے نجات دلائی اور چالیس سال تک صحرا میں بھٹکنے کے یہودی بالآخر تیرہ سو سال قبل مسیح میں دریائے اردن پار کرکے دوبارہ سرزمین موعود Promised Land میں داخل ہوئے جس کا وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کیا تھا ۔ اس وقت کنعان پر کافر اور لادین قوم عمالقہ Amalek کی حکومت تھی ۔ عمالقہ الیفاظ Eliphaz کی اولاد سے تھا ۔ الیفاظ حضرت یعقوب کا بھتیجا اور ان کے جڑواں بھائی عیسو Esau کا بیٹا تھا ۔ حضرت یوشع بن نون کی سربراہی میں یہودیوں نے عمالقہ کو شکست دے کر کنعان فتح کر لیا ۔ اس کی ساری تفصیل عبرانی بائیبل کی چھٹی جلد کتاب یوشع Book of Joshua میں موجود ہے ۔ یہودیوں کے بارہ قبیلوں نے کنعان فتح کرنے کے بعد جیریکو اور یروشلم کے درمیان موجود صحرائے یہودہ میں سکونت اختیار کی ۔ یروشلم اس وقت بھی اس علاقے کا اہم ترین شہر تھا ۔ جس کے اردگرد یہ قبیلے آباد تھے ۔ اس دور میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی بنائی مسجد اقصٰی کی صرف چند نشانیاں باقی تھیں جو یروشلم شہر سے باہر اس چوٹی پر موجود تھیں جسے یہودی ماؤنٹ ٹمپل کے نام سے یاد کرتے تھے ۔

تقریباً چار سو سال تک یہودیوں نے اس پر کوئی عبادت گاہ یا عمارت تعمیر نہ کی ۔ ان کی عبادت گاہ خیمۂ اجتماع (عبرانی : مشکان ) تک محدود رہی جسے انگریزی میںTabernacle کہتے ہیں ۔ کپڑے کے بنے اس خیمے میں ہی ان کا تابوت سکینہ رکھا ہوتا تھا ۔ حضرت داؤد یہودہ کی اولاد میں سے تھے ۔

1010قبل مسیح میں انہوں نے یہودیوں کو متحد کر کے پہلی مرتبہ یروشلم میں ایک عظیم الشان سلطنت قائم کی۔

یروشلم اس پہلی متحدہ سلطنت کا دارالسلطنت تھا اس لئے اسے داؤد کا شہر City of David بھی کہتے ہیں ۔ داؤد کے شہر کے کھنڈرات آج بھی مسجد اقصٰی کے جنوب مغرب میں پچھواڑے کی جانب موجود ہیں ۔ جہاں حضرت داؤد علیہ السلام کا محل دریافت کیا جا چکا ہے اور یہودی ماہر آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ وہ خود بھی اس محل کے قریب ہی کہیں دفن ہیں اور بہت جلد ان کی قبر دریافت کر لی جائے گی ۔

حضرت داؤد نے حضرت یعقوب کی تعمیر کردہ مسجد کی جگہ مروہ چٹان کے گرد ایک عالی شان عمارت کی تعمیر شروع کی تاکہ تابوت سکینہ کو مشکان یا خیمے سے اس عمارت میں مروہ چٹان پرچمنتقل کیا جائے ۔حضرت داؤد کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے حضرت سليمان علیہ السلام (961 ق م) نے اس عمارت کو مکمل کیااس لیے یہودی مسجد اقصیٰ کو ہیکل سلیمانی 1st Temple کہتے ہیں۔ جب یہ عبادت گاہ تعمیر ہوگئی ۔ تو تابوت سکینہ کو اس چٹان پر رکھ دیا گیا ۔

ماؤنٹ ٹمپل کا رقبہ حضرت سیلمان کے دور میں تقریباً سترہ ایکڑ تھا ۔ انہوں نے اس شہر کے باہر حفاظتی دیواریں بھی تعمیر کروائیں یروشلم دو بار اجڑا اور برباد ہوا اور پھر تعمیر ہوا ہیکل سلیمانی تقریباً چار سو سال تک قائم رہا ۔

ہیکل سلیمانی اور یروشلم کو 586 ق م میں شاہ بابل (عراق) بخت نصر نے مسمار کر دیا تھا اور ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا۔ بیت المقدس کے اس دور بربادی میں حضرت عزیر علیہ السلام کا وہاں سے گذر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب کا ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر پھر کبھی آباد ہو سکے گا ؟ اس پر اللّٰہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔

بخت نصر کے تقریباً پچاس سال بعد 539 ق م میں شہنشاہ فارس روش کبیر (سائرس اعظم) نے بابل فتح کر کے بنی اسرائیل کو واپس جانے کی اجازت دے دی۔ یہودیوں نے واپس آکر سب سے پہلے ٹمپل ماؤنٹ پر ہیکل سلیمانی کے بچے کچے کھنڈرات پر دوبارہ اپنی عبادت گاہ تعمیر کر لی جسے وہ سیکنڈ ٹمپل ( ہیکل ثانی ) کہتے ہیں اور یروشلم شہر کو دوبارہ آباد کیا اور وقت کے ساتھ ساتھ سکینڈ ٹمپل کی تعمیر نو ہوتی رہی اور یہ شاندار سے شاندار ہوتی گئی ۔

اس وقت یہ علاقہ سلطنت یہودہ Kingdom of Judea کہلاتا تھا اور یہاں حشمونی خاندان Hasmonean dynasty کی حکومت تھی ۔ جن کا دارلحکومت یروشلم تھا ۔ یہ ایک آزاد یہودی ریاست تھی ۔

63 قبل مسیح میں اسے جیولیس سیزر نے فتح کر کے اس رومی سلطنت میں شامل کر لیا ۔ 37 قبل مسیح میں رومی سینیٹ نے ہیرود اعظم Herod the Great کو سلطنت یہودہ کا گورنر بنانے کی منظوری دی ۔ ہیروڈاعظم رومی شہنشاہ جولییس سیزر اور فیلیوس آگستس کا باجگزار اور فلسطین میں رومی سلطنت کا گورنر تھا ۔

مشہور یہودی مورخ Emil Schürer کے مطابق تیس قبل مسیح میں یہودی حکمران ہیرود اعظم Herod the گریٹ ( جسے شہنشاہ ہیرس بھی کہتے ہیں) نے ماؤنٹ ٹمپل کو مزید ہموار کروایا اور اسے بہت وسیع کر کر دیا ۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں ماؤنٹ ٹمپل کا جو رقبہ سترہ ایکٹر کی قریب تھا ہیروڈ اعظم نے اسے اتنا ہموار کروایا کہ اس کا رقبہ تقریباً دوگنا چھتیس ایکڑ ہو گیا۔

ماؤنٹ ٹمپل دراصل ایک بہت بڑا چبوترہ یا پلیٹ فارم ہے جو سطح زمین سے بیس فٹ اونچا ہے اسی چبوترے پر ہیروڈ اعظم نے وہ عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کروائی جسے یہودی ہیروڈ ٹمپل کہتے ہیں یہ ہیروڈ ٹمپل 2nd Temple کی بنیادوں پر تعمیر کیا گیا تھا اسی لئے یہ سکینڈ ٹمپل ہی سمجھا جاتا ہے۔

یہودی تاریخ دان بیکی ماہیو Bieke Mahieu کے مطابق یہ عبادت گاہ پچیس قبل مسیح میں تعمیر ہونا شروع ہوئی اور دس قبل مسیح تک تقریباً پندرہ سال جاری رہی یہ ٹمپل اپنے زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم الشان عمارت تھی ۔ تلمود Babylonian Talmud میں لکھا ہے کہ

”Herod the Great rebuilt the Temple sanctuary and expanded the Temple Mount at its north side around the older Temple courts, and “enclosed an area double the former size.” Formerly, according to the Mishnah (Middot 2:1), the Temple Mount had measured 500 cubits x 500 cubits square, and its expansion was done to accommodate the pilgrims.“

ہیروڈ اعظم کا تعمیر کردہ ہیروڈ ٹمپل تقریباً ساٹھ سال قائم رہا اور مجموعی طور پر یہ دوسری عبادت گاہ تقریباً چار سو سال تک قائم رہی 66ء میں یہودیوں اور رومیوں کے دوران پہلی یہودی رومن جنگ 1st Roman Jewish war کا آغاز ہوا جو 73 ء تک جاری رہی یہ دراصل یہودیوں کی رومی اقتدار کے خلاف پہلی بغاوت تھی۔

رومی جرنیل ٹائٹس نے 70ء میں یہودیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لئے یروشلم اور ہیکل سلیمانی دونوں مسمار کر دیے۔ لیکن کچھ صلح پسند یہودی اس علاقے میں آباد رہے۔

رومی شہنشاہ ایڈرین Hadrian نے 130ء میں تباہ شدہ یروشلم کی جگہ ایک نیا شہر بسایا اور اسے إيلياء کا نام دیا۔ اس نے سلطنت یہودہ کا نام بدل کر فلسطین کر دیا۔

تیسری یہودی رومی جنگ کا آغاز 135ء میں ہوا جسے تیسری یہودی بغاوت Bar Kokhba revolt بھی کہتے ہیں۔

شہنشاہ ہیڈرین نے یہودیوں کی اس بغاوت کو بڑی سختی سے کچل دیا اور بے شمار یہودیوں کو قتل کر دیا اور باقی ماندہ یہودیوں کو جلا وطن کرکے ہمیشہ کے لئے ان کی سرزمیں فلسطین میں داخلے پر پابندی لگا دی جو تقریباً دو ہزار سال تک قائم رہی۔

اسی دور میں رومیوں نے ماؤنٹ ٹمپل پر تباہ شدہ ہیکل ثانی کے کھنڈرات پرچاپنے دیوتا جیوپٹر کے نام پر یہاں ایک ٹمپل تعمیر کروایا ۔ جو جیوپٹر ٹمپل کہلاتا تھا ۔

جب تیسری صدی عیسوی میں رومی شہنشاہوں نے عیسائیت قبول کی تو جیو پٹر ٹمپل گردش دوراں کا نشانہ بن گیا ۔

آج اس سیکنڈ ٹمپل کی صرف ایک یاد گار باقی ہے جو ماؤنٹ ٹمپل کی مغربی بیرونی دیوار ہے یہ دیوار دراصل اس حفاظتی پشتہ یا دیوار Retaining wall کا حصہ ہے جو ہیروڈواعظم نے ماؤنٹ ٹمپل کو وسیع کرنے کے لئے بنوائی تھی یہ دیوار یہودیوں کی مقدس ترین جگہ ہے جسے یہودی دیوار گریہ کہتے ہیں۔

پوری دنیا کے یہودی اس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر روتے ہیں اور اللّٰہ کے حضور گڑگڑاتے ہیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور ماؤنٹ ٹمپل پر ایک بار پھر ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کا عہد کرتے ہیں جسے انہوں نے تھرڈ ٹیمپل کا نام دے رکھا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ جب تک تھرڈ ٹیمپل تعمیر نہیں ہوجاتا اللّٰہ ان کے گناہ معاف نہیں کرے گا اور مسیح موعود (دجال) نہیں آئے گا جس کی آمد کا اللّٰہ نے ان سے وعدہ کیا ہے اور دنیا پر ان کی حکومت قائم نہیں ہوگیمسلمان اسے دیوار براق کہتے ہیں کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں معراج کی رات براق آ کر رکا تھا اسی دیوار کے ساتھ مسجد براق ہے جہاں آپ صلعم نے براق کو باندھا تھا یروشلم کی اس تباہی کے بعد یہودیوں کو دوبارہ یروشلم آنے کی اجازت نہ ملی اور وہ دو ہزار سال تک در بدر پھرتے رہے۔

رومی شہنشاہوں نے عیسائیت قبول کرنے کے بعد ایلیا ء پر خاص توجہ دی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش اور پھر ان کو سولی پر چڑھائے جانے کے واقعات بھی اسی شہر میں ہوئے حضرت مریم علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام کی جائے پیدائش بھی اسی شہر کی ہے۔

یہاں حضرت عمران کا وہ مکان آج بھی موجود ہے جہاں حضرت مریم کی پیدائش ہوئی تھی اور جس میں ان کی ساری زندگی گذری بعض روایات کے مطابق ان کی قبر بھی اسی شہر میں ہے۔

عیسائی حکمرانوں نے بیت المقدس میں گرجے تعمیر کرائے ان گرجوں میں مقدس ترین مقام وہ گرجا ہے جہاں عیسائیوں کی روایات کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا گیا اور وہ وہاں دفن ہیں اسے Church of the Holy Sepulchre کہا جاتا ہے اور یوں یروشلم عیسائیوں کا مقدس ترین شہر بھی قرار پایا لیکن چونکہ ماؤنٹ ٹمپل کی عیسائیوں کے ںزدیک کوئی مذہبی اہمیت نہیں ہے اس لئے انہوں نے رومیوں کے قائم کردہ جیوپٹر ٹمپل کو نہ صرف تباہ وبرباد کر دیا بلکہ اس چبوترے پر کوئی نئی عمارت تعمیر نہ کی ۔ انہوں نے سکینڈ ٹمپل کے زیر زمین کھنڈرات کی مرمت کروا کر انہیں پانی کے سٹوریج ٹینکس میں بدل دیا جہاں بارش کا پانی جمع کیا جاتا تھا اور سارے شہر کو پینے کا پانی یہیں سے مہیا کیا جاتا تھا۔

وقت گذرنے کے ساتھ کچھ یہودی اپنی دولت اور اثرورسوخ کی بناء پر دوبارہ فلسطین میں آباد ہوگئے اور مناسب وقت کا انتظار کرنے لگے 612ء میں دنیا کی دونوں سپر پاورز ایران اور روم کے درمیان جنگ چھڑی اس وقت ایران پر خسرو پرویز اور روم پر ہرکولیس کی حکومت تھی۔

613 ء میں خسروپرویز کے سپہ سالار شہرہروز نے قیصر روم ہرکولیس کی افواج کو انٹیق Antioch (انطاکیہ ) ترکی کے میدان میں فیصلہ کن شکست دے کر قیصر روم کی کمر توڑ دی اور رومیوں کے سارے مشرقی علاقوں پر قبضہ کرلیا۔

614ء میں ایرانی فوجوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا جس میں عیسائی تاریخ دانوں کے مطابق نوے ہزار عیسائی قتل ہوئے اور شہر کو آگ لگا جلا دیا گیا۔

اس جنگ میں یہودیوں نے اس امید پر کہ خسرو پرویز کا ساتھ دیا کہ وہ انہیں یروشلم کی حکمرانی سونپ دے گا انہوں نے ایرانیوں کی ہر طرح سے مالی اور فوجی امداد کی اور عیسائیوں کے قتل عام میں اپنا کردار ادا کیا یروشلم پر قبضے کے بعد خسرو پرویز نے یہودیوں کے لیڈر نمیع بن ہرشل کو کچھ عرصے کے لئے یروشلم کا حاکم بھی بنایا یہودیوں نے واپس آکر سب سے پہلا کا م یہ کیا کہ ٹمپل ماؤنٹ پر اپنی چھوٹی سی عبادت گاہ کنیسا دوبارہ تعمیر کر لی۔

اب یہودی خسروپرویز سے وہاں تھرڈ ٹمپل 3rd Temple بنانے کا مطالبہ کرنے لگے لیکن خسرو پرویز کی حکمت عملی جلد ہی بدل گئی اور اس کی حمایت کا پلڑا فلسطین کے عیسائیوں کی جانب جھک گیا جو فلسطین میں اکثریت میں تھے کیونکہ اس علاقے پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے ایرانیوں کے لئے سیاسی طور پر یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ چند ہزار یہودیوں کی بجائے عیسائیوں کا ساتھ دیتے چنانچہ جیسے ہی عیسائیوں کو خسرو پرویز کی حمایت میسر آئی انہوں نے 617ء کو یروشلم میں موجود یہودیوں کا قتل عام کیااور باقی ماندہ یہودیوں کو یروشلم اور فلسطین سے جلا وطن کر دیا گیا نمیع بن ہرشل اور اس کی بارہ رکنی مشاورتی کمیٹی کو بھی یروشلم کی فصیل سے گرا کر ہلاک کر دیا اور ان کی عبادت گاہ کو بھی ملیا میٹ کر دیا۔

ہجرت سے دو سال پہلے اور نبوت ملنے کے دس سال بعد غالباً 621ء میں نبی کریم ﷺ واقعہ الاسراء کے موقع پر براق پر سوار ہو کر مکہ سے بیت المقدس پہنچے، اور پھر وہاں سے معراج پر تشریف لے گئے تو اس وقت یروشلم پر ایرانیوں کی حکومت تھی اور ماؤنٹ ٹمپل پر کوئی عمارت یا عبادت گاہ نہیں تھی بلکہ اس وقت وہ ایک چٹیل میدان یا بہت بڑا چبوترہ تھا جس کے عین درمیان میں وہ چٹان ( ماؤنٹ مورائع Mount Moria) تھی جس پر کبھی تابوت سکینہ رکھا ہوتا تھا اور سکینڈ ٹمپل کی کچھ باقیات موجود تھیں ۔ جو کھنڈرات کی شکل میں تھیں ۔

ماؤنٹ ٹمپل پر تمام انبیاء اکرام نے آپ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی یہ تو تاریخ کی سب کتابوں میں ثابت ہے اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے لیکن کہاں ادا کی اور کیا اس وقت وہاں پر کوئی عبادت گاہ موجود تھی اس پر اختلاف ہے لیکن تاریخی اعتبار سے یہی ثابت ہے کہ وہاں صرف سکینڈ ٹمپل کی باقیات تھیں معراج کی رات اسی چٹان پر چڑھ کر براق نے آسمان کی طرف جسے بھری تھی اس لئے مسلمان اس چٹان کو صخرہ معراج کے نام سے یاد کرنے لگے ۔

روایت ہے کہ جب براق نے آسمان کی طرف اڑان بھری تو اس چٹان نے بھی اس کے ساتھ اوپر جانےکی کوشش کی جس پر آپ ﷺ نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور یوں یہ چٹان ہوامیں معلق ہوگئی اور اس چٹان اور زمین کے درمیان ایک خلا پیدا ہوگیا ۔جو آج بھی ایک کمرے کی صورت میں موجود ہے اور یہاں ایک چھوٹی سے مسجد قائم کی گئی ہے ۔ جس میں زائیرین نفل نماز ادا کرتے ہیں ۔

گو کہ یہودی اس چٹان کو اس ماؤنٹ مورائع Mount Moria کہتے ہیں ۔ عربی میں اس کا نام ” مروا“ ہے۔

کیونکہ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہ جگہ ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربان کرنے کی کوشش کی تھی۔

لیکن تاریخی اعتبار سے یہ بات درست نہیں کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رہائش الخلیل نامی قصبے میں تھی جو ماؤنٹ ٹمپل سے تقریباً چالیس کلو میٹر دور ہے اور عیسائیوں کی روایات کے مطابق وہ جگہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا وہ جَبَل جَرِزِيم Mount Gerizim ہے جو نابلس ویسٹ بنک میں ہے اور یہی السامريون توریت کی بھی روائیت ہے۔

السامريون توریت Samaritan Torah سب سے قدیم ترین توریت ہے جو ساماترین زبان میں لکھی گئی ہے ۔ یہ چٹان یہودیوں کے لئے اس لحاظ سے بھی مقدس ہے کہ یہودی روایات کے مطابق سکینڈ ٹمپل میں یہ چٹان ٹمپل کے عین درمیان واقع تھی اور اس پر تابوت سکینہ رکھا گیا تھا۔

تابوت سکینہ ایک صندوق تھا جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی توریت جو دس پتھر کی تختیوں ، من و سلوٰی کی کچھ باقیات اور نمونے ، حضرت داؤد علیہ السلام کی تلوار ، ان کا اکتارہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا حضرت ہارون کا عصا اور چند ذاتی استعمال کی متبرکات رکھی گئی تھیں۔

اس لئے وہ اس چٹان کو Holly of the Holiest کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے نزدیک ” مروا “ مکہ میں واقع ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کی کوشش کی تھی۔

جب آپ ﷺ معراج سے واپس آئے تو مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبلہ قرار پائی 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی 17 ماہ تک مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔

638ء ( بعض روایات 637 ء ) میں حضرت عمر رضی تعالی عنہ کے دور میں مسلمانوں نے پہلی بار یروشلم فتح کیا اور عیسائیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے عقد عمر یا Pact of Omer کہتے ہیں اس معاہدے کی رو سے یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے سے منع کر دیا گیا۔

اور اس کی خواہش خود شہر کے عیسائیوں نے کی تھی کہ وہ یہودیوں کے ساتھ یہاں نہیں رہنا چاہتے معاہدے میں اس شہر کا نام ایلیا ء درج ہے حضرت عمررضی تعالی عنہ نے نے ایلیا ء کا نام بدل کر بیت القدس رکھ دیا۔

انہوں نے ماؤنٹ ٹمپل پر صخرہ معراج کے نیچے کی جانب اس جگہ دو رکعت نماز شکر ادا کی جہاں ان کے خیال حضور اکرم نے انبیاء کی امامت کروائی تھی اور یہاں ایک مسجد تعمیر کروائی یہ مسجد عمر تھی ۔ مقامی لوگ اسے قِبلی مسجد کے نام سے یاد کرتے ہیں زیادہ تر مسلمان اسے ہی مسجد اقصٰی سمجھتے ہیں۔

یہودی روایات کے مطابق اس جگہ کبھی بھی کوئی عبادت گاہ نہیں رہی بلکہ تلمود کے مطابق یہ ہیروڈین ٹمپل کا بیرونی علاقہ تھا جہاں ٹمپل کے سب سے بڑے پیشوا کی رہائش گاہ ہوا کرتی تھی ۔

خلیفہ مروان بن الحکم اور عبد الملک بن مروان کے عہد میں اس مسجد کی تعمیر نو عمل میں آئی ایک زلزلے میں جب یہ مسجد تباہ ہوگئی توعباسی دور میں اس کے ملبے پر ایک نئی مسجد تعمیر کی گئی ۔ بعد میں فاطمیوں نے اموی دور کی بنائی مسجد کی مرمت کروا کر اسے بھی مسجد کے طور پر کھول دیا جو اب نئی مسجد کے زیر زمین واقع تھی اور اس زیر زمین مسجد کو مسجد مروان یا پرانی مسجد اقصٰی کہا جاتا ہے۔

خلیفہ مروان بن الحکم نے صخرہ معراج کے اوپر ایک بہت شاندار اور انتہائی خوبصورت عمارت تعمیر کروانی شروع کی جس کی تعمیر اس کے پوتے ولید بن عبدالملک کے دور میں مکمل ہوئی اس عمارت کو قبۃ الصخرہ Dome of the Rock- کہتے ہیں اور آج ڈیڑھ ہزار سال گذرنے کے بعد بھی دینا کی خوبصورت ترین عمارتوں میں اس کا شمار ہوتا ہے قبتہ الصخرا وہ سنہرے گنبد والی عمارت ہے جو حرم قدسی میں بہت نمایاں نظر آتی ۔ چار سو سال تک بیت المقدس مسلمانوں کے زیر نگیں رہا 1099 ء میں پہلی صلیبی جنگ کے بعد اس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا جو اگلے اٹھاسی سال تک قائم رہا۔

عیسائیوں کے نزدیک ٹمپل ماؤنٹ اور اس سے ملحقہ جگہ کی کوئی مذہبی اہمیت نہیں تھی لہذاٰ انہوں نے مسجد اقصٰی کو ٹمپلرز کے گرینڈ ماسٹر کے محل میں بدل دیا اور اس کی زیر زمین پرانی مسجد اقصٰی میں گھوڑوں کا اصطبل اور گھوڑوں کی افزائش نسل کے لئے مرکز قائم کر دیا ۔

1187 ء میں دو اکتوبر کے دن صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کر کے اس مقدس شہر پر مسیحیوں کے 88 سالہ اقتدار کا خاتمہ کیا۔

درحقیقت بیت المقدس کی فتح تو اسی وقت یقینی ہوگئی تھی جب صلاح الدین نے جولائی 1187ء میں جنگِ حطین میں صلیبی لشکر کو بدترین شکست دی تھی۔ اس کے بعد فلسطین میں پے در پے مزید فتوحات کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور عکہ، نابلوس، یافا، صیدون، بیروت اور عسقلان کی فتح کے بعد مسلم لشکر بیت المقدس کے دروازے پر پہنچا۔

ابتداء میں ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد 13 روز تک صلیبی لشکر نے مسلمانوں کے خلاف مزاحمت کی اور بالآخر بیلین آف ابیلن نے 2 اکتوبر کو ہتھیار ڈال کر شہر مسلمانوں کے حوالے کردیا۔

جہاں 1099ء میں قبضے کے وقت صلیبی لشکروں نے مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہا دیں تھیں ، یروشلم کی گلیاں خون سے بھر گئیں ستر ہزار مسلمانوں کو قتل کیا اسی شہر نے یہ منظر دیکھا کہ سلطان نے فدیہ لے کر تمام گرفتار شدگان کی رہائی کا حکم دیا اور جو غریب فدیہ دینے کے قابل نہ تھے ان کا فدیہ خود ادا کرکے انہیں رہا کردیا۔

یروشلم کے ہر شہری کو اختیار دیا کہ اگر وہ یروشلم میں نہ رہنا چاہے تو جہاں جانا چاہے چلا جائےاور جو جی چاہے ساتھ لے جائے فتح کے بعد مسجد عمر کو عرق گلاب سے دھلوا کر اس کی مسجد کی حیثیت بحال کی اور مسجد اقصٰی کی تزئین وآرائش کی اور پھر اگلے 761 سالوں تک یہ مقدس شہر مسلمانوں کے پاس ہی رہا، سوائے درمیان میں چند سالوں کے، چھٹی صلیبی جنگ کے بعد رومی فرمانروا فریڈرک دوئم اور صلاح الدین کے بھتیجے اور ایوبی سلطنت کے چوتھے سلطان الکامل کے درمیان امن معاہدہ ہوا اور پندرہ سال (1244-1229)کے لئے القدس کے بعض حصوں پر عیسائیوں کا قبضہ رہا 1244ء میں مملوکوں فلسطین کو فتح کر کے یروشلم پر دوبارہ مکمل تسلط حاصل کر لیا۔

سلطان سیلم اوّل نے 1517 ء میں مملوک مصر کو شکست دی تو سارا مشرق وسطی ترکوں کے قبضے میں چلا گیا جس میں حجاز مکہ مدینہ ، بیت المقدس ،عراق اور شام بھی شامل تھے۔

پھر تقریباً چار سو سال تک بیت المقدس سلطنت عثمانیہ کے زیر انتظام رہا سلطان سلیمان عالی شان پرانے شہر کے گرد فصیل بنوائی جو آج بھی انتہائی شاندار حالت میں موجود ہے اس فصیل میں آٹھ دروازے ہیں پہلی جنگ عظیم میں ترکی ہار گیا متحدہ افواج جیت گئیں سلطنت عثمانیہ کی بندر بانٹ ہوئی دسمبر 1917ء کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہاں یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔

ساری دنیا سے یہودی فلسطین میں آباد ہونا شروع ہوئے بہت بڑے پیمانے پر عربوں کی زمینیں اونے پونے داموں خریدی گئیں یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا۔

اقوام متحدہ نے بھی یروشلم پر فلسطینیوں کا حق تسلیم کیا اور یوں یروشلم عربوں کے قبضے میں ہی رہا ۔ 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا۔

2 نومبر 1948ء برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی قوتوں کی سازش کے نتیجے میں سرزمینِ فلسطین پر یہودی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں آیا یروشلم اس وقت اردن کے زیر انتظام تھا۔

1948ء کو پہلی اسرائیلی عرب جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی اور اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کیا اور پھر 1967 ء میں دوسری عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر بھی ان کا تسلط قائم ہو گیا ۔ حرم قدسی اور مسجد اقصٰی مشرقی یروشلم میں واقع ہیں – لیکن ان کا انتظام تو اردن کے ہاتھ میں رہا مگر کنٹرول یہودیوں کے قبضے میں چلا گیا اور یہی صورت حال آج تک قائم ہے ۔

مسجد اقصٰی میں داخلے کے وقت آپ کو دو طرح کی سکیورٹی سے واسطہ پڑتاہے ۔ پہلے یہودی سپاہیوں ناکہ بندی سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر اگلے مرحلے پر مسجد اقصٰی کے فلسطینی سکیورٹی اہل کاروں سے مڈبھیڑ ہوتی ہے جو اردن کے زیرانتظام ہیں لیکن کی بے بسی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے سامنے محض لٹھ پتلی ہی ہوتے ہیں ۔

اس مسجد اور احاطہ کا دیگر عملہ بھی اردن کے ہی زیر انتظام ہے ۔

یہودی یروشلم کو اسرائیل کا دارالسطنت بنانا چاہتے ہیں اسرائیل کی ساری اہم تنظیمی عمارات اور وزارتیں بشمول وزیر اعظم اور صدر کی رہائش کے یروشلم میں ہیں۔

صدر ٹرمپ نے 2018 ء میں ان کا یہ دعویٰ تسلیم کرتے ہوئے امریکن ایمبیسی یروشلم میں منتقل کرنے کا اعلان کیا جسے دیکھتے ہوئے چند اور ممالک نے بھی اپنے کو نسلیٹ یروشلم منتقل کر دئیے لیکن اکثر ممالک نے اسرائیل کے اس دعویٰ کی مخالفت کی یروشلم آج بھی ان الہامی مذاہب کے درمیان وجہ تنازع ہے اور جانے کب تک رہے گا۔

یروشلم کو ابتداء سے ہی اقوام عالم کی سیاست میں مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور شائد رہتی دنیا تک اس کی یہ اہمیت برقرار رہے گی۔

اس شہر کی یہ تاریخ محض ایک شہر کی تاریخ نہیں ہے یہ قوموں کے عروج و زوال کی داستان بھی ہے یہ شہر یہ فسانہ عجائب یروشالم سے یروشلم بنا پھر ایلیا ء بنا چھ سو سال تک ایلیاء رہا ایلیاء سے القدس بنا ساڑھے چارسو سال تک القدس رہا نوے سال کے لئے ایک بار پھر ایلیا ء بنا اس کے بعد اگلے ساڑھے سات سو سال کے لئے پھر القدس ہوگیا اب ایک بار پھر یروشلم بن گیاہے اور کب تک یروشلم رہے گا کب دوبارہ بیت المقدس بنے گا ۔ یہ میرا اللّہ بہتر جانتا ہے جو خیرالماکرین ہے ۔

علامہ اقبال کی روح سے معذرت کے ساتھ

؀ ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے

سراپا درد ہوں، حسرت بھری ہے داستاں میری

رلاتا ہے ترا نظارا اے القدس مجھ کو

کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

اٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے

داستاں میری

(یہ مضمون میری آنے والی کتاب ” اہل وفا کی بستی“ کا حصہ ہے )

از تحریر

ڈاکٹر تصوراسلم بھٹہ

Recent Blog Items